<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 28 May 2026 00:06:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 28 May 2026 00:06:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی سپریم کورٹ سے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے قانون پر عارضی پابندی ختم کرنے کی درخواست</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1256072/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ  سے وینزویلا کے تارکین وطن کوملک بدر کرنے کے لیے ’ ایلین اینیمز ایکٹ ’ پر عارضی پابندی کو ختم کرنے کی درخواست کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے 1798  کے ’ ایلین اینیمز ایکٹ ’  کے تحت لوگوں کی ملک بدری پر  عدالت کی جانب سے پابندی کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ انصاف نے ایک درخواست میں عدالت سے واشنگٹن میں مقیم امریکی ڈسٹرکٹ جج جیمز بوسبرگ کے 15 مارچ کے حکم کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے جس میں وینزویلا کے تارکین وطن  کو ملک بدر کرنے پر عارضی پابندی   عائد کی گئی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ کے ’ ایلین اینیمیز ایکٹ ’  کے تحت ملک بدری کو جائز قرار دینے کے لیے قانونی جنگ بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255659"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 18 ویں صدی کا یہ قانون تاریخی طور پر صرف جنگ کے دوران استعمال کیا گیا ہے۔
محکمہ انصاف نے جمعہ کو دائر کردہ اپنی درخواست میں کہا  ہے  کہ یہ کیس اس سوال کو پیش کرتا ہے کہ حساس قومی سلامتی سے متعلق آپریشنز کو  صدر یا عدلیہ میں سے کسے انجام دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سرکٹ کے امریکی اپیل کورٹ نے جج  کے ملک بدری کے اس قانون کے استعمال پر عارضی پابندی کو برقرار رکھا جب کہ کیس میں کارروائی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازعہ  کے بعد ٹرمپ وفاقی عدالتوں کے خلاف شکایات  کرتے نظر آرہے ہیں جنہوں نے ٹرمپ کے ایجنڈے کے  مختلف حصوں  پر عمل درآمد کو  روکنے والے درجنوں فیصلے جاری کیے ہیں۔
.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ  سے وینزویلا کے تارکین وطن کوملک بدر کرنے کے لیے ’ ایلین اینیمز ایکٹ ’ پر عارضی پابندی کو ختم کرنے کی درخواست کردی۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے 1798  کے ’ ایلین اینیمز ایکٹ ’  کے تحت لوگوں کی ملک بدری پر  عدالت کی جانب سے پابندی کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔</p>
<p>امریکی محکمہ انصاف نے ایک درخواست میں عدالت سے واشنگٹن میں مقیم امریکی ڈسٹرکٹ جج جیمز بوسبرگ کے 15 مارچ کے حکم کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے جس میں وینزویلا کے تارکین وطن  کو ملک بدر کرنے پر عارضی پابندی   عائد کی گئی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ کے ’ ایلین اینیمیز ایکٹ ’  کے تحت ملک بدری کو جائز قرار دینے کے لیے قانونی جنگ بھی جاری ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255659"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ 18 ویں صدی کا یہ قانون تاریخی طور پر صرف جنگ کے دوران استعمال کیا گیا ہے۔
محکمہ انصاف نے جمعہ کو دائر کردہ اپنی درخواست میں کہا  ہے  کہ یہ کیس اس سوال کو پیش کرتا ہے کہ حساس قومی سلامتی سے متعلق آپریشنز کو  صدر یا عدلیہ میں سے کسے انجام دینا ہے۔</p>
<p>بدھ کے روز، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سرکٹ کے امریکی اپیل کورٹ نے جج  کے ملک بدری کے اس قانون کے استعمال پر عارضی پابندی کو برقرار رکھا جب کہ کیس میں کارروائی جاری ہے۔</p>
<p>اس تنازعہ  کے بعد ٹرمپ وفاقی عدالتوں کے خلاف شکایات  کرتے نظر آرہے ہیں جنہوں نے ٹرمپ کے ایجنڈے کے  مختلف حصوں  پر عمل درآمد کو  روکنے والے درجنوں فیصلے جاری کیے ہیں۔
.</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1256072</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Mar 2025 22:45:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/03/282244526b69c5f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/03/282244526b69c5f.jpg"/>
        <media:title>فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
