<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Karachi</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 05:42:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 05:42:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: شاہراہ فیصل پر واقع پلازہ میں آگ بھڑک اٹھی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1255567/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کے علاقے  شاہراہ فیصل پر واقع پلازہ میں آگ بھڑک اٹھی، فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، ریسکیو آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو 1122  کے ترجمان  نے ایک بیان میں بتایا کہ شاہراہ فیصل پر واقع کاوش پلازہ میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد  ریسکیو 1122 کا ریسکیوآپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاوش پلازہ کے مکین چھت پر چڑھ گئے، جنہیں جلد ریسکیو کر لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر آگ دوسری منزل پر رکھے ہوئے جنریٹر میں لگی جس کے بعد دھواں پھیلنے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے بیان کے مطابق سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول ریسکیو 1122 کو  آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم ایک ایمبولینس اور تین فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھی،  ترجمان کے مطابق ریسکیو 1122 آگ پر جلد از جلد قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کے صوبائی وزیر برائے آبادکاری مخدوم محبوب الزماں کے ترجمان کے مطابق صوبائی وزیر نے ریسکیو آپریشن کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی جیسے  میٹروپولیٹن شہر میں عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے مناسب اقدامات نہ کیے جانے کے باعث آتشزدگی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ کلفٹن کے علاقے میں واقع ایک تجارتی عمارت میں صبح کے وقت آگ  بھڑک اٹھنے کے نتیجے میں 30 دکانوں کو شدید نقصان پہنچا تھا، اس حادثے میں 4 افراد بشمول ایک فائر فائٹر دھویں سے متاثر ہوئے تھے جبکہ 12 فائرٹینڈرز چار گھنٹے کے بعد آگ پر قابو پاسکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس فروری میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن ( کے ایم سی ) نے سندھ ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی تھی کہ اس نے 265  تجارتی عمارتوں  کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا  جن میں سے  کسی ایک عمارت میں بھی فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ  کی طرف سے جاری کردہ فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ یا این او سی موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایم سی کی رپورٹ کے مطابق 265  عمارتوں میں سے تقریباً 155 میں فائر الارم  اور اسموک ڈٹیکٹر نصب نہیں  تھے جب  کہ 9 عمارتوں کی فائر الارم اور اسموک ڈٹیکٹر کی تنصیب کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح  155 سے زائد عمارتوں میں وائرنگ اور برقی سسٹم کی صورتحال غیرتسلی بخش قرار دی گئی تھی،  فائرفائٹنگ کے آلات تک رسائی کے حوالے سے رپورٹ میں  بتایا گیا کہ 200 کے لگ بھگ عمارتوں میں سرے سے کوئی فائرفائٹنگ آلات موجود نہیں  تھے یا پھر ان  آلات کی حالت غیرتسلی بخش تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکام کو  یہ یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی کہ متعلقہ ٹیمیں شہر کے تمام شاپنگ مالز میں جاکر حفاظتی معیارات کو یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی بینچ نے شہر میں حالیہ دنوں میں شاپنگ مالز اور عمارتوں میں رونما ہونے والے آتشزدگی کے واقعات پر اظہار ناراضی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے یہ ہدایات 2023 میں راشد منہاس روڈ پر واقع شاپنگ مال میں آتش زدگی کے مقدمے میں جاری کی تھیں، آر جے شاپنگ مال میں آتش زدگی کا یہ واقعہ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث رونما ہوا تھا جس میں  کم از کم 11 افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کے علاقے  شاہراہ فیصل پر واقع پلازہ میں آگ بھڑک اٹھی، فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، ریسکیو آپریشن جاری ہے۔</p>
<p>ریسکیو 1122  کے ترجمان  نے ایک بیان میں بتایا کہ شاہراہ فیصل پر واقع کاوش پلازہ میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد  ریسکیو 1122 کا ریسکیوآپریشن جاری ہے۔</p>
<p>کاوش پلازہ کے مکین چھت پر چڑھ گئے، جنہیں جلد ریسکیو کر لیا جائے گا۔</p>
<p>بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر آگ دوسری منزل پر رکھے ہوئے جنریٹر میں لگی جس کے بعد دھواں پھیلنے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔</p>
<p>ترجمان کے بیان کے مطابق سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول ریسکیو 1122 کو  آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم ایک ایمبولینس اور تین فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھی،  ترجمان کے مطابق ریسکیو 1122 آگ پر جلد از جلد قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سندھ کے صوبائی وزیر برائے آبادکاری مخدوم محبوب الزماں کے ترجمان کے مطابق صوبائی وزیر نے ریسکیو آپریشن کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>کراچی جیسے  میٹروپولیٹن شہر میں عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے مناسب اقدامات نہ کیے جانے کے باعث آتشزدگی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ کلفٹن کے علاقے میں واقع ایک تجارتی عمارت میں صبح کے وقت آگ  بھڑک اٹھنے کے نتیجے میں 30 دکانوں کو شدید نقصان پہنچا تھا، اس حادثے میں 4 افراد بشمول ایک فائر فائٹر دھویں سے متاثر ہوئے تھے جبکہ 12 فائرٹینڈرز چار گھنٹے کے بعد آگ پر قابو پاسکے تھے۔</p>
<p>گزشتہ برس فروری میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن ( کے ایم سی ) نے سندھ ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی تھی کہ اس نے 265  تجارتی عمارتوں  کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا  جن میں سے  کسی ایک عمارت میں بھی فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ  کی طرف سے جاری کردہ فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ یا این او سی موجود نہیں تھا۔</p>
<p>کے ایم سی کی رپورٹ کے مطابق 265  عمارتوں میں سے تقریباً 155 میں فائر الارم  اور اسموک ڈٹیکٹر نصب نہیں  تھے جب  کہ 9 عمارتوں کی فائر الارم اور اسموک ڈٹیکٹر کی تنصیب کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔</p>
<p>اسی طرح  155 سے زائد عمارتوں میں وائرنگ اور برقی سسٹم کی صورتحال غیرتسلی بخش قرار دی گئی تھی،  فائرفائٹنگ کے آلات تک رسائی کے حوالے سے رپورٹ میں  بتایا گیا کہ 200 کے لگ بھگ عمارتوں میں سرے سے کوئی فائرفائٹنگ آلات موجود نہیں  تھے یا پھر ان  آلات کی حالت غیرتسلی بخش تھی۔</p>
<p>سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکام کو  یہ یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی کہ متعلقہ ٹیمیں شہر کے تمام شاپنگ مالز میں جاکر حفاظتی معیارات کو یقینی بنائیں۔</p>
<p>عدالتی بینچ نے شہر میں حالیہ دنوں میں شاپنگ مالز اور عمارتوں میں رونما ہونے والے آتشزدگی کے واقعات پر اظہار ناراضی کیا تھا۔</p>
<p>عدالت نے یہ ہدایات 2023 میں راشد منہاس روڈ پر واقع شاپنگ مال میں آتش زدگی کے مقدمے میں جاری کی تھیں، آر جے شاپنگ مال میں آتش زدگی کا یہ واقعہ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث رونما ہوا تھا جس میں  کم از کم 11 افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1255567</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Mar 2025 19:53:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/211807236e92c64.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/211807236e92c64.gif"/>
        <media:title>— فوٹو: اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
