<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 04:39:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 04:39:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی میں فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1256589/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ رینجرز اور  محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے  مشترکہ کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے تین  انتہائی مطلوب دہشت گردوں کوگرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز ایک سرکاری بیان میں کہا گیا  ہے کہ سندھ رینجرز  اور  سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے کورنگی سے فتنہ  الخوارج سے تعلق رکھنے والے تین  انتہائی  مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال جولائی میں حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو فتنہ الخوارج قرار دیا تھا اور تمام اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ پاکستان پر دہشت گردانہ حملوں کے مرتکب افراد کے لیے’ خارجی’ (اسلام سے خارج) کی اصطلاح استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ رینجرز کی جانب سے جاری ایک بیان میں آج کہا گیا ہے کہ انہوں نے کورنگی سے انعام اللہ عرف لالا، نعیم اللہ عرف عمر زالی اور محمد طیب عرف محمد کو گرفتار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244620"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ  گرفتار دہشت گرد  سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں، تینوں گرفتار دہشت گردوں کا تعلق  فتنہ الخوارج کے  حافظ گل بہادر گروپ سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ  دہشت گردوں کے قبضے سے  ہتھیار، گولیاں اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتار دہشت گرد نعیم اللہ  عرف  عمر زالی نے 2014  میں فتنہ الخوارج میں شمولیت اختیار کی تھی اور  وہ  حافظ گل بہادر گروپ کا ایک اہم رکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان  میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کا والد مومن خان اور چچا  سلیم اللہ بھی فتنہ الخوارج کے اہم ارکان اور  سیکیورٹی فورسز پر متعدد  حملوں میں ملوث تھے، جو  سیکیورٹی آپریشنز میں ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رینجرز نے بتایا کہ نعیم اللہ جنگی تربیت یافتہ ہے اور وزیرستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے،  نعیم اللہ کچھ عرصہ قبل کراچی آیا تھا اور اپنے نیٹ ورک کو منظم کرنے  کے لیے سرگرم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے  کہ انعام اللہ 2017 میں فتنہ الخوارج حافظ گل بہادر گروپ میں شامل ہوا اور وہ  وزیرستان کے جانی خیل کے علاقے میں کمانڈر عبدالحمید عرف فکر مند کے گروپ کے ساتھ وزیرستان میں بہت سرگرم  تھا،  وہ اور اس کے دیگر ساتھی سیکورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، انعام اللہ کا بھائی، جو حافظ گل بہادر گروپ کا بھی حصہ ہے، وزیرستان میں بہت فعال  تھا۔ نعیم اللہ کی طرح، انعام اللہ بھی کچھ عرصہ قبل فتنہ الخوارج کے نیٹ ورک کو منظم اور سہولت  کاری کرنے کے لیے کراچی آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ محمد طیب 2023 میں فتنہ الخوارج (فکر مند گروپ) میں شامل ہوا۔ وہ اپنے بھائی عبدالرزاق کی وفات کے بعد گروپ میں شامل ہوا اور کراچی میں سہولت کاری کا کام کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ  تینوں ملزمان کراچی میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جب انہیں گرفتار کیا گیا، دہشت گردوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد سمیت مزید قانونی کارروائی کے لیے سی ٹی ڈی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ اکتوبر میں سندھ سی ٹی ڈی نے کراچی کے  علاقے سہراب گوٹھ سے مبینہ طور پر تین ٹی ٹی پی دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جون میں ٹی ٹی پی نے سہراب گوٹھ میں پولیس پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں پولیس کانسٹیبل محمد یاسین شہید اور  کانسٹیبل سلمان عباس زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر پنجاب سی ٹی ڈی نے اکتوبر میں 129 انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے دوران سات دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں حال ہی میں، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی چوکیوں پر دہشت گردانہ حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ توڑنے اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد حملوں میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ رینجرز اور  محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے  مشترکہ کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے تین  انتہائی مطلوب دہشت گردوں کوگرفتار کرلیا۔</p>
