<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 17:43:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 17:43:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے سی ای او کی منظوری کے بغیر 2 سال تک تعیناتی کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1253448/</link>
      <description>&lt;p&gt;پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزیراعظم کی منظوری کے بغیر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او کے سروس جاری رکھنے اور انہیں  90 لاکھ روپے کی ادائیگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزارت صنعت و پیداوار کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیراعظم کی منظوری کے بغیر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او کو 90 لاکھ روپے کی ادائیگی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ کمیٹی ممبران نے بغیر منظوری کے سروس جاری رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے رکن امین الحق نے سوال اٹھایا کہ ایک شخص نے 2 سال تک بغیر منظوری کے ملازمت کیسے جاری رکھی؟ اراکین نے چیئرمین پی اے سی سے سخت ایکشن لینے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکرٹری صنعت و پیداوار نے وضاحت دی کہ سی ای او کی تعیناتی کا عمل جاری تھا، لیکن مناسب امیدوار نہیں مل سکا، اس پر چیئرمین پی اے سی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیا مذاق ہے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ بندہ بڑا قابل تھا؟‘، نوید قمر نے کہا کہ ’یہ حکومت کے نظام میں ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثنااللہ مستی خیل نے سخت الفاظ میں تبصرہ کیا کہ ’اس سے زیادہ تو جنگل کا قانون بہتر ہوتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252879"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کے آڈٹ پیراز میں پاکستان اسٹیل ملز کی زمین کی لیز کے معاملے پر بحث ہوئی، آڈٹ حکام نے بتایا کہ 2 ارب سے زائد کی ریکوری نہیں کی جا سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی اے سی نے وزارت صنعت و پیداوار کو معاملہ 25 دن میں حل کرنے کی ہدایت کی اور خبردار کیا کہ حل نہ ہونے پر کیس ایف آئی اے کو بھیج دیا جائے گا، پاکستان اسٹیل ملز 75 کروڑ کی زمین کے تحفظ میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی اے سی نے سوال اٹھایا کہ ’کیا نیب کو یہ معاملہ نظر نہیں آیا؟‘، لیکن نیب حکام تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ حکام نے بتایا کہ بریگیڈیئر (ر) سعید اللہ خان، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سہیل ملک، شہزاد علی اور منظور حسین کو زمینیں لیز پر دی گئیں، چیئرمین پی اے سی نے نیب سے دو ماہ میں معاملے کی رپورٹ طلب کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اسٹیل مل کی 11 ایکڑ زمین پر قبضے کا معاملہ بھی سامنے آیا، سیکرٹری انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن نے بتایا کہ 2 ایکڑ زمین واگزار کرالی گئی ہے اور معاملہ ایس آئی ایف سی کے ساتھ اٹھایا گیا ہے، تاہم، شازیہ مری نے اعتراض کیا کہ “ایس آئی ایف سی ایک ایجنسی ہے، وہ زمین سے متعلق ہدایات نہیں دے سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکرٹری انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن نے 2 ماہ میں زمین واگزار کرانے کی یقین دہانی کرائی جبکہ چیئرمین پی اے سی نے معاملہ نیب کے سپرد کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزیراعظم کی منظوری کے بغیر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او کے سروس جاری رکھنے اور انہیں  90 لاکھ روپے کی ادائیگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزارت صنعت و پیداوار کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں وزیراعظم کی منظوری کے بغیر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او کو 90 لاکھ روپے کی ادائیگی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ کمیٹی ممبران نے بغیر منظوری کے سروس جاری رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔</p>
<p>کمیٹی کے رکن امین الحق نے سوال اٹھایا کہ ایک شخص نے 2 سال تک بغیر منظوری کے ملازمت کیسے جاری رکھی؟ اراکین نے چیئرمین پی اے سی سے سخت ایکشن لینے پر زور دیا۔</p>
<p>سیکرٹری صنعت و پیداوار نے وضاحت دی کہ سی ای او کی تعیناتی کا عمل جاری تھا، لیکن مناسب امیدوار نہیں مل سکا، اس پر چیئرمین پی اے سی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیا مذاق ہے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ بندہ بڑا قابل تھا؟‘، نوید قمر نے کہا کہ ’یہ حکومت کے نظام میں ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے‘۔</p>
<p>ثنااللہ مستی خیل نے سخت الفاظ میں تبصرہ کیا کہ ’اس سے زیادہ تو جنگل کا قانون بہتر ہوتا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252879"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کے آڈٹ پیراز میں پاکستان اسٹیل ملز کی زمین کی لیز کے معاملے پر بحث ہوئی، آڈٹ حکام نے بتایا کہ 2 ارب سے زائد کی ریکوری نہیں کی جا سکی۔</p>
<p>چیئرمین پی اے سی نے وزارت صنعت و پیداوار کو معاملہ 25 دن میں حل کرنے کی ہدایت کی اور خبردار کیا کہ حل نہ ہونے پر کیس ایف آئی اے کو بھیج دیا جائے گا، پاکستان اسٹیل ملز 75 کروڑ کی زمین کے تحفظ میں ناکام رہی۔</p>
<p>چیئرمین پی اے سی نے سوال اٹھایا کہ ’کیا نیب کو یہ معاملہ نظر نہیں آیا؟‘، لیکن نیب حکام تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔</p>
<p>آڈٹ حکام نے بتایا کہ بریگیڈیئر (ر) سعید اللہ خان، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سہیل ملک، شہزاد علی اور منظور حسین کو زمینیں لیز پر دی گئیں، چیئرمین پی اے سی نے نیب سے دو ماہ میں معاملے کی رپورٹ طلب کرلی۔</p>
<p>اجلاس میں اسٹیل مل کی 11 ایکڑ زمین پر قبضے کا معاملہ بھی سامنے آیا، سیکرٹری انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن نے بتایا کہ 2 ایکڑ زمین واگزار کرالی گئی ہے اور معاملہ ایس آئی ایف سی کے ساتھ اٹھایا گیا ہے، تاہم، شازیہ مری نے اعتراض کیا کہ “ایس آئی ایف سی ایک ایجنسی ہے، وہ زمین سے متعلق ہدایات نہیں دے سکتی۔</p>
<p>سیکرٹری انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن نے 2 ماہ میں زمین واگزار کرانے کی یقین دہانی کرائی جبکہ چیئرمین پی اے سی نے معاملہ نیب کے سپرد کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1253448</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Feb 2025 16:39:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/19163730b49b97e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/19163730b49b97e.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: پی ٹی وی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
