<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 13:59:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 13:59:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، اسرائیل پر تنقید، ویزا درخواست گزاروں کے ’سوشل میڈیا کی جانچ‘ کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1256271/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے دوسرے ممالک میں موجود سفارتکاروں کو ان افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے اسٹوڈنٹ یا کسی اور ویزا کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان لوگوں کو روکنا ہے جو امریکا یا اسرائیل پر تنقید کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/2025/04/01/us/politics/student-visas-social-media.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مارکو روبیو نے یہ ہدایات ایک طویل کیبل کے ذریعے 25 مارچ کو دوسرے ممالک میں موجود سفارتی مشنز کو بھیجی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255736"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی مشنز کو بھیجے جانے والے کیبل کی معلومات رکھنے والے دو امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ مارکو روبیو کی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ’فوری طور پر قونصلر افسر کو بعض طلبہ اور وزیٹر ویزا میں تبدیلی کی درخواست دینے والوں کو  ’لازمی سوشل میڈیا جانچ‘ کے لیے ’فراڈ پریوینشن یونٹ‘ بھیجنا ہوگا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارت خانے یا قونصل خانے کے قونصلر امور کے سیکشن کا فراڈ پریوینشن یونٹ، جو ویزا جاری کرتا ہے، درخواست دہندگان کی اسکریننگ میں مدد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سیکریٹری خارجہ کے کیبل میں ان وسیع قواعد کی وضاحت کی گئی ہے جو سفارت کاروں کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے کہ آیا ویزا سے انکار کرنا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے 16 مارچ کو ’سی بی ایس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہم اپنے ملک میں ایسے لوگ نہیں چاہتے جو جرائم کا ارتکاب کریں اور ہماری قومی سلامتی یا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچائیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255659"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ کی جانب سے یہ حکم نامہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک بدری کی کوششوں میں توسیع کر رہے ہیں، جن میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت میں بولنے والے طلبہ بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کچھ غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی مہم شروع کرنے کے انتظامی احکامات پر دستخط کرنے کے نو ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو امریکی ’شہریوں، ثقافت، حکومت، اداروں یا بنیادی اصولوں‘ کے حوالے سے ’دشمنی پر مبنی رویہ‘ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے کریک ڈاؤن بھی شروع کر چکے ہیں جو ان کے مطابق ’یہود مخالف‘ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف ہے، جس میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف جامعات میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے دوسرے ممالک میں موجود سفارتکاروں کو ان افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے اسٹوڈنٹ یا کسی اور ویزا کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان لوگوں کو روکنا ہے جو امریکا یا اسرائیل پر تنقید کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/2025/04/01/us/politics/student-visas-social-media.html"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق مارکو روبیو نے یہ ہدایات ایک طویل کیبل کے ذریعے 25 مارچ کو دوسرے ممالک میں موجود سفارتی مشنز کو بھیجی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255736"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سفارتی مشنز کو بھیجے جانے والے کیبل کی معلومات رکھنے والے دو امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ مارکو روبیو کی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ’فوری طور پر قونصلر افسر کو بعض طلبہ اور وزیٹر ویزا میں تبدیلی کی درخواست دینے والوں کو  ’لازمی سوشل میڈیا جانچ‘ کے لیے ’فراڈ پریوینشن یونٹ‘ بھیجنا ہوگا۔‘</p>
<p>سفارت خانے یا قونصل خانے کے قونصلر امور کے سیکشن کا فراڈ پریوینشن یونٹ، جو ویزا جاری کرتا ہے، درخواست دہندگان کی اسکریننگ میں مدد کرتا ہے۔</p>
<p>امریکی سیکریٹری خارجہ کے کیبل میں ان وسیع قواعد کی وضاحت کی گئی ہے جو سفارت کاروں کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے کہ آیا ویزا سے انکار کرنا ہے یا نہیں۔</p>
<p>مارکو روبیو نے 16 مارچ کو ’سی بی ایس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہم اپنے ملک میں ایسے لوگ نہیں چاہتے جو جرائم کا ارتکاب کریں اور ہماری قومی سلامتی یا عوامی سلامتی کو نقصان پہنچائیں۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255659"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ کی جانب سے یہ حکم نامہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک بدری کی کوششوں میں توسیع کر رہے ہیں، جن میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت میں بولنے والے طلبہ بھی شامل ہیں۔</p>
<p>یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کچھ غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی مہم شروع کرنے کے انتظامی احکامات پر دستخط کرنے کے نو ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو امریکی ’شہریوں، ثقافت، حکومت، اداروں یا بنیادی اصولوں‘ کے حوالے سے ’دشمنی پر مبنی رویہ‘ رکھتے ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے کریک ڈاؤن بھی شروع کر چکے ہیں جو ان کے مطابق ’یہود مخالف‘ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف ہے، جس میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف جامعات میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنا بھی شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1256271</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Apr 2025 09:55:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/0209442738ac054.jpg?r=094700" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/0209442738ac054.jpg?r=094700"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
