<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 30 May 2026 23:11:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 30 May 2026 23:11:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپان کے بادشاہ کا دوسری جنگ عظیم کے 80 سال مکمل ہونے پر میدان جنگ ایوو جیما کا دورہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1256643/</link>
      <description>&lt;p&gt;جاپان کے بادشاہ ناروہیتو اور ملکہ ماساکو نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 80 سال مکمل ہونے پر کے موقع پر بحرالکاہل کے چھوٹے سے جزیرے ایوو جیما کا دورہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1902821/japans-emperor-visits-wwii-battleground-iwo-jima"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹوکیو سے تقریباً 1250 کلومیٹر جنوب میں واقع جاپانی جزیرہ 1945 میں جنگ کے وقت کے جاپان اور امریکا کے درمیان 5 ہفتوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں میدان جنگ بنا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لڑائی کے دوران جزیرے پر موجود جاپان کے تقریباً 21 ہزار فوجی ہلاک ہوئے، جب کہ امریکا کو 6 ہزار 800 سے زیادہ ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے 19 ہزار فوجی زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہی جوڑے نے جزیرے پر بارش کے بعد پھول چڑھائے اور رسمی طور پر جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر پانی ڈالا، جسے جاپان میں ’ایوو ٹو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ماہ ایوو جیما کی جنگ کے 80 سال مکمل ہونے کے موقع پر تقریب میں شرکت کے لیے ایک ساتھ جزیرے کا دورہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254766"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ نے فلموں اور کتابوں کو متاثر کیا، لیکن شاید دوسری جنگ عظیم کی سب سے مشہور تصاویر میں سے ایک سے وہ ہے جس میں امریکی میرینز کے ایک گروپ کو ماؤنٹ سوریباچی کی ملبے سے ڈھکی سطح پر امریکی پرچم لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج یہ جزیرہ شہریوں کے لیے حد سے باہر ہے اور جنگی جہازوں کے خستہ حال حصے اس کے ساحلوں پر پھیلے ہوئے ہیں، جب کہ زنگ سے ڈھکے ہوئے خالی ٹینک سرسبز و شاداب باغ میں کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دور افتادہ آتش فشاں جزیرے پر جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی باقیات تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جہاں ایک صحافی کے مطابق سلفر کی بو فضا میں پھیل جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناروہیتو کے والدین، شہنشاہ ایمریٹس اکی ہیتو اور ان کی اہلیہ ملکہ میچیکو نے 1994 میں جزیرے کا دورہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جاپان کے بادشاہ ناروہیتو اور ملکہ ماساکو نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 80 سال مکمل ہونے پر کے موقع پر بحرالکاہل کے چھوٹے سے جزیرے ایوو جیما کا دورہ کیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1902821/japans-emperor-visits-wwii-battleground-iwo-jima"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ٹوکیو سے تقریباً 1250 کلومیٹر جنوب میں واقع جاپانی جزیرہ 1945 میں جنگ کے وقت کے جاپان اور امریکا کے درمیان 5 ہفتوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں میدان جنگ بنا رہا تھا۔</p>
<p>اس لڑائی کے دوران جزیرے پر موجود جاپان کے تقریباً 21 ہزار فوجی ہلاک ہوئے، جب کہ امریکا کو 6 ہزار 800 سے زیادہ ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے 19 ہزار فوجی زخمی ہوئے۔</p>
<p>شاہی جوڑے نے جزیرے پر بارش کے بعد پھول چڑھائے اور رسمی طور پر جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر پانی ڈالا، جسے جاپان میں ’ایوو ٹو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ماہ ایوو جیما کی جنگ کے 80 سال مکمل ہونے کے موقع پر تقریب میں شرکت کے لیے ایک ساتھ جزیرے کا دورہ کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254766"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس جنگ نے فلموں اور کتابوں کو متاثر کیا، لیکن شاید دوسری جنگ عظیم کی سب سے مشہور تصاویر میں سے ایک سے وہ ہے جس میں امریکی میرینز کے ایک گروپ کو ماؤنٹ سوریباچی کی ملبے سے ڈھکی سطح پر امریکی پرچم لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔</p>
<p>آج یہ جزیرہ شہریوں کے لیے حد سے باہر ہے اور جنگی جہازوں کے خستہ حال حصے اس کے ساحلوں پر پھیلے ہوئے ہیں، جب کہ زنگ سے ڈھکے ہوئے خالی ٹینک سرسبز و شاداب باغ میں کھڑے ہیں۔</p>
<p>دور افتادہ آتش فشاں جزیرے پر جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی باقیات تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جہاں ایک صحافی کے مطابق سلفر کی بو فضا میں پھیل جاتی ہے۔</p>
<p>ناروہیتو کے والدین، شہنشاہ ایمریٹس اکی ہیتو اور ان کی اہلیہ ملکہ میچیکو نے 1994 میں جزیرے کا دورہ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1256643</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Apr 2025 11:25:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/08090532f7c2de1.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/08090532f7c2de1.gif"/>
        <media:title>جاپانی بادشاہ ناروہیتو کے والدین، شہنشاہ ایمریٹس اکی ہیتو اور ملکہ میچیکو نے 1994 میں جزیرے کا دورہ کیا تھا — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
