<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 15:20:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 15:20:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے ’ڈیپ سیک‘ کی تلاش میں چین کی نگاہیں ’مینس‘ پر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1255564/</link>
      <description>&lt;p&gt;چینی آرٹیفیشل  انٹیلی جنس اسٹارٹ اپ ’ مینس’  نے منگل کو اپنا پہلا اے آئی اسسٹنٹ رجسٹرڈ  کروالیا،  جس کے بارے میں  پہلی بار سرکاری ذرائع ابلاغ پر بھی رپورٹ نشر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیرملکی خبررساں ادارے  ’رائٹرز ’ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے بیجنگ  کی ان ملکی  اے آئی فرمز کی حمایت کی حکمت عملی ظاہر ہوتی ہے جو عالمی سطح پر شناخت حاصل کرچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی اسٹارٹ اپ  ’ ڈیپ سیک ’ نے اپنے امریکی حریفوں کے ہم پلہ مگر ان سے کم لاگت اے آئی ماڈلز  کے اجرا کے ذریعے سلیکون ویلی کو حیران کردیا ہے اور اب چینی سرمایہ کار اگلے چینی اسٹارٹ اپ کی تلاش میں ہیں جو گلوبل ٹیک آرڈر کو یکسر بدل ڈالے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کچھ سرمایہ کاروں کی نظریں مینس پر ہیں، چند ہفتے قبل اس کمپنی نے  اپنا اے آئی ایجنٹ اس دعوے کے ساتھ ریلیز کیا تھا کہ یہ دنیا کا پہلا جنرل اے آئی ایجنٹ ہے جو ازخود فیصلے کرنے اور مختلف امور خودکار طور پر انجام دینے کی صلاحیت کا حامل ہے اور اسے چیٹ بوٹ اور ڈیپ سیک جیسے چیٹ بوٹس کے مقابلے میں کہیں کم ہدایت لینے کی ضرورت ہوتی ہے، اپنے اے آئی ایجنٹ کے اجرا کے ساتھ ہی  یہ کمپنی ’ ایکس ’ پر وائرل ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ اب عندیہ دے رہا ہے کہ وہ ڈیپ سیک کی طرح ملکی سطح پر مینس کے اے آئی ایجنٹ کی حمایت  کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’  چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن ’ ( سی سی ٹی وی) نے منگل  کو پہلی بار مینس کی خصوصی کوریج دیتے ہوئے اے آئی ایجنٹ اور  ڈیپ سیک کے اے آئی چیٹ بوٹ کے درمیان فرق بیان کرتی ویڈیو نشر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کی مقامی حکومت نے منگل کو اعلان کیا کہ مینس کی ابتدائی پروڈکٹ ’ مونیکا ’ نامی ایک اے آئی اسسٹنٹ کے چینی ورژن نے چین میں  جنریٹیو اے آئی ایپس کے لیے درکار رجسٹریشن مکمل کرلی  ہے، جس کے بعد ایک اہم ضوابطی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں جاری کی جانے والی  تمام جنریٹیو اے آئی ایپلی کیشنز کے لیے ریگولیٹرز کے وضع کردہ سخت اصولوں کی پاسداری کرنا ضروری  ہے جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ ایپلی کیشنز ایسے مواد تخلیق نہ کریں جسے بیجنگ حساس یا تباہ کن سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے مینس نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے ’ کیو ووین ’ اے آئی ماڈلز کی تخلیق کار ٹیم  کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا، اس قدم سے مینس کے ملکی سطح پر ریلیز کیے گئے اے آئی ایجنٹ کو سہارا مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینس کے مطابق یہ اے آئی ایجنٹ صرف انوائٹ کوڈز کے ذریعے آنے والے صارفین کے لیے دستیاب  ہے اور اس اے آئی ایجنٹ  سے مستفید ہونے کے منتظر صارفین کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چینی آرٹیفیشل  انٹیلی جنس اسٹارٹ اپ ’ مینس’  نے منگل کو اپنا پہلا اے آئی اسسٹنٹ رجسٹرڈ  کروالیا،  جس کے بارے میں  پہلی بار سرکاری ذرائع ابلاغ پر بھی رپورٹ نشر کی گئی۔</p>
