<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions - Columnist</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 23:42:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 23:42:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں ٹریفک حادثات، اصل ذمہ دار کون؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1253505/</link>
      <description>&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں سے کراچی میں ٹریفک حادثات کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جہاں بہت سے افراد تیز رفتار ڈمپر، ٹرک اور واٹر ٹینکر کی زد میں آئے ہیں۔ ایسے میں عوام میں غم و غصہ پایا جانا حیران کُن نہیں ہے کہ جس کا اظہار انہوں نے کچھ ہیوی ٹریفک کو نذرِ آتش کرکے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1985ء میں ناظم آباد میں بشریٰ زیدی کے حادثے سے لے کر چند ماہ قبل کارساز روڈ پر عمران عارف اور ان کی بیٹی آمنہ عارف کی المناک اموات تک، کراچی میں ٹریفک حادثات کی فہرست بہت طویل ہے۔ جو لوگ ان حادثات میں زندہ بچ گئے، وہ عمر بھر کی معذوری یا ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے پیش نظر حکومت نے ’روڈ چیکنگ کمیٹی‘ بنائی ہے جو گاڑیوں کی فٹنس کی جانچ پڑتال اور سڑکوں کی مجموعی تحفظ کی صورت حال پر نظر رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریفک مینجمنٹ، شہری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہر میں گاڑیوں کی آمد و رفت کو منظم کرنے، مال بردار گاڑیوں کو ریگولیٹ کرنا اور ٹریفک جرائم کے ارتکاب کے خلاف قانونی کارروائی کی ذمہ داری ٹریفک پولیس کی ہے۔ وہ پولیس کی اعلیٰ کمان اور متعلقہ صوبائی ڈپارٹمنٹ کو جوابدہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241357"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکار اسنیپ چیکنگ پر لاپروائی برتتے ہیں۔ وہ موٹر سائیکلوں، رکشوں، چھوٹی گاڑیوں، پک اپ گاڑیوں اور ہیوی ٹریفک وغیرہ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اپنے اعلیٰ حکام کو مطمئن کرنے کے لیے نامکمل کاغذات پر چالان کردیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز کی گاڑیاں جو عموماً ٹریفک قوانین کو کسی خاطر میں نہیں لاتیں، بےمقصد سائرن کا استعمال کرتی ہیں انہیں ٹریفک پولیس کے اہلکار جانے دیتے ہیں جبکہ ان کم عمر، غیرلائسنس یافتہ مگر امیر خاندانوں کے بچوں کو روکا نہیں جاتا جو تیز رفتاری سے اپنی لگژری گاڑیاں چلا رہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کالے شیشے والی گاڑیوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ بنا نمبر پلیٹ کی گاڑیوں کو بھی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مصروف شاہراہوں پر اکثر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز مخالف سمت سے تیز رفتاری سے گزرتی نظر آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیز رفتار گاڑیوں سے ٹکرانے کے بعد قانون کی پاس داری کرنے والے ڈرائیورز کی ایک نہیں چلتی۔ سڑکوں پر کیے جانے والے مباحثوں میں اکثر جیت اس کی ہوتی ہے جس کی آواز زیادہ بلند ہوتی ہے یا جو زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ پل اور اوورپاسز کے نیچے عوامی مقامات رکشہ اسٹینڈز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ایسی گاڑیاں اکثر ٹین ایجرز  چلاتے ہیں جو قوانین کا خیال نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی اثنا میں میئر کراچی کو حال ہی میں شکایت کرتے دیکھنا مضحکہ خیز تھا۔ میونسپلٹی عوامی مقامات اور مختص شاہراہوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ لیکن اہم شاہراہوں کے کناروں پرپیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ ٹوٹی ہوئی ہیں اور ان پر تجاوزات کی بھرمار ہے۔ ایسے میں پیدل چلنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بچوں اور والدین کو چلتی ہوئی گاڑیوں کے درمیان احتیاط سے اپنا راستہ بنانا پڑتا ہے تاکہ وہ صدر یا دیگر مصروف علاقوں میں واقع اسکولوں تک پہنچ سکیں۔ سڑکوں کو وسعت دینے کے منصوبوں کی وجہ سے گاڑیوں کے راستوں کو تو وسعت ملی ہے لیکن فٹ پاتھ تنگ ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ کی تعمیر نے کئی مقامات پر راہ گیروں کے لیے مختص راستے تباہ کیے ہیں۔ چند علاقوں جیسے ڈی ایچ اے میں تو سڑک کنارے پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی راستے ہی نہیں بنائے گئے۔ ڈی ایچ اے کو کلفٹن سے جوڑنے والی خیابانِ شاہین اس کی مثال ہے۔ اس کے علاوہ سائیکل سوار اور گاڑیوں کو آمد و رفت کے لیے استعمال نہیں کرنے والے افراد کا سفر کرنا محال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑکوں پر مشتعل رویہ بہت عام ہے۔ لوگ تیز رفتار گاڑیوں کا پیچھا کرتے ہیں، سرِ راہ گاڑیاں روک کر جھگڑے کرتے ہیں، ٹریفک لائٹس کی پروا نہیں کی جاتی، ان ڈرائیورز کو ہراساں کیا جاتا ہے جو اسٹاپ سائن پر ٹریفک قوانین کی پاس داری کرتے ہیں، سڑک پار کرنے والے راہ گیروں کو خوف زدہ کیا جاتا ہے جبکہ فٹ پاتھ پر پارکنگ جیسے مناظر اس شہر کا معمول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹر سائیکل سوار بھی کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ زیادہ تر انڈیکیٹر دیے بغیر تیز رفتاری سے لین تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا بہت زیادہ افراد سوار کرکے موٹر سائیکل چلاتے ہیں، ہیلمٹ نہیں پہنتے اور موٹر سائیکل روکے بغیر موبائل فونز استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251369"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیورز اور موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ گفتگو کریں تو آشکار ہوگا کہ ان میں سے زیادہ تر کو تو ٹریفک قوانین اور ضوابط کی بنیادی معلومات بھی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تو سرکاری عمل سے گزر کر ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کو بھی غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ جب ٹریفک پولیس اہلکار ایسے لوگوں کو روکتے ہیں تو وہ باخوبی واقف ہوتے ہیں کہ اہلکاروں کے ساتھ معاملات کیسے طے کرنے ہیں۔ ہیوی ٹریفک کے ڈرائیورز یا لگژری ایس یو وی کے مالکان تیز رفتار ڈرائیونگ پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی گاڑیاں قابو سے باہر ہوجائیں تو سڑکوں پر سنگین زخموں یا اموات کا باعث بنتی ہیں۔ لگژری گاڑیوں کی پشت پر سوار گارڈز ٹریفک قوانین کی پامالی کرنے والے ڈرائیورز کو پوچھ گچھ سے بچا لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتہائی خراب صورت حال ہے جس کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے نام نہاد کمیٹی کا قیام زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوگا۔ اسٹیک ہولڈرز بشمول رہائشیوں، دکانداروں، اپنے بچوں کو اسکول لے جانے والے والدین یا روزانہ سڑکوں پر خوفناک حالات کا سامنا کرنے والے تمام عام شہریوں کو حل تلاش کرنے کے عمل میں حصہ لینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کو ’سٹیزن ٹریفک لائزن کمیٹی‘ کی ضرورت ہے جس میں سول سوسائٹی کے اراکین اور ماہرین کو شامل کیا جائے جو ٹریفک چیلنجز کا معائنہ کریں، حل تلاش کریں اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ ہم اپنی سڑکوں پر مزید المناک سانحات کے متحمل نہیں ہوسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1892942/perilous-traffic"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گزشتہ چند ہفتوں سے کراچی میں ٹریفک حادثات کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جہاں بہت سے افراد تیز رفتار ڈمپر، ٹرک اور واٹر ٹینکر کی زد میں آئے ہیں۔ ایسے میں عوام میں غم و غصہ پایا جانا حیران کُن نہیں ہے کہ جس کا اظہار انہوں نے کچھ ہیوی ٹریفک کو نذرِ آتش کرکے کیا۔</p>
<p>1985ء میں ناظم آباد میں بشریٰ زیدی کے حادثے سے لے کر چند ماہ قبل کارساز روڈ پر عمران عارف اور ان کی بیٹی آمنہ عارف کی المناک اموات تک، کراچی میں ٹریفک حادثات کی فہرست بہت طویل ہے۔ جو لوگ ان حادثات میں زندہ بچ گئے، وہ عمر بھر کی معذوری یا ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے پیش نظر حکومت نے ’روڈ چیکنگ کمیٹی‘ بنائی ہے جو گاڑیوں کی فٹنس کی جانچ پڑتال اور سڑکوں کی مجموعی تحفظ کی صورت حال پر نظر رکھے گی۔</p>
<p>ٹریفک مینجمنٹ، شہری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہر میں گاڑیوں کی آمد و رفت کو منظم کرنے، مال بردار گاڑیوں کو ریگولیٹ کرنا اور ٹریفک جرائم کے ارتکاب کے خلاف قانونی کارروائی کی ذمہ داری ٹریفک پولیس کی ہے۔ وہ پولیس کی اعلیٰ کمان اور متعلقہ صوبائی ڈپارٹمنٹ کو جوابدہ ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241357"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکار اسنیپ چیکنگ پر لاپروائی برتتے ہیں۔ وہ موٹر سائیکلوں، رکشوں، چھوٹی گاڑیوں، پک اپ گاڑیوں اور ہیوی ٹریفک وغیرہ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اپنے اعلیٰ حکام کو مطمئن کرنے کے لیے نامکمل کاغذات پر چالان کردیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز کی گاڑیاں جو عموماً ٹریفک قوانین کو کسی خاطر میں نہیں لاتیں، بےمقصد سائرن کا استعمال کرتی ہیں انہیں ٹریفک پولیس کے اہلکار جانے دیتے ہیں جبکہ ان کم عمر، غیرلائسنس یافتہ مگر امیر خاندانوں کے بچوں کو روکا نہیں جاتا جو تیز رفتاری سے اپنی لگژری گاڑیاں چلا رہے ہوتے ہیں۔</p>
<p>کالے شیشے والی گاڑیوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ بنا نمبر پلیٹ کی گاڑیوں کو بھی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مصروف شاہراہوں پر اکثر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز مخالف سمت سے تیز رفتاری سے گزرتی نظر آتی ہیں۔</p>
<p>تیز رفتار گاڑیوں سے ٹکرانے کے بعد قانون کی پاس داری کرنے والے ڈرائیورز کی ایک نہیں چلتی۔ سڑکوں پر کیے جانے والے مباحثوں میں اکثر جیت اس کی ہوتی ہے جس کی آواز زیادہ بلند ہوتی ہے یا جو زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ پل اور اوورپاسز کے نیچے عوامی مقامات رکشہ اسٹینڈز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ایسی گاڑیاں اکثر ٹین ایجرز  چلاتے ہیں جو قوانین کا خیال نہیں رکھتے۔</p>
<p>اسی اثنا میں میئر کراچی کو حال ہی میں شکایت کرتے دیکھنا مضحکہ خیز تھا۔ میونسپلٹی عوامی مقامات اور مختص شاہراہوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ لیکن اہم شاہراہوں کے کناروں پرپیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ ٹوٹی ہوئی ہیں اور ان پر تجاوزات کی بھرمار ہے۔ ایسے میں پیدل چلنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بچوں اور والدین کو چلتی ہوئی گاڑیوں کے درمیان احتیاط سے اپنا راستہ بنانا پڑتا ہے تاکہ وہ صدر یا دیگر مصروف علاقوں میں واقع اسکولوں تک پہنچ سکیں۔ سڑکوں کو وسعت دینے کے منصوبوں کی وجہ سے گاڑیوں کے راستوں کو تو وسعت ملی ہے لیکن فٹ پاتھ تنگ ہوگئی ہیں۔</p>
