<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 12:08:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 12:08:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عورت مارچ کے منتظمین کا اجازت نہ ملنے پر بھی ڈی چوک تک ریلی نکالنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1254655/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی دارالحکومت میں عورت مارچ کے منتظمین نے کہا ہے کہ وہ انتظامیہ سے باضابطہ اجازت نہ ملنے کے باوجود اپنے مجوزہ پروگرام کو آگے بڑھائیں گے، اور آج نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک تک ریلی نکالی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1896557/aurat-march-to-go-ahead-in-islamabad-without-permission"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ڈاکٹر فرزانہ باری نے بتایا کہ ہم گزشتہ سالوں کی طرح نیشنل پریس کلب (این پی سی) کے باہر مظاہرہ کریں گے، اور (خواتین کے عالمی دن کے موقع پر) ڈی چوک کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے اہم منتظمین میں سے ایک ڈاکٹر فرزانہ باری نے کہا کہ انہوں نے کئی ماہ قبل اسلام آباد انتظامیہ کو ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی تھی، جس میں این پی سی سے ڈی چوک تک مارچ کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی، لیکن اب تک اس پروگرام کے لیے این او سی نہیں ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مارچ کے منتظمین نے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی خط لکھا ہے، جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اسلام آباد انتظامیہ کو پروگرام کے لیے این او سی جاری کرنے کی ہدایت کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر فرزانہ باری نے کہا کہ اجازت دینے کے بجائے انتظامیہ رمضان کے مقدس مہینے کے پیش نظر تقریب کو ملتوی کرنے کے لیے کہہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253331"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ منتظمین نے پہلے ہی فیصلہ کیا ہے کہ اس مقدس مہینے کے تقدس کا احترام کرنے کے لیے تقریب کو سادگی کے ساتھ، بغیر کسی موسیقی یا دیگر دھوم دھام کے مکمل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ اس دن کو منانے کے اپنے حق سے دستبردار ہوجائیں، جو سال میں صرف ایک بار آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرزانہ باریﷺ نے کہا کہ شرکا کو دوپہر ایک بجے پریس کلب کے سامنے جمع ہونے کی کال دے رکھی ہے، اور شام 4 بجے کے قریب ڈی چوک کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹاگرام پر پوسٹ کیے گئے اپنے کھلے خط میں مارچ کے منتظمین نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ گزشتہ 6 سال سے این او سی حاصل کرنے کی ان گنت کوششوں کے باوجود انہیں ’تحفظ اور احتجاج کے حق سے محروم رکھا گیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں ہمارے منتظمین کو مذہبی بنیاد پرست گروہوں، پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ کے ہاتھوں بربریت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے پاکستان میں خواتین کے حقوق کی صورتحال کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو بہت منفی پیغام گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی دارالحکومت میں عورت مارچ کے منتظمین نے کہا ہے کہ وہ انتظامیہ سے باضابطہ اجازت نہ ملنے کے باوجود اپنے مجوزہ پروگرام کو آگے بڑھائیں گے، اور آج نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک تک ریلی نکالی جائے گی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1896557/aurat-march-to-go-ahead-in-islamabad-without-permission"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ڈاکٹر فرزانہ باری نے بتایا کہ ہم گزشتہ سالوں کی طرح نیشنل پریس کلب (این پی سی) کے باہر مظاہرہ کریں گے، اور (خواتین کے عالمی دن کے موقع پر) ڈی چوک کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>مارچ کے اہم منتظمین میں سے ایک ڈاکٹر فرزانہ باری نے کہا کہ انہوں نے کئی ماہ قبل اسلام آباد انتظامیہ کو ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی تھی، جس میں این پی سی سے ڈی چوک تک مارچ کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی، لیکن اب تک اس پروگرام کے لیے این او سی نہیں ملا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مارچ کے منتظمین نے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی خط لکھا ہے، جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اسلام آباد انتظامیہ کو پروگرام کے لیے این او سی جاری کرنے کی ہدایت کریں۔</p>
<p>ڈاکٹر فرزانہ باری نے کہا کہ اجازت دینے کے بجائے انتظامیہ رمضان کے مقدس مہینے کے پیش نظر تقریب کو ملتوی کرنے کے لیے کہہ رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253331"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ منتظمین نے پہلے ہی فیصلہ کیا ہے کہ اس مقدس مہینے کے تقدس کا احترام کرنے کے لیے تقریب کو سادگی کے ساتھ، بغیر کسی موسیقی یا دیگر دھوم دھام کے مکمل کیا جائے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ اس دن کو منانے کے اپنے حق سے دستبردار ہوجائیں، جو سال میں صرف ایک بار آتا ہے۔</p>
<p>فرزانہ باریﷺ نے کہا کہ شرکا کو دوپہر ایک بجے پریس کلب کے سامنے جمع ہونے کی کال دے رکھی ہے، اور شام 4 بجے کے قریب ڈی چوک کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>انسٹاگرام پر پوسٹ کیے گئے اپنے کھلے خط میں مارچ کے منتظمین نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ گزشتہ 6 سال سے این او سی حاصل کرنے کی ان گنت کوششوں کے باوجود انہیں ’تحفظ اور احتجاج کے حق سے محروم رکھا گیا ہے‘۔</p>
<p>خط میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں ہمارے منتظمین کو مذہبی بنیاد پرست گروہوں، پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ کے ہاتھوں بربریت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے پاکستان میں خواتین کے حقوق کی صورتحال کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو بہت منفی پیغام گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1254655</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Mar 2025 12:00:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/08081742cac8cc2.jpg?r=120116" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/08081742cac8cc2.jpg?r=120116"/>
        <media:title>انسٹاگرام پر وزیراعظم کے نام کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ ہمیں ’تحفظ اور احتجاج کے حق سے محروم رکھا گیا ہے‘ —فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