<p>غیرملکی خبررساں ادارے  ’رائٹرز ’ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے بیجنگ  کی ان ملکی  اے آئی فرمز کی حمایت کی حکمت عملی ظاہر ہوتی ہے جو عالمی سطح پر شناخت حاصل کرچکی ہیں۔</p>
<p>چینی اسٹارٹ اپ  ’ ڈیپ سیک ’ نے اپنے امریکی حریفوں کے ہم پلہ مگر ان سے کم لاگت اے آئی ماڈلز  کے اجرا کے ذریعے سلیکون ویلی کو حیران کردیا ہے اور اب چینی سرمایہ کار اگلے چینی اسٹارٹ اپ کی تلاش میں ہیں جو گلوبل ٹیک آرڈر کو یکسر بدل ڈالے گا۔</p>
<p>ان میں سے کچھ سرمایہ کاروں کی نظریں مینس پر ہیں، چند ہفتے قبل اس کمپنی نے  اپنا اے آئی ایجنٹ اس دعوے کے ساتھ ریلیز کیا تھا کہ یہ دنیا کا پہلا جنرل اے آئی ایجنٹ ہے جو ازخود فیصلے کرنے اور مختلف امور خودکار طور پر انجام دینے کی صلاحیت کا حامل ہے اور اسے چیٹ بوٹ اور ڈیپ سیک جیسے چیٹ بوٹس کے مقابلے میں کہیں کم ہدایت لینے کی ضرورت ہوتی ہے، اپنے اے آئی ایجنٹ کے اجرا کے ساتھ ہی  یہ کمپنی ’ ایکس ’ پر وائرل ہوگئی تھی۔</p>
<p>بیجنگ اب عندیہ دے رہا ہے کہ وہ ڈیپ سیک کی طرح ملکی سطح پر مینس کے اے آئی ایجنٹ کی حمایت  کرے گا۔</p>
<p>چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’  چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن ’ ( سی سی ٹی وی) نے منگل  کو پہلی بار مینس کی خصوصی کوریج دیتے ہوئے اے آئی ایجنٹ اور  ڈیپ سیک کے اے آئی چیٹ بوٹ کے درمیان فرق بیان کرتی ویڈیو نشر کی۔</p>
<p>بیجنگ کی مقامی حکومت نے منگل کو اعلان کیا کہ مینس کی ابتدائی پروڈکٹ ’ مونیکا ’ نامی ایک اے آئی اسسٹنٹ کے چینی ورژن نے چین میں  جنریٹیو اے آئی ایپس کے لیے درکار رجسٹریشن مکمل کرلی  ہے، جس کے بعد ایک اہم ضوابطی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔</p>
<p>چین میں جاری کی جانے والی  تمام جنریٹیو اے آئی ایپلی کیشنز کے لیے ریگولیٹرز کے وضع کردہ سخت اصولوں کی پاسداری کرنا ضروری  ہے جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ ایپلی کیشنز ایسے مواد تخلیق نہ کریں جسے بیجنگ حساس یا تباہ کن سمجھتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے مینس نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے ’ کیو ووین ’ اے آئی ماڈلز کی تخلیق کار ٹیم  کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا، اس قدم سے مینس کے ملکی سطح پر ریلیز کیے گئے اے آئی ایجنٹ کو سہارا مل سکتا ہے۔</p>
<p>مینس کے مطابق یہ اے آئی ایجنٹ صرف انوائٹ کوڈز کے ذریعے آنے والے صارفین کے لیے دستیاب  ہے اور اس اے آئی ایجنٹ  سے مستفید ہونے کے منتظر صارفین کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1255564</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Mar 2025 10:24:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/211719310f77fee.gif?r=172112" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/211719310f77fee.gif?r=172112"/>
        <media:title>فوٹو؛ ویب سائٹ مینس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
