<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 10:30:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 08 Jun 2026 10:30:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ ہائیکورٹ میں پیکا کےخلاف درخواست پر وفاقی وزارت اطلاعات اور دیگر فریقین کو نوٹس</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1254457/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ نے صحافتی تنظیموں کی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) ترمیمی کے خلاف درخواست پر وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں صحافتی تنظیموں کی پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے مدعی کو 19 مارچ  کے لیے نوٹس جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست منیر اے ملک ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی تھی، درخواست کے مطابق پیکا ایکٹ بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، پیکا ترمیمی ایکٹ آزادی اظہار رائے کے آئینی حق سے محروم رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ پیکا ترمیمی ایکٹ کے سیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے تاکہ آزادی اظہار رائے کو یقینی بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251917"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے 29 جنوری 2025 کو دستخط کیے جانے کے بعد ’دی پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (ترمیمی) بل 2025‘ (پیکا) کا قانون نافذ العمل ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ بل کو 22 جنوری کو قومی اسمبلی اور بعد ازاں سینیٹ نے منظور کیا تھا، جس کے بعد صدر نے بھی اس کی توثیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے قانون کے تحت وفاقی حکومت سوشل میڈیا کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے ملک میں پہلی بار ’سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘ (سمپرا) بھی قائم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ اتھارٹی ملک میں اپنی طرز کی پہلی خود مختار اتھارٹی ہوگی، جس سے ملکی تاریخ میں پہلی بار تمام سوشل میڈیا ایپس اور ویب سائٹس سمیت اسٹریمنگ چینلز کی رجسٹریشن بھی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہوگا جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاتر قائم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن، رجسٹریشن کی منسوخی، معیارات کے تعین کی مجاز ہو گی، جب کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کی سہولت کاری کے ساتھ صارفین کے تحفظ اور حقوق کو بھی یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ ہائی کورٹ نے صحافتی تنظیموں کی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) ترمیمی کے خلاف درخواست پر وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں صحافتی تنظیموں کی پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے مدعی کو 19 مارچ  کے لیے نوٹس جاری کیے۔</p>
<p>درخواست منیر اے ملک ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی تھی، درخواست کے مطابق پیکا ایکٹ بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، پیکا ترمیمی ایکٹ آزادی اظہار رائے کے آئینی حق سے محروم رکھتا ہے۔</p>
<p>درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ پیکا ترمیمی ایکٹ کے سیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے تاکہ آزادی اظہار رائے کو یقینی بنایا جاسکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251917"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے 29 جنوری 2025 کو دستخط کیے جانے کے بعد ’دی پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (ترمیمی) بل 2025‘ (پیکا) کا قانون نافذ العمل ہوگیا تھا۔</p>
<p>مذکورہ بل کو 22 جنوری کو قومی اسمبلی اور بعد ازاں سینیٹ نے منظور کیا تھا، جس کے بعد صدر نے بھی اس کی توثیق کی۔</p>
<p>نئے قانون کے تحت وفاقی حکومت سوشل میڈیا کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے ملک میں پہلی بار ’سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘ (سمپرا) بھی قائم کرے گی۔</p>
<p>مذکورہ اتھارٹی ملک میں اپنی طرز کی پہلی خود مختار اتھارٹی ہوگی، جس سے ملکی تاریخ میں پہلی بار تمام سوشل میڈیا ایپس اور ویب سائٹس سمیت اسٹریمنگ چینلز کی رجسٹریشن بھی ہوگی۔</p>
<p>قانون کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہوگا جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاتر قائم کیے جائیں گے۔</p>
<p>اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن، رجسٹریشن کی منسوخی، معیارات کے تعین کی مجاز ہو گی، جب کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کی سہولت کاری کے ساتھ صارفین کے تحفظ اور حقوق کو بھی یقینی بنائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1254457</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Mar 2025 15:29:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/05121241c101f3d.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/05121241c101f3d.png"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
