<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 21:33:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 21:33:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیمپئنز ٹرافی میں کوئی نقصان نہیں ہوا، پی سی بی کی سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1255410/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سوشل میڈیا اور دیگر نیوز پلیٹ فارم پر چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق کرکٹ بورڈ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی سی سی فنانشل اینڈ کمرشل ایفیئرز کمیٹی نے چیمپئنز ٹرافی کے ایونٹ آپریشنز کے اخراجات کے طور پر 70 ملین ڈالرز کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی سی بی کے مطابق ایونٹ آپریشنز کے اخراجات میں کھلاڑیوں و اہلکاروں کی لاجسٹکس، رہائش، فیس، انعامی رقم، نشریات و پروڈکشن وغیرہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ پی سی بی کو 6 ملین ڈالرز کی میزبانی کی فیس وصول ہوئی ہے، پاکستان کو گیٹ منی اور مہمان نوازی سے ہونے والی کمائیاں ابھی ملنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254960"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع پی سی بی کا کہنا تھا کہ تمام چیمپئنز ٹرافی آپریشنل اخراجات ایونٹ بجٹ سے پورے کیے گئے، پی سی بی کی میزبان فیس سے کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ کی جانب سے کہا گیا کہ انفراسٹرکچر بہتر کرنے یا دوبارہ سے بنانے کے لیے اخراجات ہمیشہ میزبان کے ذمہ ہوتے ہیں، احمد آباد اسٹیڈیم کو آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2023 کے آپریشنل اخراجات سے نہیں بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی سی بی کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیم بنانا مستقبل کے لیے ایک سرمایہ کاری تھی جس طرح فیفا ورلڈ کپ اور اولمپکس میں بھی نظر آتی ہے، عالمی ایونٹس کے لیے برانڈ نیو سہولتیں تخلیق کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ قذافی اسٹیڈیم اور نیشنل کراچی اسٹیڈیم کی آخری اپ گریڈیشن کرکٹ ورلڈ کپ 1996 کے لیے کی گئی تھی جب کہ پاکستان کی میزبانی میں 29 سال بعد ہونیوالے  ایونٹ کے لیے ضروری تھا کہ یہ دونوں وینیوز دوبارہ سے ڈیزائن، تعمیر نو یا مرمت کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع پی سی بی کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیڈیم کی تعمیرات میں خرچہ پی سی بی بجٹ سے کیا گیا، اس بجٹ کی منظوری پی سی بی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سوشل میڈیا اور دیگر نیوز پلیٹ فارم پر چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق کرکٹ بورڈ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی سی سی فنانشل اینڈ کمرشل ایفیئرز کمیٹی نے چیمپئنز ٹرافی کے ایونٹ آپریشنز کے اخراجات کے طور پر 70 ملین ڈالرز کی منظوری دی تھی۔</p>
<p>پی سی بی کے مطابق ایونٹ آپریشنز کے اخراجات میں کھلاڑیوں و اہلکاروں کی لاجسٹکس، رہائش، فیس، انعامی رقم، نشریات و پروڈکشن وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ پی سی بی کو 6 ملین ڈالرز کی میزبانی کی فیس وصول ہوئی ہے، پاکستان کو گیٹ منی اور مہمان نوازی سے ہونے والی کمائیاں ابھی ملنی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254960"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع پی سی بی کا کہنا تھا کہ تمام چیمپئنز ٹرافی آپریشنل اخراجات ایونٹ بجٹ سے پورے کیے گئے، پی سی بی کی میزبان فیس سے کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>بورڈ کی جانب سے کہا گیا کہ انفراسٹرکچر بہتر کرنے یا دوبارہ سے بنانے کے لیے اخراجات ہمیشہ میزبان کے ذمہ ہوتے ہیں، احمد آباد اسٹیڈیم کو آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2023 کے آپریشنل اخراجات سے نہیں بنایا گیا تھا۔</p>
<p>پی سی بی کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیم بنانا مستقبل کے لیے ایک سرمایہ کاری تھی جس طرح فیفا ورلڈ کپ اور اولمپکس میں بھی نظر آتی ہے، عالمی ایونٹس کے لیے برانڈ نیو سہولتیں تخلیق کی جاتی ہیں۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ قذافی اسٹیڈیم اور نیشنل کراچی اسٹیڈیم کی آخری اپ گریڈیشن کرکٹ ورلڈ کپ 1996 کے لیے کی گئی تھی جب کہ پاکستان کی میزبانی میں 29 سال بعد ہونیوالے  ایونٹ کے لیے ضروری تھا کہ یہ دونوں وینیوز دوبارہ سے ڈیزائن، تعمیر نو یا مرمت کیے جائیں۔</p>
<p>ذرائع پی سی بی کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیڈیم کی تعمیرات میں خرچہ پی سی بی بجٹ سے کیا گیا، اس بجٹ کی منظوری پی سی بی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1255410</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Mar 2025 17:12:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالغفار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/191710302ed0c9e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/191710302ed0c9e.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: پی سی بی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
