<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:29:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:29:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک سے ڈالر کا اخراج دوگنا ہوگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1255601/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع اور ڈیویڈنڈز کا اخراج دوگنا سے بھی زیادہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1899522/dollar-outflow-doubles"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ مالی سال 25 میں جولائی تا فروری کے دوران منافع کا اخراج 103.94 فیصد بڑھ کر 1.55 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 76 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ منافع کا اخراج پابندیوں میں آسانی کی علامت ہے، لیکن ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تسلی بخش سطح سے نیچے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ڈالر کے اخراج پر اسٹیٹ بینک کی پابندیوں پر تنقید کی تھی، اور آئی ایم ایف نے پاکستان کو ڈیفالٹ جیسی صورتحال سے بچانے کے بعد ملک پر اس پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے زور دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195944"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ آٹھ ماہ کے دوران خوراک کے شعبے سے منافع کا اخراج سب سے زیادہ 29 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، جبکہ توانائی کے شعبے نے اسی عرصے میں 23 کروڑ 30 لاکھ ڈالر باہر بھجوائے۔ فنانس (عام طور پر بینکوں) نے 19 کروڑ 10 لاکھ ڈالر واپس بھیجے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 11.14 ارب ڈالر ہیں جو بڑھتی ہوئی درآمدات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ خوش قسمتی سے، پاکستان پہلے ہی ترسیلات زر کے ذریعے گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 ارب ڈالر زیادہ وصول کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ملک کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے سالانہ 25 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جس میں 5 ارب ڈالر کا سود بھی شامل ہے۔ حکومت ہر سال مزید قرض لینے اور بیرونی قرضوں کو رول اوور کرانے میں مصروف رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’اڑان پاکستان‘ پروگرام کے تحت ملکی برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع اور ڈیویڈنڈز کا اخراج دوگنا سے بھی زیادہ ہوگیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1899522/dollar-outflow-doubles"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ مالی سال 25 میں جولائی تا فروری کے دوران منافع کا اخراج 103.94 فیصد بڑھ کر 1.55 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 76 کروڑ ڈالر تھا۔</p>
<p>زیادہ منافع کا اخراج پابندیوں میں آسانی کی علامت ہے، لیکن ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تسلی بخش سطح سے نیچے رہے ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ڈالر کے اخراج پر اسٹیٹ بینک کی پابندیوں پر تنقید کی تھی، اور آئی ایم ایف نے پاکستان کو ڈیفالٹ جیسی صورتحال سے بچانے کے بعد ملک پر اس پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے زور دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195944"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ آٹھ ماہ کے دوران خوراک کے شعبے سے منافع کا اخراج سب سے زیادہ 29 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، جبکہ توانائی کے شعبے نے اسی عرصے میں 23 کروڑ 30 لاکھ ڈالر باہر بھجوائے۔ فنانس (عام طور پر بینکوں) نے 19 کروڑ 10 لاکھ ڈالر واپس بھیجے۔</p>
<p>اس وقت اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 11.14 ارب ڈالر ہیں جو بڑھتی ہوئی درآمدات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ خوش قسمتی سے، پاکستان پہلے ہی ترسیلات زر کے ذریعے گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 ارب ڈالر زیادہ وصول کر چکا ہے۔</p>
<p>تاہم ملک کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے سالانہ 25 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جس میں 5 ارب ڈالر کا سود بھی شامل ہے۔ حکومت ہر سال مزید قرض لینے اور بیرونی قرضوں کو رول اوور کرانے میں مصروف رہتی ہے۔</p>
<p>حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’اڑان پاکستان‘ پروگرام کے تحت ملکی برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1255601</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Mar 2025 10:54:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/22104454ada0d7b.png?r=104801" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/22104454ada0d7b.png?r=104801"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
