<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:21:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:21:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حیدرآباد: شاعر آکاش انصاری قتل کیس، ملزم لے پالک بیٹے کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1253386/</link>
      <description>&lt;p&gt;حیدرآباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سندھی شاعر آکاش انصاری قتل کیس کے مرکزی ملزم کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھٹائی نگر تھانے کے ایس ایچ او کے مطابق پولیس کی درخواست پر ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا، مرحوم ڈاکٹر آکاش انصاری کے لے پالک بیٹے شاہ لطیف کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرحوم شاعر محمد انصاری کے رشتہ دار کی شکایت پر فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302، اور دفعہ 201 کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997  کی دفعہ 7 کے تحت لے پالک بیٹے ابراہیم جان ولد یار کے خلاف درج کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 15 فروری کو سندھی زبان کے مزاحمتی شاعر، لکھاری، سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر آکاش انصاری گھر میں لگی آگ میں جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253283"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر رپورٹ کیا گیا تھا کہ حیدرآباد کی سوسائٹی ہیپی ہوم میں ڈاکٹر آکاش انصاری کے گھر میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی، جس میں شاعر اور ان کے بیٹے شدید زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 فروری کو سندھ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گھر میں آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والے سندھی زبان کے شاعر و لکھاری آکاش انصاری کو ان کے لے پالک بیٹے نے قتل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاعر کے گھر میں آگ لگنے اور اس میں جھلس کر ان کے جاں بحق ہونے پر سندھ بھر کے شاعروں اور ادیبوں نے اظہار تشویش کرتے ہوئے ان کے لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جب کہ پولیس کو تفتیش کا دائرہ بڑھانے کی درخواست بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگریزی اخبار ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://tribune.com.pk/story/2529140/adopted-son-confesses-to-murdering-renowned-sindhi-poet-akash-ansari"&gt;&lt;strong&gt;ایکسپریس ٹربیون&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;‘ نے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) حیدرآباد فرخ لنجار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ قاتل نے آکاش انصاری کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق آکاش انصاری کے لے پالک بیٹے کو تحویل میں لے کر تفتیش کی گئی تھی، جس دوران انہوں نے شاعر کو قتل کرنے اور بعد ازاں واقعے کو سانحہ قرار دینے کے لیے ان کی لاش کو جلانے کا اعتراف کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا تھا کہ آکاش انصاری کے بیٹے نشے کے عادی ہیں اور قتل کے وقت بھی انہوں نے نشے کی لت میں آکاش انصاری کو قتل کرکے ان کی لاش کو آگ لگائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253121"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ ڈاکٹر آکاش انصاری دسمبر 1956 میں ضلع بدین کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام اللہ بخش تھا، تاہم انہوں نے شاعرانہ نام آکاش رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش انصاری کی شاعری کی دو کتابوں ’ادھورا ادھورا‘ اور ’کیسے رہوں جلا وطن‘ کا شمار سندھی ادب کی مشہور کتابوں میں ہوتا ہے، ان کے تراجم انگریزی سمیت دوسری زبانوں میں بھی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش انصاری کو مزاحمتی شاعری لکھنے پر شہرت حاصل رہی، انہوں نے ضیا الحق کے دور میں بھی مزاحمتی شاعری لکھی جب کہ وہ ہمیشہ وقت کے حکمرانوں کے خلاف مزاحمتی شاعری کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش انصاری نے مزاحمتی شاعری میں عدالتی اور نظام انصاف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ ان کے رومانوی گانے بھی متعدد فنکاروں نے گائے اور ان کے گانے ہر دور میں پسند کیے گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حیدرآباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سندھی شاعر آکاش انصاری قتل کیس کے مرکزی ملزم کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔</p>
<p>بھٹائی نگر تھانے کے ایس ایچ او کے مطابق پولیس کی درخواست پر ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا، مرحوم ڈاکٹر آکاش انصاری کے لے پالک بیٹے شاہ لطیف کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
<p>مرحوم شاعر محمد انصاری کے رشتہ دار کی شکایت پر فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302، اور دفعہ 201 کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997  کی دفعہ 7 کے تحت لے پالک بیٹے ابراہیم جان ولد یار کے خلاف درج کی گئی۔</p>
<p>واضح رہے کہ 15 فروری کو سندھی زبان کے مزاحمتی شاعر، لکھاری، سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر آکاش انصاری گھر میں لگی آگ میں جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253283"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ابتدائی طور پر رپورٹ کیا گیا تھا کہ حیدرآباد کی سوسائٹی ہیپی ہوم میں ڈاکٹر آکاش انصاری کے گھر میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی، جس میں شاعر اور ان کے بیٹے شدید زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>17 فروری کو سندھ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گھر میں آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والے سندھی زبان کے شاعر و لکھاری آکاش انصاری کو ان کے لے پالک بیٹے نے قتل کیا تھا۔</p>
<p>شاعر کے گھر میں آگ لگنے اور اس میں جھلس کر ان کے جاں بحق ہونے پر سندھ بھر کے شاعروں اور ادیبوں نے اظہار تشویش کرتے ہوئے ان کے لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جب کہ پولیس کو تفتیش کا دائرہ بڑھانے کی درخواست بھی کی تھی۔</p>
<p>انگریزی اخبار ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://tribune.com.pk/story/2529140/adopted-son-confesses-to-murdering-renowned-sindhi-poet-akash-ansari"><strong>ایکسپریس ٹربیون</strong></a>‘ نے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) حیدرآباد فرخ لنجار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ قاتل نے آکاش انصاری کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق آکاش انصاری کے لے پالک بیٹے کو تحویل میں لے کر تفتیش کی گئی تھی، جس دوران انہوں نے شاعر کو قتل کرنے اور بعد ازاں واقعے کو سانحہ قرار دینے کے لیے ان کی لاش کو جلانے کا اعتراف کرلیا تھا۔</p>
<p>پولیس نے بتایا تھا کہ آکاش انصاری کے بیٹے نشے کے عادی ہیں اور قتل کے وقت بھی انہوں نے نشے کی لت میں آکاش انصاری کو قتل کرکے ان کی لاش کو آگ لگائی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253121"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ ڈاکٹر آکاش انصاری دسمبر 1956 میں ضلع بدین کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام اللہ بخش تھا، تاہم انہوں نے شاعرانہ نام آکاش رکھا۔</p>
<p>ڈاکٹر آکاش انصاری کی شاعری کی دو کتابوں ’ادھورا ادھورا‘ اور ’کیسے رہوں جلا وطن‘ کا شمار سندھی ادب کی مشہور کتابوں میں ہوتا ہے، ان کے تراجم انگریزی سمیت دوسری زبانوں میں بھی ہوئے۔</p>
<p>ڈاکٹر آکاش انصاری کو مزاحمتی شاعری لکھنے پر شہرت حاصل رہی، انہوں نے ضیا الحق کے دور میں بھی مزاحمتی شاعری لکھی جب کہ وہ ہمیشہ وقت کے حکمرانوں کے خلاف مزاحمتی شاعری کرتے رہے۔</p>
<p>ڈاکٹر آکاش انصاری نے مزاحمتی شاعری میں عدالتی اور نظام انصاف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ ان کے رومانوی گانے بھی متعدد فنکاروں نے گائے اور ان کے گانے ہر دور میں پسند کیے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1253386</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Feb 2025 23:57:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد حسین خانویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/182352589581409.jpg?r=235301" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/182352589581409.jpg?r=235301"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
