<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 12:00:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 12:00:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قدامت پسندی کی لہر جرمنی کو بھی بہا لے گئی، دائیں بازو کا اتحاد انتخابات میں کامیاب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1253797/</link>
      <description>&lt;p&gt;قدامت پسندی کی لہر جرمنی کو بھی بہالے گئی، دنیا کی تیسری اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے انتخابات میں دائیں بازو کی جماعت نے برتری حاصل کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ایگزٹ پول میں کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) اور کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کے اتحاد کو 28.5 فیصد ووٹ ملے ہیں، اور یہ اتحاد جرمن پارلیمنٹ میں 208 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کامیابی کے ساتھ ہی فریڈرک مرز کے اگلے جرمن چانسلر بننے کا امکان ہے، فریڈرک مرز نے انتخابات میں کامیابی کو ’جرمنی کی امریکا سے آزادی‘  قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہاجرین مخالف سمجھی جانے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’اے ایف ڈی‘ 20.8 فیصد ووٹ کے ساتھ ڈوئچ لینڈ کی دوسری طاقتور ترین جماعت بن کر اُبھری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248721"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کے موجودہ حکمران چانسلر اولف شولز کی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو 16.4 فیصد ووٹ ملے، گرین پارٹی 11.6 صد ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متوقع جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اپنے حامیوں سے خطاب میں واضح کردیا کہ آج رات وہ جشن منائیں گے لیکن کل سے کام شروع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے پہلا ہدف جرمنی میں جلد از جلد اچھی پارلیمانی اکثریت کے ساتھ حکومت کا قیام ہے، کیوں کہ دنیا ہمارا انتظار نہیں کر رہی اور نہ وہ مخلوط حکومت کے قیام کے لیے ہماری طویل گفت و شنید کا انتظار کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کے مطابق فریڈرک مرز نے کہا کہ یورپ بھی امریکا سے آزادی حاصل کرے، وسطی برلن میں انتخابات میں فتح کا اعلان کرنے کے دوران اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میری پہلی ترجیح ہوگی کہ ہم امریکا سے بتدریج ’آزادی‘ حاصل کریں، یورپ کو امریکی اثر و رسوخ سے نجات دلوائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھے ٹی وی پر ایسا خطاب کرنا پڑے گا، لیکن واضح ہوچکا ہے کہ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ میں ایسے لوگ ہیں، جو یورپ کی قسمت کے حوالے سے متضاد موقف رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن چانسلر اولف شولز نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کامیاب ہونے والے مخالفین کو مبارکباد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کے انتخابات میں قدامت پسند پارٹی کی کامیابی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ جرمن حکومتی ایجنڈے  سے تنگ آچکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ جرمنی کو کافی عرصے سے توانائی اور امیگریشن مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قدامت پسندی کی لہر جرمنی کو بھی بہالے گئی، دنیا کی تیسری اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے انتخابات میں دائیں بازو کی جماعت نے برتری حاصل کرلی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ایگزٹ پول میں کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) اور کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کے اتحاد کو 28.5 فیصد ووٹ ملے ہیں، اور یہ اتحاد جرمن پارلیمنٹ میں 208 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔</p>
<p>اس کامیابی کے ساتھ ہی فریڈرک مرز کے اگلے جرمن چانسلر بننے کا امکان ہے، فریڈرک مرز نے انتخابات میں کامیابی کو ’جرمنی کی امریکا سے آزادی‘  قرار دے دیا۔</p>
<p>مہاجرین مخالف سمجھی جانے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’اے ایف ڈی‘ 20.8 فیصد ووٹ کے ساتھ ڈوئچ لینڈ کی دوسری طاقتور ترین جماعت بن کر اُبھری ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248721"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جرمنی کے موجودہ حکمران چانسلر اولف شولز کی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو 16.4 فیصد ووٹ ملے، گرین پارٹی 11.6 صد ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔</p>
<p>متوقع جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اپنے حامیوں سے خطاب میں واضح کردیا کہ آج رات وہ جشن منائیں گے لیکن کل سے کام شروع کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے پہلا ہدف جرمنی میں جلد از جلد اچھی پارلیمانی اکثریت کے ساتھ حکومت کا قیام ہے، کیوں کہ دنیا ہمارا انتظار نہیں کر رہی اور نہ وہ مخلوط حکومت کے قیام کے لیے ہماری طویل گفت و شنید کا انتظار کر رہی ہے۔</p>
<p>سی این این کے مطابق فریڈرک مرز نے کہا کہ یورپ بھی امریکا سے آزادی حاصل کرے، وسطی برلن میں انتخابات میں فتح کا اعلان کرنے کے دوران اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میری پہلی ترجیح ہوگی کہ ہم امریکا سے بتدریج ’آزادی‘ حاصل کریں، یورپ کو امریکی اثر و رسوخ سے نجات دلوائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھے ٹی وی پر ایسا خطاب کرنا پڑے گا، لیکن واضح ہوچکا ہے کہ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ میں ایسے لوگ ہیں، جو یورپ کی قسمت کے حوالے سے متضاد موقف رکھتے ہیں۔</p>
<p>جرمن چانسلر اولف شولز نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کامیاب ہونے والے مخالفین کو مبارکباد دی۔</p>
<p>جرمنی کے انتخابات میں قدامت پسند پارٹی کی کامیابی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ جرمن حکومتی ایجنڈے  سے تنگ آچکے تھے۔</p>
<p>واضح رہے کہ جرمنی کو کافی عرصے سے توانائی اور امیگریشن مسائل کا سامنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1253797</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Feb 2025 15:01:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/241146088fbbe3b.jpg?r=114908" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/241146088fbbe3b.jpg?r=114908"/>
        <media:title>جرمنی کے موجودہ حکمران چانسلر اولف شولز کی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو 16.4 فیصد ووٹ ملے
—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
