<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 14:57:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 14:57:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلاول بھٹو پی ٹی آئی کو راضی کرلیں تو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے میں حرج نہیں، رانا ثنا اللہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1255840/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور  رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ  بلاول بھٹو پی ٹی آئی کو  راضی کرلیں تو قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے میں  کوئی حرج نہیں ہے، اگر وہ کامیاب ہوجاتے ہیں  تو ہم اسے اپنی کامیابی سمجھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیو نیوز کے پروگرام ’ جیو پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے پیپلزپارٹی کی جانب سے ثالثی کی پیش کش  کے حوالے  سے کہا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری پی ٹی آئی کی رضامندی حاصل کرلیں تو  قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی  کا دوبارہ اجلاس بلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ ایک ایسا بنیادی اور انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ ہے کہ اس کے اوپر جتنے بھی زیادہ سے زیادہ اجلاس ہوں اور جتنی بھی بات چیت ہو تو وہ سود مند ہی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردوں کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کے لیے قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کا  اجلاس  پارلیمنٹ ہاؤس میں  بلایا گیا تھا، جس میں  آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف  بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا اور  اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو شرکت کرنے والے اپنے ارکان کی فہرست بھجوا دی  تھی، تاہم  بعد میں اجلاس سے قبل  پی ٹی آئی نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے  کہا تھا کہ ہم  نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا ہے، ہم اس وقت کسی بھی آپریشن کے حق میں نہیں ہیں، 77 سالوں سے ان حالات کا شکار ہیں اور ان حالات کے حق میں نہیں ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو پے رول پر رہا کیا جائے، ہم نے اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے اور فسطائیت کا خاتمہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام میں گفتگو کرتے  ہوئے رانا ثنا کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اگر دوبارہ کوشش کریں اور پھر اجلاس میں وہ لوگ بھی شامل ہوں جو پہلے شامل نہیں تھے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اس میں پی ٹی آئی کے علاوہ محمود خان اچکزئی ہیں، اخترمینگل ہیں، ڈاکٹر مالک ہیں، یہ سب اہم لوگ ہیں، اور اگربلوچستان کی  مقامی لیڈرشپ کو بھی شامل کرلیا جائے  تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہتری آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ  بلاول بھٹو خود حکومت ہیں، حکومت کوئی ان سے علیٰحدہ تو نہیں ہے، اور اگر ان کا رابطہ پی ٹی آئی سے ہوجاتا ہے اور اگر وہ مذاکرات کی کوشش میں کامیاب  ہوجاتے ہیں تو ہم سمجھیں گے  کہ یہ ہماری کامیابی ہے۔ اور بلاول بھٹو کی اس کوشش کو وزیراعظم بھی ویلکم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255300"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ ہم خود تو اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے،  ہم نے تو مذاکراتی کمیٹی بھی بنائی تھی جس کے ساتھ دو اجلاس کیے گئےمگر تیسری میٹنگ کے لیے انہوں ( پی ٹی آئی) نے کہا کہ ہم تیسری میٹنگ نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کی سزا کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ میں نے جو بات کی تھی وہ اس پیرائے میں کی تھی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ اگر 9  مئی کے معاملات پر بات کرنی ہے تو پہلے صدق دل سے معذرت کریں، تو اس سے صورتحال بہتری کی طرف جا سکتی ہے اور جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا ثنا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ہمارے ساتھ جو مخالفت ہے اسے بھی انہوں نے سیاسی مخالفت سے دشمنی میں تبدیل کیا ہے،  یہ ان کا سارا کیا دھرا ہے،  انہوں نے سیاسی اختلاف رائے کو ہمیشہ دشمنی کے معنوں میں سمجھا ہے، اس وقت پی ٹی آئی کا  جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رویہ ہے اور جو ان کا سوشل میڈیا کررہا ہے، یہ چیزیں ان رویوں میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں جن رویوں  کا کسی کو گلہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254996"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیکا آرڈیننس پر نظرثانی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ قابل بحث معاملہ ہے اس پر بات چیت ہونی چاہیے، جو صحافتی تنظیمیں اور ان کے لیڈران ہیں انہیں ہمارے ساتھ بیٹھنا چاہیے، اس کی ضرورت تو ہے کیونکہ سوشل میڈیا کے اوپر جو کچھ ہورہا ہے  اسے ایسے ہی نہیں چھوڑا جاسکتا،  تاہم یہ شکایت بھی جائز ہے کہ یہ قانون کسی حد تک مس یوز ہوگا،  اس پر احتجاج تو ہورہا ہے لیکن اس پر گفتگو نہیں ہوسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے  مسئلے کے حل کے حوالے  سے سوال  پر وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ  جن لوگوں نے ہتھیار اٹھائے ہوئے  ہیں اور جو قتل و غارت گری اور دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے،  ان کے خلاف سخت سے سخت آپریشن ہونا چاہیے۔ ان لوگوں کے ساتھ بات ہونی چاہیے جو پاکستان پر یقین رکھتے ہیں اور بلوچستان کی ترقی چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور  رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ  بلاول بھٹو پی ٹی آئی کو  راضی کرلیں تو قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے میں  کوئی حرج نہیں ہے، اگر وہ کامیاب ہوجاتے ہیں  تو ہم اسے اپنی کامیابی سمجھیں گے۔</p>
