<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 28 May 2026 17:49:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 28 May 2026 17:49:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس کی سینیٹ نے کھیلوں میں حجاب پر پابندی کے فیصلے کی حمایت کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1253483/</link>
      <description>&lt;p&gt;فرانس میں دائیں بازو کی اکثریت رکھنے والی ایوان بالا (سینیٹ) نے کھیلوں کے مقابلوں میں حجاب سمیت ہرقسم کی مذہبی علامات پر پابندی کے بل کی حمایت کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کھیلوں کے مقابلوں میں حجاب پر پابندی سے متعلق بل کو قانونی شکل دینے کے لیے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) سے اکثریت درکار ہوگی تاہم دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی حکومت نے اس اقدام کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کا کہنا ہے کہ فرانس میں ہونے والے مہلک دہشت گرد حملوں کے بعد بعض مسلمان خواتین کی جانب سے پہنے جانے والے حجاب کو اسلامائزیشن کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، فرانس کی دیگر جماعتوں کا موقف ہے کہ حجاب پہن کر وہ صرف اپنے مذہب کی پیروی کررہی ہیں اور انہیں وہی پہننا چاہیے جو وہ چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کے سیکولرازم کے برانڈ کے تحت سرکاری ملازمین، اساتذہ اور طالب علم کوئی واضح مذہبی علامت جیسے عیسائی صلیب، یہودی کپا، سکھ پگڑی یا مسلمان حجاب نہیں پہن سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فرانس میں کھیلوں میں اس طرح کی پابندی ابھی تک موجود نہیں تاہم متعدد فیڈریشنز پہلے ہی فٹ بال اور باسکٹ بال کے کھیلوں میں مذہبی لباس پر پابندی عائد کرچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی ایوان بالا (سینیٹ) میں 81 کے مقابلے میں 210 ارکان نے سیاسی یا مذہبی علامات ظاہر کرنے والے لباس پہننے پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ سے قبل، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس طرح کے قانون سے فرانس میں مسلم خواتین  کو پہلے سے درپیش مذہبی، نسلی اور صنفی امتیاز میں مزید اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کی محقق اینا بلس کے مطابق تمام خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ اس بات کا خود انتخاب کریں کہ انہیں کیا پہننا ہے جب کہ فرانس میں کھیلوں میں حجاب پر پابندی اسلامو فوبیا اور مسلم خواتین کے لباس کو کنٹرول کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فرانس میں دائیں بازو کی اکثریت رکھنے والی ایوان بالا (سینیٹ) نے کھیلوں کے مقابلوں میں حجاب سمیت ہرقسم کی مذہبی علامات پر پابندی کے بل کی حمایت کردی۔</p>
<p>غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کھیلوں کے مقابلوں میں حجاب پر پابندی سے متعلق بل کو قانونی شکل دینے کے لیے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) سے اکثریت درکار ہوگی تاہم دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی حکومت نے اس اقدام کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔</p>
<p>ناقدین کا کہنا ہے کہ فرانس میں ہونے والے مہلک دہشت گرد حملوں کے بعد بعض مسلمان خواتین کی جانب سے پہنے جانے والے حجاب کو اسلامائزیشن کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، فرانس کی دیگر جماعتوں کا موقف ہے کہ حجاب پہن کر وہ صرف اپنے مذہب کی پیروی کررہی ہیں اور انہیں وہی پہننا چاہیے جو وہ چاہتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فرانس کے سیکولرازم کے برانڈ کے تحت سرکاری ملازمین، اساتذہ اور طالب علم کوئی واضح مذہبی علامت جیسے عیسائی صلیب، یہودی کپا، سکھ پگڑی یا مسلمان حجاب نہیں پہن سکتے۔</p>
<p>اگرچہ فرانس میں کھیلوں میں اس طرح کی پابندی ابھی تک موجود نہیں تاہم متعدد فیڈریشنز پہلے ہی فٹ بال اور باسکٹ بال کے کھیلوں میں مذہبی لباس پر پابندی عائد کرچکی ہے۔</p>
<p>فرانس کی ایوان بالا (سینیٹ) میں 81 کے مقابلے میں 210 ارکان نے سیاسی یا مذہبی علامات ظاہر کرنے والے لباس پہننے پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔</p>
<p>سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ سے قبل، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس طرح کے قانون سے فرانس میں مسلم خواتین  کو پہلے سے درپیش مذہبی، نسلی اور صنفی امتیاز میں مزید اضافہ ہوگا۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کی محقق اینا بلس کے مطابق تمام خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ اس بات کا خود انتخاب کریں کہ انہیں کیا پہننا ہے جب کہ فرانس میں کھیلوں میں حجاب پر پابندی اسلامو فوبیا اور مسلم خواتین کے لباس کو کنٹرول کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1253483</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Feb 2025 23:07:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/19222124e7bc2b6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/19222124e7bc2b6.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
