<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 12:52:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 12:52:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دھماکے میں شہید ہونے والے مولانا حامد الحق کون تھے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1254147/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق سمیت 6 افراد شہید اور 20 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا حامد الحق ممتاز عالم دین سمیع الحق حقانی کے صاحبزادے تھے، جنہیں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/world/2018/nov/02/pakistan-maulana-samiul-haq-father-of-the-taliban-cleric-killed-in-knife-attack"&gt;&lt;strong&gt;’بابائے طالبان‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; بھی کہا جاتا تھا، جنہیں 2018 میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد حامد الحق نے پشاور سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وسیع و عریض مدرسے میں بطور نائب مہتمم انتظام سنبھالا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دارالعلوم حقانیہ پاکستان کے بڑے اور پرانے مدارس میں سے ایک ہے، جہاں تقریباً 4 ہزار سے زائد طلبہ رہائش پذیر ہیں، جنہیں مفت تعلیم کے ساتھ کپڑے اور کھانا بھی دیا جاتا ہے، دارالعلوم حقانیہ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://darululoomhaqqania.com/"&gt;&lt;strong&gt;ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کئی سرکردہ طالبان رہنما بشمول حقانی نیٹ ورک کے رہنما سراج الدین حقانی نے مدرسے سے تعلیم حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/02/28164116d95c0cd.jpg'  alt='  &amp;mdash;فائل فوٹو: رائٹرز  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—فائل فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمیع الحق حقانی کی پہلی بیوی کے دوسرے بیٹے حامد الحق نے اپنی دینی اور دنیاوی تعلیم اپنے دادا مولانا عبدالحق سے مدرسہ کے احاطے میں واقع حقانیہ ہائی اسکول سے حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نوشہرہ ڈگری کالج سے اسلامیات میں بیچلرز مکمل کیا اور 80 کی دہائی کے آخر میں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا، شہید حامد الحق نے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1985 میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے طلبہ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ سے بطور سیکریٹری جنرل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ نومبر 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن رہے اور 2018 میں اپنے والد کے قتل کے بعد جے یو آئی (س) کے چیئرمین مقرر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/02/28164122f302a79.jpg'  alt='  &amp;mdash;فوٹو: رائٹرز  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا حامد الحق دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین بھی رہے، جو کئی سالوں سے غیر فعال ہے، یہ کونسل بنیادی طور پر جماعت الدعوۃ اور اہل سنت والجماعت کی چھتری تلے بنایا گیا تھا، دفاع پاکستان کونسل کا قیام 2011 میں پاک-افغان سرحد پر امریکی افواج کے ہاتھوں پاکستانی افواج کی شہادت کے ردعمل میں کیا گیا تھا، تاہم یہ 2018 میں بانی مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد غیر فعال رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہید مولانا حامد الحق کی قیادت میں 2023 میں دوبارہ دفاع پاکستان کونسل وجود میں آئی، جس نے مبینہ طور پر سیاست دانوں کی طرف سے ’قومی مفادات‘ کو نقصان پہنچانے کی ’سازشوں‘ سے خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس مولانا حامد الحق نے ’مذہبی سفارت کاری‘ کے ایک حصے کے طور پر افغانستان جانے والے پاکستانی علماء کے ایک وفد کی قیادت کی تھی، جہاں انہوں نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی تھی، دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولانا حامد الحق نے بتایا تھا کہ اس سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان عدم اعتماد کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیپینڈنٹ کو 2021 میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.independent.co.uk/asia/south-asia/madrasa-jihadi-pakistan-taliban-b1920669.html"&gt;&lt;strong&gt;انٹرویو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مدرسہ حقانیہ نے امریکی اور افغان سفیروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم کی میزبانی بھی کی تھی، جبکہ ان کے والد نے خطے میں مفاہمت اور امن لانے کے لیے پاکستان، افغانستان اور طالبان کے درمیان اہم ثالثی کا کردار ادا کیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا حامد الحق نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’بہت سارے لوگ ہیں جو ہمیں الزام دیتے ہیں اور ہمیں دہشت گردی کی یونیورسٹی کہتے ہیں کیونکہ وہ اسلام کے خلاف ہیں، ہمیں ایک دہشت گرد تنظیم کا کیمپس قرار دے کر وہ لوگوں کو ہم سے اور اسلام سے خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں ڈیلی ٹائمز کے ساتھ ایک اور &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://dailytimes.com.pk/720424/interview-with-hamid-ul-haq/"&gt;&lt;strong&gt;انٹرویو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں انہوں نے زور دیا تھا کہ پاکستان کو ’صورتحال کو مستحکم کرنے‘ کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے، مزید کہا تھا کہ اگرچہ پاکستان نے بہت کچھ کیا ہے، لیکن اسے اب بھی دہشت گرد گروپوں کی بحالی کو روکنے کے لیے ایک طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہید مولانا حامد الحق نے کہا تھا کہ ہمیں انٹیلی جنس پر مبنی پالیسیاں، مضبوط انسداد دہشت گردی قانونی فریم ورک اور غیر مراعات یافتہ لوگوں کی شکایات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق سمیت 6 افراد شہید اور 20 زخمی ہوئے۔</p>