<p>جیو نیوز کے پروگرام ’ جیو پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے پیپلزپارٹی کی جانب سے ثالثی کی پیش کش  کے حوالے  سے کہا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری پی ٹی آئی کی رضامندی حاصل کرلیں تو  قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی  کا دوبارہ اجلاس بلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ ایک ایسا بنیادی اور انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ ہے کہ اس کے اوپر جتنے بھی زیادہ سے زیادہ اجلاس ہوں اور جتنی بھی بات چیت ہو تو وہ سود مند ہی ہوگی۔</p>
<p>واضح رہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردوں کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کے لیے قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کا  اجلاس  پارلیمنٹ ہاؤس میں  بلایا گیا تھا، جس میں  آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف  بھی شریک تھے۔</p>
<p>ابتدائی طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا اور  اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو شرکت کرنے والے اپنے ارکان کی فہرست بھجوا دی  تھی، تاہم  بعد میں اجلاس سے قبل  پی ٹی آئی نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے  کہا تھا کہ ہم  نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا ہے، ہم اس وقت کسی بھی آپریشن کے حق میں نہیں ہیں، 77 سالوں سے ان حالات کا شکار ہیں اور ان حالات کے حق میں نہیں ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو پے رول پر رہا کیا جائے، ہم نے اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے اور فسطائیت کا خاتمہ کرنا ہے۔</p>
<p>پروگرام میں گفتگو کرتے  ہوئے رانا ثنا کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اگر دوبارہ کوشش کریں اور پھر اجلاس میں وہ لوگ بھی شامل ہوں جو پہلے شامل نہیں تھے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اس میں پی ٹی آئی کے علاوہ محمود خان اچکزئی ہیں، اخترمینگل ہیں، ڈاکٹر مالک ہیں، یہ سب اہم لوگ ہیں، اور اگربلوچستان کی  مقامی لیڈرشپ کو بھی شامل کرلیا جائے  تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہتری آسکتی ہے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ  بلاول بھٹو خود حکومت ہیں، حکومت کوئی ان سے علیٰحدہ تو نہیں ہے، اور اگر ان کا رابطہ پی ٹی آئی سے ہوجاتا ہے اور اگر وہ مذاکرات کی کوشش میں کامیاب  ہوجاتے ہیں تو ہم سمجھیں گے  کہ یہ ہماری کامیابی ہے۔ اور بلاول بھٹو کی اس کوشش کو وزیراعظم بھی ویلکم کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255300"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انھوں نے کہا کہ ہم خود تو اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے،  ہم نے تو مذاکراتی کمیٹی بھی بنائی تھی جس کے ساتھ دو اجلاس کیے گئےمگر تیسری میٹنگ کے لیے انہوں ( پی ٹی آئی) نے کہا کہ ہم تیسری میٹنگ نہیں کریں گے۔</p>
<p>عمران خان کی سزا کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ میں نے جو بات کی تھی وہ اس پیرائے میں کی تھی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ اگر 9  مئی کے معاملات پر بات کرنی ہے تو پہلے صدق دل سے معذرت کریں، تو اس سے صورتحال بہتری کی طرف جا سکتی ہے اور جانی چاہیے۔</p>
<p>رانا ثنا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ہمارے ساتھ جو مخالفت ہے اسے بھی انہوں نے سیاسی مخالفت سے دشمنی میں تبدیل کیا ہے،  یہ ان کا سارا کیا دھرا ہے،  انہوں نے سیاسی اختلاف رائے کو ہمیشہ دشمنی کے معنوں میں سمجھا ہے، اس وقت پی ٹی آئی کا  جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رویہ ہے اور جو ان کا سوشل میڈیا کررہا ہے، یہ چیزیں ان رویوں میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں جن رویوں  کا کسی کو گلہ ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254996"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پیکا آرڈیننس پر نظرثانی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ قابل بحث معاملہ ہے اس پر بات چیت ہونی چاہیے، جو صحافتی تنظیمیں اور ان کے لیڈران ہیں انہیں ہمارے ساتھ بیٹھنا چاہیے، اس کی ضرورت تو ہے کیونکہ سوشل میڈیا کے اوپر جو کچھ ہورہا ہے  اسے ایسے ہی نہیں چھوڑا جاسکتا،  تاہم یہ شکایت بھی جائز ہے کہ یہ قانون کسی حد تک مس یوز ہوگا،  اس پر احتجاج تو ہورہا ہے لیکن اس پر گفتگو نہیں ہوسکی۔</p>
<p>بلوچستان کے  مسئلے کے حل کے حوالے  سے سوال  پر وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ  جن لوگوں نے ہتھیار اٹھائے ہوئے  ہیں اور جو قتل و غارت گری اور دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے،  ان کے خلاف سخت سے سخت آپریشن ہونا چاہیے۔ ان لوگوں کے ساتھ بات ہونی چاہیے جو پاکستان پر یقین رکھتے ہیں اور بلوچستان کی ترقی چاہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1255840</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Mar 2025 21:00:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/25204933a77983c.jpg?r=205203" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/25204933a77983c.jpg?r=205203"/>
        <media:title>فوٹو: اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/2520513851f6016.png?r=205203" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/2520513851f6016.png?r=205203"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