<p>بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ کی تعمیر نے کئی مقامات پر راہ گیروں کے لیے مختص راستے تباہ کیے ہیں۔ چند علاقوں جیسے ڈی ایچ اے میں تو سڑک کنارے پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی راستے ہی نہیں بنائے گئے۔ ڈی ایچ اے کو کلفٹن سے جوڑنے والی خیابانِ شاہین اس کی مثال ہے۔ اس کے علاوہ سائیکل سوار اور گاڑیوں کو آمد و رفت کے لیے استعمال نہیں کرنے والے افراد کا سفر کرنا محال ہے۔</p>
<p>سڑکوں پر مشتعل رویہ بہت عام ہے۔ لوگ تیز رفتار گاڑیوں کا پیچھا کرتے ہیں، سرِ راہ گاڑیاں روک کر جھگڑے کرتے ہیں، ٹریفک لائٹس کی پروا نہیں کی جاتی، ان ڈرائیورز کو ہراساں کیا جاتا ہے جو اسٹاپ سائن پر ٹریفک قوانین کی پاس داری کرتے ہیں، سڑک پار کرنے والے راہ گیروں کو خوف زدہ کیا جاتا ہے جبکہ فٹ پاتھ پر پارکنگ جیسے مناظر اس شہر کا معمول ہیں۔</p>
<p>موٹر سائیکل سوار بھی کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ زیادہ تر انڈیکیٹر دیے بغیر تیز رفتاری سے لین تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا بہت زیادہ افراد سوار کرکے موٹر سائیکل چلاتے ہیں، ہیلمٹ نہیں پہنتے اور موٹر سائیکل روکے بغیر موبائل فونز استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251369"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیورز اور موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ گفتگو کریں تو آشکار ہوگا کہ ان میں سے زیادہ تر کو تو ٹریفک قوانین اور ضوابط کی بنیادی معلومات بھی نہیں۔</p>
<p>اب تو سرکاری عمل سے گزر کر ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کو بھی غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ جب ٹریفک پولیس اہلکار ایسے لوگوں کو روکتے ہیں تو وہ باخوبی واقف ہوتے ہیں کہ اہلکاروں کے ساتھ معاملات کیسے طے کرنے ہیں۔ ہیوی ٹریفک کے ڈرائیورز یا لگژری ایس یو وی کے مالکان تیز رفتار ڈرائیونگ پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی گاڑیاں قابو سے باہر ہوجائیں تو سڑکوں پر سنگین زخموں یا اموات کا باعث بنتی ہیں۔ لگژری گاڑیوں کی پشت پر سوار گارڈز ٹریفک قوانین کی پامالی کرنے والے ڈرائیورز کو پوچھ گچھ سے بچا لیتے ہیں۔</p>
<p>یہ انتہائی خراب صورت حال ہے جس کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے نام نہاد کمیٹی کا قیام زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوگا۔ اسٹیک ہولڈرز بشمول رہائشیوں، دکانداروں، اپنے بچوں کو اسکول لے جانے والے والدین یا روزانہ سڑکوں پر خوفناک حالات کا سامنا کرنے والے تمام عام شہریوں کو حل تلاش کرنے کے عمل میں حصہ لینا چاہیے۔</p>
<p>کراچی کو ’سٹیزن ٹریفک لائزن کمیٹی‘ کی ضرورت ہے جس میں سول سوسائٹی کے اراکین اور ماہرین کو شامل کیا جائے جو ٹریفک چیلنجز کا معائنہ کریں، حل تلاش کریں اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ ہم اپنی سڑکوں پر مزید المناک سانحات کے متحمل نہیں ہوسکتے۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1892942/perilous-traffic">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1253505</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Feb 2025 11:20:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر نعمان احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/2012033849064b7.jpg?r=120340" type="image/jpeg" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/2012033849064b7.jpg?r=120340"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