<p>مولانا حامد الحق ممتاز عالم دین سمیع الحق حقانی کے صاحبزادے تھے، جنہیں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/world/2018/nov/02/pakistan-maulana-samiul-haq-father-of-the-taliban-cleric-killed-in-knife-attack"><strong>’بابائے طالبان‘</strong></a> بھی کہا جاتا تھا، جنہیں 2018 میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد حامد الحق نے پشاور سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وسیع و عریض مدرسے میں بطور نائب مہتمم انتظام سنبھالا تھا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دارالعلوم حقانیہ پاکستان کے بڑے اور پرانے مدارس میں سے ایک ہے، جہاں تقریباً 4 ہزار سے زائد طلبہ رہائش پذیر ہیں، جنہیں مفت تعلیم کے ساتھ کپڑے اور کھانا بھی دیا جاتا ہے، دارالعلوم حقانیہ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://darululoomhaqqania.com/"><strong>ویب سائٹ</strong></a> کے مطابق کئی سرکردہ طالبان رہنما بشمول حقانی نیٹ ورک کے رہنما سراج الدین حقانی نے مدرسے سے تعلیم حاصل کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/02/28164116d95c0cd.jpg'  alt='  &mdash;فائل فوٹو: رائٹرز  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—فائل فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>سمیع الحق حقانی کی پہلی بیوی کے دوسرے بیٹے حامد الحق نے اپنی دینی اور دنیاوی تعلیم اپنے دادا مولانا عبدالحق سے مدرسہ کے احاطے میں واقع حقانیہ ہائی اسکول سے حاصل کی۔</p>
<p>انہوں نے نوشہرہ ڈگری کالج سے اسلامیات میں بیچلرز مکمل کیا اور 80 کی دہائی کے آخر میں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا، شہید حامد الحق نے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1985 میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے طلبہ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ سے بطور سیکریٹری جنرل کیا۔</p>
<p>وہ نومبر 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن رہے اور 2018 میں اپنے والد کے قتل کے بعد جے یو آئی (س) کے چیئرمین مقرر ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/02/28164122f302a79.jpg'  alt='  &mdash;فوٹو: رائٹرز  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>مولانا حامد الحق دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین بھی رہے، جو کئی سالوں سے غیر فعال ہے، یہ کونسل بنیادی طور پر جماعت الدعوۃ اور اہل سنت والجماعت کی چھتری تلے بنایا گیا تھا، دفاع پاکستان کونسل کا قیام 2011 میں پاک-افغان سرحد پر امریکی افواج کے ہاتھوں پاکستانی افواج کی شہادت کے ردعمل میں کیا گیا تھا، تاہم یہ 2018 میں بانی مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد غیر فعال رہی۔</p>
<p>شہید مولانا حامد الحق کی قیادت میں 2023 میں دوبارہ دفاع پاکستان کونسل وجود میں آئی، جس نے مبینہ طور پر سیاست دانوں کی طرف سے ’قومی مفادات‘ کو نقصان پہنچانے کی ’سازشوں‘ سے خبردار کیا۔</p>
<p>گزشتہ برس مولانا حامد الحق نے ’مذہبی سفارت کاری‘ کے ایک حصے کے طور پر افغانستان جانے والے پاکستانی علماء کے ایک وفد کی قیادت کی تھی، جہاں انہوں نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی تھی، دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولانا حامد الحق نے بتایا تھا کہ اس سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان عدم اعتماد کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>انڈیپینڈنٹ کو 2021 میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.independent.co.uk/asia/south-asia/madrasa-jihadi-pakistan-taliban-b1920669.html"><strong>انٹرویو</strong></a> دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مدرسہ حقانیہ نے امریکی اور افغان سفیروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم کی میزبانی بھی کی تھی، جبکہ ان کے والد نے خطے میں مفاہمت اور امن لانے کے لیے پاکستان، افغانستان اور طالبان کے درمیان اہم ثالثی کا کردار ادا کیا ۔</p>
<p>مولانا حامد الحق نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’بہت سارے لوگ ہیں جو ہمیں الزام دیتے ہیں اور ہمیں دہشت گردی کی یونیورسٹی کہتے ہیں کیونکہ وہ اسلام کے خلاف ہیں، ہمیں ایک دہشت گرد تنظیم کا کیمپس قرار دے کر وہ لوگوں کو ہم سے اور اسلام سے خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘</p>
<p>2021 میں ڈیلی ٹائمز کے ساتھ ایک اور <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://dailytimes.com.pk/720424/interview-with-hamid-ul-haq/"><strong>انٹرویو</strong></a> میں انہوں نے زور دیا تھا کہ پاکستان کو ’صورتحال کو مستحکم کرنے‘ کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے، مزید کہا تھا کہ اگرچہ پاکستان نے بہت کچھ کیا ہے، لیکن اسے اب بھی دہشت گرد گروپوں کی بحالی کو روکنے کے لیے ایک طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>شہید مولانا حامد الحق نے کہا تھا کہ ہمیں انٹیلی جنس پر مبنی پالیسیاں، مضبوط انسداد دہشت گردی قانونی فریم ورک اور غیر مراعات یافتہ لوگوں کی شکایات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1254147</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Feb 2025 22:28:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/282220340b04155.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/282220340b04155.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
