<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:13:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:13:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں ٹک ٹاک کی فروخت کا معاملہ طے نہ ہوسکا، 5 اپریل کو بند ہونے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1256406/</link>
      <description>&lt;p&gt;چینی شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی امریکی سروسز کی خرید و فروخت کا معاملہ طے نہ ہوسکا، ایک بار ایپلی کیشن کے امریکا میں عارضی طور پر 5 اپریل کو بند ہونے کے امکانات ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت نے قومی سلامتی کا خطرہ قرار دیتے ہوئے ٹک ٹاک کی امریکی سروسز کو کسی بھی امریکی شہری یا کمپنی کو فروخت کرنے سے متعلق قانون بنا رکھا ہے، اگر ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز مقامی فرد یا کمپنی کو فروخت نہیں کیے جاتے تو اسے امریکا میں بند کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251139"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ قانون 20 جنوری 2025 کو نافذ العمل ہوچکا تھا لیکن نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون کو 75 دن تک منسوخ کردیا تھا اور اب 5 اپریل کی شب تک 75 دن کی مدت مکمل ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مدت بڑھائے جانے کے باوجود ٹک ٹاک کی فروخت کا معاملہ طے نہ ہوسکا اور اب 5 اپریل کو اس کے عارضی طور پر امریکا میں بند ہونے کے امکانات ہیں، تاہم ساتھ ہی خیال کیا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اس پر پابندی کی مدت بڑھا دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریائی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://abcnews.go.com/Business/amazon-joins-bidding-war-tiktok-deadline-sale-approaches/story?id=120444946"&gt;&lt;strong&gt;’اے بی سی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نیوز کے مطابق 5 اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہوجائے گی، جس کے بعد ممکنہ طور پر صدر دوبارہ مدت بڑھا دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹک ٹاک کو دی گئی مہلت سے دو دن قبل ایمازون اور اونلی فینز سمیت دیگر ویب سائٹس اور کمپنیوں نے بھی ٹک ٹاک کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے دستاویزات وائٹ ہاؤس بھجوا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی کوئی ایسا اشارہ نہیں دیا گیاکہ ٹک ٹاک کی خرید و فروخت کا معاملہ طے ہونے کے قریب یا نہیں، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 5 اپریل سے قبل امریکی حکومت ٹک ٹاک کی ممکنہ پابندی یا اس کی مہلت بڑھانے سے متعلق اعلان کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چینی شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی امریکی سروسز کی خرید و فروخت کا معاملہ طے نہ ہوسکا، ایک بار ایپلی کیشن کے امریکا میں عارضی طور پر 5 اپریل کو بند ہونے کے امکانات ہوگئے۔</p>
<p>امریکی حکومت نے قومی سلامتی کا خطرہ قرار دیتے ہوئے ٹک ٹاک کی امریکی سروسز کو کسی بھی امریکی شہری یا کمپنی کو فروخت کرنے سے متعلق قانون بنا رکھا ہے، اگر ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز مقامی فرد یا کمپنی کو فروخت نہیں کیے جاتے تو اسے امریکا میں بند کردیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251139"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ قانون 20 جنوری 2025 کو نافذ العمل ہوچکا تھا لیکن نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون کو 75 دن تک منسوخ کردیا تھا اور اب 5 اپریل کی شب تک 75 دن کی مدت مکمل ہوجائے گی۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مدت بڑھائے جانے کے باوجود ٹک ٹاک کی فروخت کا معاملہ طے نہ ہوسکا اور اب 5 اپریل کو اس کے عارضی طور پر امریکا میں بند ہونے کے امکانات ہیں، تاہم ساتھ ہی خیال کیا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اس پر پابندی کی مدت بڑھا دیں گے۔</p>
<p>امریکی نشریائی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://abcnews.go.com/Business/amazon-joins-bidding-war-tiktok-deadline-sale-approaches/story?id=120444946"><strong>’اے بی سی‘</strong></a> نیوز کے مطابق 5 اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہوجائے گی، جس کے بعد ممکنہ طور پر صدر دوبارہ مدت بڑھا دیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب ٹک ٹاک کو دی گئی مہلت سے دو دن قبل ایمازون اور اونلی فینز سمیت دیگر ویب سائٹس اور کمپنیوں نے بھی ٹک ٹاک کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے دستاویزات وائٹ ہاؤس بھجوا دیے ہیں۔</p>
<p>ابھی تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی کوئی ایسا اشارہ نہیں دیا گیاکہ ٹک ٹاک کی خرید و فروخت کا معاملہ طے ہونے کے قریب یا نہیں، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 5 اپریل سے قبل امریکی حکومت ٹک ٹاک کی ممکنہ پابندی یا اس کی مہلت بڑھانے سے متعلق اعلان کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1256406</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Apr 2025 19:26:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/0419183002e716d.jpg?r=191838" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/0419183002e716d.jpg?r=191838"/>
        <media:title>—فوٹو: انپلاش
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
