<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 05:33:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 05:33:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ: 19 سالہ لڑکی کو زیادتی کے بعد قتل کرنیوالے ملزم کی عمر قید کی سزا ختم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1255614/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ نے 19 سالہ لڑکی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں سزا پانے والے ملزم کو بری کردیا، ملزم محمد عارف کی عمر قید اور چودہ برس قید کی سزا کالعدم قرار دے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق جسٹس طارق ندیم نے ملزم محمد عارف کی سزا کے خلاف اپیل پر 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ڈی این اے کا کردار بہت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ڈی این اے رپورٹ قانون کے مطابق ہے بھی یا نہیں، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ڈی این اے سیپمل محفوظ طریقے سے فرانزک کے لیے بھجوائے گئے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ڈی این اے سیمپل محفوظ طریقے سے منتقل نہ ہوں تو اس کی رپورٹ پر بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے خلاف پیش کے گئے شواہد میں سنجیدہ قانونی نقائص ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1072282"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم محمد عارف پر 2019 میں زیادتی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا،  کوئی بھی گواہ واقعے کے وقت موقع پر موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 گواہوں نے بیان دیا کہ انہوں نے لڑکی کو ملزم کے ہمراہ کھیتوں کی طرف جاتے دیکھا تھا،  ایسے گواہوں کو قانون کی نظر میں انتہائی کمزور گواہ جانا جاتا ہے، میڈیکل رپورٹ میں لڑکی سے زیادتی کے کوئی شواہد نہیں ملے، عدالت ملزم کی سزا کالعدم قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائیکورٹ نے 19 سالہ لڑکی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں سزا پانے والے ملزم کو بری کردیا، ملزم محمد عارف کی عمر قید اور چودہ برس قید کی سزا کالعدم قرار دے دی گئی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق جسٹس طارق ندیم نے ملزم محمد عارف کی سزا کے خلاف اپیل پر 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ڈی این اے کا کردار بہت اہم ہے۔</p>
<p>عدالتوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ڈی این اے رپورٹ قانون کے مطابق ہے بھی یا نہیں، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ڈی این اے سیپمل محفوظ طریقے سے فرانزک کے لیے بھجوائے گئے یا نہیں۔</p>
<p>اگر ڈی این اے سیمپل محفوظ طریقے سے منتقل نہ ہوں تو اس کی رپورٹ پر بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے خلاف پیش کے گئے شواہد میں سنجیدہ قانونی نقائص ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1072282"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ملزم محمد عارف پر 2019 میں زیادتی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا،  کوئی بھی گواہ واقعے کے وقت موقع پر موجود نہیں تھا۔</p>
<p>2 گواہوں نے بیان دیا کہ انہوں نے لڑکی کو ملزم کے ہمراہ کھیتوں کی طرف جاتے دیکھا تھا،  ایسے گواہوں کو قانون کی نظر میں انتہائی کمزور گواہ جانا جاتا ہے، میڈیکل رپورٹ میں لڑکی سے زیادتی کے کوئی شواہد نہیں ملے، عدالت ملزم کی سزا کالعدم قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دیتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1255614</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Mar 2025 15:12:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/221435472dc1aed.jpg?r=143846" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/221435472dc1aed.jpg?r=143846"/>
        <media:title>2 گواہوں نے بیان دیا کہ انہوں نے لڑکی کو ملزم کے ہمراہ کھیتوں کی طرف جاتے دیکھا تھا
—فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
