<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 12:30:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 12:30:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2024 میں خواتین پر تشدد کے کل 5 ہزار 253 کیس رپورٹ ہوئے، ساحل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1255015/</link>
      <description>&lt;p&gt;ساحل کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ملک بھر میں 2024 کے دوران خواتین پر تشدد کے کل 5 ہزار 253 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں قتل، خودکشی، اغوا، ریپ، غیرت کے نام پر قتل، اور ٹارچر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری اعلامیے کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد (جی بی وی) پر ’ساحل رپورٹ‘ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے 81 مختلف اخبارات سے جمع کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساحل کے 2024 کے خواتین کے خلاف تشدد کے اعداد و شمار سے  پتا چلتا ہے کہ ملک بھر سے خواتین پر تشدد کے کل 5 ہزار 253 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں تشدد کی مختلف شکلیں ہیں، جس میں قتل، خودکشی، اغوا، ریپ، غیرت کے نام پر قتل، اور ٹارچر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں قتل کے 1373، اغوا کے 954، تشدد کے 685، زیادتی کے 611 اور خودکشی کے 443 واقعات رپورٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی بی وی ڈیٹا 2024 سے پتا چلتا ہے کہ کل رپورٹ کیے گئے کیسز میں سے (5 فیصد) متاثرین 18 سال سے کم عمر کے تھے، اعداد و شمار سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ 21 سے 30 سال کی عمر کے گروپ کو مسلسل بدسلوکی کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ 21 سے 30 سال کی عمر کے  کل 536 کیسز، 11 سے 20 سال کی عمر کے  517 کیسز، 31 سے 40 سال کی عمر کے  189 کیسز اور 3763 کیسز میں متاثرین کی عمر کا ذکر نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کل کیسز میں سے 34 فیصد زیادتی کرنے والے جاننے والے تھے، 13 فیصد کیسز شوہر، 12 فیصد کیسز اجنبی تھے، جبکہ 21 فیصد کیسز کا ذکر نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق صوبائی تقسیم سے پتا چلتا ہے کہ کل کیسز میں سے 74 فیصد پنجاب سے، 15 فیصد سندھ سے، 7 فیصد کیس خیبرپختونخوا سے، 2 فیصد کیس اسلام آباد سے، اور 2 فیصد کیسز بلوچستان، آزد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ساحل کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ملک بھر میں 2024 کے دوران خواتین پر تشدد کے کل 5 ہزار 253 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں قتل، خودکشی، اغوا، ریپ، غیرت کے نام پر قتل، اور ٹارچر شامل ہیں۔</p>
<p>جاری اعلامیے کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد (جی بی وی) پر ’ساحل رپورٹ‘ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے 81 مختلف اخبارات سے جمع کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔</p>
<p>ساحل کے 2024 کے خواتین کے خلاف تشدد کے اعداد و شمار سے  پتا چلتا ہے کہ ملک بھر سے خواتین پر تشدد کے کل 5 ہزار 253 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں تشدد کی مختلف شکلیں ہیں، جس میں قتل، خودکشی، اغوا، ریپ، غیرت کے نام پر قتل، اور ٹارچر شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں قتل کے 1373، اغوا کے 954، تشدد کے 685، زیادتی کے 611 اور خودکشی کے 443 واقعات رپورٹ ہوئے۔</p>
<p>جی بی وی ڈیٹا 2024 سے پتا چلتا ہے کہ کل رپورٹ کیے گئے کیسز میں سے (5 فیصد) متاثرین 18 سال سے کم عمر کے تھے، اعداد و شمار سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ 21 سے 30 سال کی عمر کے گروپ کو مسلسل بدسلوکی کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔</p>
<p>مزید بتایا کہ 21 سے 30 سال کی عمر کے  کل 536 کیسز، 11 سے 20 سال کی عمر کے  517 کیسز، 31 سے 40 سال کی عمر کے  189 کیسز اور 3763 کیسز میں متاثرین کی عمر کا ذکر نہیں کیا گیا۔</p>
<p>کل کیسز میں سے 34 فیصد زیادتی کرنے والے جاننے والے تھے، 13 فیصد کیسز شوہر، 12 فیصد کیسز اجنبی تھے، جبکہ 21 فیصد کیسز کا ذکر نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق صوبائی تقسیم سے پتا چلتا ہے کہ کل کیسز میں سے 74 فیصد پنجاب سے، 15 فیصد سندھ سے، 7 فیصد کیس خیبرپختونخوا سے، 2 فیصد کیس اسلام آباد سے، اور 2 فیصد کیسز بلوچستان، آزد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1255015</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Mar 2025 21:12:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عرفان سدوزئی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/13210410418767a.jpg?r=210423" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/13210410418767a.jpg?r=210423"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان آرکائیو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
