<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:04:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:04:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ڈیڈ لائن میں توسیع‘ کی الجھن کے درمیان افغان باشندوں کی ملک بدری کا عمل آج شروع ہوگا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1256302/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز (اے سی سی) کے حامل افراد کے لیے رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی، افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجنے کا دوسرا مرحلہ آج (جمعرات) سے شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1901761/deportations-begin-today-amid-deadline-extension-confusion"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حکومت نے اے سی سی ہولڈرز کی وطن واپسی کی آخری تاریخ 31 مارچ مقرر کی تھی اور عالمی برادری کی جانب سے ڈیڈ لائن میں توسیع کے مطالبے کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور میں افغان کمشنریٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ اگرچہ ڈیڈ لائن 31 مارچ تھی، لیکن صوبائی حکومت نے عید الفطر کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں 2 اپریل تک توسیع کردی، اب دوسرا مرحلہ (جمعرات) سے شروع ہوگا اور ہم نے لنڈی کوتل اور ناصر باغ روڈ پر ایک ایک کیمپ قائم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عید کی وجہ سے 2 دن کی نرمی نے سرکاری حلقوں میں کچھ الجھن پیدا کردی تھی، کچھ ذرائع نے مشورہ دیا کہ وطن واپسی کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256184"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق عید کی تعطیلات کی وجہ سے ڈیڈ لائن میں اگلے ہفتے کے آغاز تک توسیع کردی گئی، جب کہ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے دعویٰ کیا کہ گرفتاریوں اور ملک بدری کو 10 اپریل تک روک دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جڑواں شہروں میں قانون نافذ کرنے والے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغانوں کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن خاموشی سے 10 اپریل تک بڑھا دی گئی ہے، اور سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں توسیع نہیں کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="یو-این-ایچ-سی-آر-کے-خدشات" href="#یو-این-ایچ-سی-آر-کے-خدشات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;یو این ایچ سی آر کے خدشات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 69 ہزار 494 خاندانوں کو افغانستان واپس بھیجا جا چکا ہے جن میں 4 لاکھ 73 ہزار 397 افراد شامل ہیں، جن میں ایک لاکھ 57 ہزار 513 مرد، ایک لاکھ 11 ہزار 381 خواتین اور ایک لاکھ 97 ہزار 821 بچے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے ادارے کو حکومت کی ہدایت پر تشویش ہے، کیونکہ افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز میں ایسے افراد ہوسکتے ہیں جنہیں بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254637"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں ہم حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ان کی صورت حال کو انسانی ہمدردی کی نظر سے دیکھے، ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے پر بھی زور دیتے ہیں تاکہ واپسی باوقار اور رضاکارانہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، افغان وزیر برائے مہاجرین مولوی عبدالکبیر نے پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی سلوک پر زور دیا، خاص طور پر سرحدی ممالک کی جانب سے افغانوں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاعات کی روشنی میں، جن میں قانونی ویزا رکھنے والے افراد کو بھی ملک بدر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں عبوری افغان حکومت نے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا اور پاکستان اور ایران پر زور دیا کہ وہ جبری جلاوطنی بند کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز (اے سی سی) کے حامل افراد کے لیے رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی، افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجنے کا دوسرا مرحلہ آج (جمعرات) سے شروع ہوگا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1901761/deportations-begin-today-amid-deadline-extension-confusion"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق حکومت نے اے سی سی ہولڈرز کی وطن واپسی کی آخری تاریخ 31 مارچ مقرر کی تھی اور عالمی برادری کی جانب سے ڈیڈ لائن میں توسیع کے مطالبے کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا۔</p>
<p>پشاور میں افغان کمشنریٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ اگرچہ ڈیڈ لائن 31 مارچ تھی، لیکن صوبائی حکومت نے عید الفطر کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں 2 اپریل تک توسیع کردی، اب دوسرا مرحلہ (جمعرات) سے شروع ہوگا اور ہم نے لنڈی کوتل اور ناصر باغ روڈ پر ایک ایک کیمپ قائم کیا ہے۔</p>
<p>عید کی وجہ سے 2 دن کی نرمی نے سرکاری حلقوں میں کچھ الجھن پیدا کردی تھی، کچھ ذرائع نے مشورہ دیا کہ وطن واپسی کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256184"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق عید کی تعطیلات کی وجہ سے ڈیڈ لائن میں اگلے ہفتے کے آغاز تک توسیع کردی گئی، جب کہ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے دعویٰ کیا کہ گرفتاریوں اور ملک بدری کو 10 اپریل تک روک دیا گیا ہے۔</p>
<p>جڑواں شہروں میں قانون نافذ کرنے والے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغانوں کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن خاموشی سے 10 اپریل تک بڑھا دی گئی ہے، اور سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔</p>
<p>تاہم وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں توسیع نہیں کی گئی ہے۔</p>
<h1><a id="یو-این-ایچ-سی-آر-کے-خدشات" href="#یو-این-ایچ-سی-آر-کے-خدشات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>یو این ایچ سی آر کے خدشات</h1>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 69 ہزار 494 خاندانوں کو افغانستان واپس بھیجا جا چکا ہے جن میں 4 لاکھ 73 ہزار 397 افراد شامل ہیں، جن میں ایک لاکھ 57 ہزار 513 مرد، ایک لاکھ 11 ہزار 381 خواتین اور ایک لاکھ 97 ہزار 821 بچے شامل ہیں۔</p>
<p>یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے ادارے کو حکومت کی ہدایت پر تشویش ہے، کیونکہ افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز میں ایسے افراد ہوسکتے ہیں جنہیں بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254637"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس تناظر میں ہم حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ان کی صورت حال کو انسانی ہمدردی کی نظر سے دیکھے، ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے پر بھی زور دیتے ہیں تاکہ واپسی باوقار اور رضاکارانہ ہو سکے۔</p>
<p>دریں اثنا، افغان وزیر برائے مہاجرین مولوی عبدالکبیر نے پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی سلوک پر زور دیا، خاص طور پر سرحدی ممالک کی جانب سے افغانوں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاعات کی روشنی میں، جن میں قانونی ویزا رکھنے والے افراد کو بھی ملک بدر کیا گیا تھا۔</p>
<p>ایک بیان میں عبوری افغان حکومت نے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا اور پاکستان اور ایران پر زور دیا کہ وہ جبری جلاوطنی بند کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1256302</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Apr 2025 12:22:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمر فاروق)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/03084955cf1b5d7.jpg?r=122223" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/03084955cf1b5d7.jpg?r=122223"/>
        <media:title>ملک بدری کا سامنا کرنیوالے افغانوں کیلئے قائم کیمپ، جس کے اردگرد باڑ لگائی گئی ہے — فوٹو: ڈان، اسکرین گریب (خیبر کرونیکلز)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
