<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 14:18:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 14 Jun 2026 14:18:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیب نے ملک ریاض کے خلاف گالف سٹی ریفرنس دائر کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1253365/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کے خلاف احتساب عدالت میں نیو مری پراجیکٹ گالف سٹی ریفرنس دائر کردیا گیا جس میں ان پر ساڑھے 4 ہزار کنال سرکاری اراضی پر قبضے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ملک ریاض کے خلاف نیو مری پراجیکٹ گالف سٹی کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت نمبر 1 راولپنڈی میں دائر کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب ذرائع کے مطابق ریفرنس میں ملک ریاض کے خلاف ساڑھے 4 ہزار کنال سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے اسے گالف سٹی میں شامل کرنے کے الزامات کے شواہد پیش کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب ذرائع نے بتایا کہ ساڑھے 4 ہزار کنال  اراضی میں محکمہ جنگلات کی اراضی اور موضع  مانگاہ، موضع  سالکھیتر اور دیگر ملحقہ دیہی موضعات  شاملات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252043"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک ریاض نے محکمہ مال اور محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری زمین اور شاملات پر مشتمل دہی رقبے بحریہ ٹاؤن کے رہائش منصوبے مری گولف سٹی میں شامل کر لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپشن بد عنوانیوں فراڈ کے اس ریفرنس میں  مبینہ طور پر محکمہ مال کے  28 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ نیب نے تحقیقات کے بعد اج احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، نیب کراچی نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور علی ریاض سمیت 33 ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحریہ ٹاؤن کے خلاف سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضے کے الزام پر نیب ریفرنس دائر کیا گیا ہے، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے سپریم کورٹ میں کرائی جانے والی یقین دہانی کی بھی خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنس کے مطابق سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب روپے جمع کرانے اور سندھ حکومت کو زمین کا نیا سروے کرانے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 21 جنوری 2025 کو نیب نے کہا تھا کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں، عوام بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، حکومت قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کے خلاف احتساب عدالت میں نیو مری پراجیکٹ گالف سٹی ریفرنس دائر کردیا گیا جس میں ان پر ساڑھے 4 ہزار کنال سرکاری اراضی پر قبضے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ملک ریاض کے خلاف نیو مری پراجیکٹ گالف سٹی کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت نمبر 1 راولپنڈی میں دائر کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>نیب ذرائع کے مطابق ریفرنس میں ملک ریاض کے خلاف ساڑھے 4 ہزار کنال سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے اسے گالف سٹی میں شامل کرنے کے الزامات کے شواہد پیش کیے گئے۔</p>
<p>نیب ذرائع نے بتایا کہ ساڑھے 4 ہزار کنال  اراضی میں محکمہ جنگلات کی اراضی اور موضع  مانگاہ، موضع  سالکھیتر اور دیگر ملحقہ دیہی موضعات  شاملات شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252043"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ملک ریاض نے محکمہ مال اور محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری زمین اور شاملات پر مشتمل دہی رقبے بحریہ ٹاؤن کے رہائش منصوبے مری گولف سٹی میں شامل کر لیے۔</p>
<p>کرپشن بد عنوانیوں فراڈ کے اس ریفرنس میں  مبینہ طور پر محکمہ مال کے  28 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ نیب نے تحقیقات کے بعد اج احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل، نیب کراچی نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور علی ریاض سمیت 33 ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا۔</p>
<p>بحریہ ٹاؤن کے خلاف سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضے کے الزام پر نیب ریفرنس دائر کیا گیا ہے، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے سپریم کورٹ میں کرائی جانے والی یقین دہانی کی بھی خلاف ورزی کی۔</p>
<p>ریفرنس کے مطابق سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب روپے جمع کرانے اور سندھ حکومت کو زمین کا نیا سروے کرانے کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 21 جنوری 2025 کو نیب نے کہا تھا کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں، عوام بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، حکومت قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1253365</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Feb 2025 20:53:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/18204921b4d29cd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/18204921b4d29cd.jpg"/>
        <media:title>ملک ریاض — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
