<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 10:06:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Apr 2026 10:06:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>26 نومبر کا احتجاج: 120 پی ٹی آئی کارکنوں کی ضمانتیں منظور، بیان حلفی جمع کرانے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1253526/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے کارکنوں کو بڑا ریلیف مل گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ سے نے 26 نومبر کے احتجاج کے مقدمات میں گرفتار پی ٹی آئی کے 120 سے زائد کارکنوں کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے پی ٹی آئی کارکنوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج سے گرفتار 120 سے زائد کارکنوں کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے پی ٹی آئی کارکنوں کو 20 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے اور ایک شیورٹی جمع کرانے کی بھی ہدایت کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے پی ٹی آئی کارکنوں کو پولیس اسٹیشن میں  بیان حلفی جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا، قائم مقام چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ بیان حلفی دیں کہ آئندہ ایسا جرم نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پس منظر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور و دیگر پارٹی رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج اور پرتشدد مظاہروں پر مختلف تھانوں میں مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، مجمع جمع کرکے شاہراہوں کو بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے کارکنوں کو بڑا ریلیف مل گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ سے نے 26 نومبر کے احتجاج کے مقدمات میں گرفتار پی ٹی آئی کے 120 سے زائد کارکنوں کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے پی ٹی آئی کارکنوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔</p>
<p>عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج سے گرفتار 120 سے زائد کارکنوں کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے پی ٹی آئی کارکنوں کو 20 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے اور ایک شیورٹی جمع کرانے کی بھی ہدایت کردی۔</p>
<p>عدالت نے پی ٹی آئی کارکنوں کو پولیس اسٹیشن میں  بیان حلفی جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا، قائم مقام چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ بیان حلفی دیں کہ آئندہ ایسا جرم نہیں کریں گے۔</p>
<h1><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پس منظر</h1>
<p>یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے</p>
<p>تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔</p>
<p>احتجاج کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور و دیگر پارٹی رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج اور پرتشدد مظاہروں پر مختلف تھانوں میں مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے۔</p>
<p>مظاہرین پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، مجمع جمع کرکے شاہراہوں کو بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1253526</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Feb 2025 16:17:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/20133327ace7b5c.jpg?r=133410" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/20133327ace7b5c.jpg?r=133410"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