<p>پیر کے روز ایک سرکاری بیان میں کہا گیا  ہے کہ سندھ رینجرز  اور  سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے کورنگی سے فتنہ  الخوارج سے تعلق رکھنے والے تین  انتہائی  مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔</p>
<p>گزشتہ سال جولائی میں حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو فتنہ الخوارج قرار دیا تھا اور تمام اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ پاکستان پر دہشت گردانہ حملوں کے مرتکب افراد کے لیے’ خارجی’ (اسلام سے خارج) کی اصطلاح استعمال کریں۔</p>
<p>سندھ رینجرز کی جانب سے جاری ایک بیان میں آج کہا گیا ہے کہ انہوں نے کورنگی سے انعام اللہ عرف لالا، نعیم اللہ عرف عمر زالی اور محمد طیب عرف محمد کو گرفتار کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244620"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ  گرفتار دہشت گرد  سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں، تینوں گرفتار دہشت گردوں کا تعلق  فتنہ الخوارج کے  حافظ گل بہادر گروپ سے ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ  دہشت گردوں کے قبضے سے  ہتھیار، گولیاں اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔</p>
<p>گرفتار دہشت گرد نعیم اللہ  عرف  عمر زالی نے 2014  میں فتنہ الخوارج میں شمولیت اختیار کی تھی اور  وہ  حافظ گل بہادر گروپ کا ایک اہم رکن ہے۔</p>
<p>بیان  میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کا والد مومن خان اور چچا  سلیم اللہ بھی فتنہ الخوارج کے اہم ارکان اور  سیکیورٹی فورسز پر متعدد  حملوں میں ملوث تھے، جو  سیکیورٹی آپریشنز میں ہلاک ہوگئے تھے۔</p>
<p>رینجرز نے بتایا کہ نعیم اللہ جنگی تربیت یافتہ ہے اور وزیرستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے،  نعیم اللہ کچھ عرصہ قبل کراچی آیا تھا اور اپنے نیٹ ورک کو منظم کرنے  کے لیے سرگرم تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے  کہ انعام اللہ 2017 میں فتنہ الخوارج حافظ گل بہادر گروپ میں شامل ہوا اور وہ  وزیرستان کے جانی خیل کے علاقے میں کمانڈر عبدالحمید عرف فکر مند کے گروپ کے ساتھ وزیرستان میں بہت سرگرم  تھا،  وہ اور اس کے دیگر ساتھی سیکورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث تھے۔</p>
<p>بیان کے مطابق، انعام اللہ کا بھائی، جو حافظ گل بہادر گروپ کا بھی حصہ ہے، وزیرستان میں بہت فعال  تھا۔ نعیم اللہ کی طرح، انعام اللہ بھی کچھ عرصہ قبل فتنہ الخوارج کے نیٹ ورک کو منظم اور سہولت  کاری کرنے کے لیے کراچی آیا تھا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ محمد طیب 2023 میں فتنہ الخوارج (فکر مند گروپ) میں شامل ہوا۔ وہ اپنے بھائی عبدالرزاق کی وفات کے بعد گروپ میں شامل ہوا اور کراچی میں سہولت کاری کا کام کر رہا تھا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ  تینوں ملزمان کراچی میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جب انہیں گرفتار کیا گیا، دہشت گردوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد سمیت مزید قانونی کارروائی کے لیے سی ٹی ڈی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ اکتوبر میں سندھ سی ٹی ڈی نے کراچی کے  علاقے سہراب گوٹھ سے مبینہ طور پر تین ٹی ٹی پی دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔</p>
<p>اس سے قبل جون میں ٹی ٹی پی نے سہراب گوٹھ میں پولیس پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں پولیس کانسٹیبل محمد یاسین شہید اور  کانسٹیبل سلمان عباس زخمی ہو گئے تھے۔</p>
<p>ادھر پنجاب سی ٹی ڈی نے اکتوبر میں 129 انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے دوران سات دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔</p>
<p>پاکستان میں حال ہی میں، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی چوکیوں پر دہشت گردانہ حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>2022 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ توڑنے اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد حملوں میں اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1256589</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Apr 2025 16:42:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/071635337bf8000.jpg?r=163946" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/071635337bf8000.jpg?r=163946"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
