<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 09:59:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 09:59:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعیناتی کا کیس میرٹ پر سنیں گے، آئینی بینچ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1256805/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے قرار دیا ہے کہ گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعیناتی کا کیس میرٹ پر سنیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان عدالت پیش ہوئے، ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان نے آرڈر 2018 پڑھ کر سنایا اور استدعا کی کہ ہم مشروط طور پر اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرڈر 2018 کے تحت تو ججز کی تعیناتی وزیر اعلیٰ اور گورنر کی مشاورت سے کرنے کا ذکر ہے، گلگت بلتستان میں ججز تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197922"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ حکم امتناع کی وجہ سے ججز کی تعیناتی کا معاملہ رکا ہوا ہے، جسٹس محمد علی مظہر  نے کہا کہ حکم امتناع ختم کردیتے ہیں آپ مشاورت سے ججز تعینات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس جمال مندوخیل نے معاملے کے حل کے لیے قانون سازی کی بات کی تو اٹارنی جنرل بولے اس کے لیے پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ مجوزہ آرڈر 2019 کو ترمیم کر کے ججز کی تعیناتی کروا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے مجوزہ آرڈر 2019 نہ بنایا نہ اسے اون کرتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر وفاق کو مجوزہ آرڈر 2019 پسند نہیں تو دوسرا بنا لے لیکن کچھ تو کرے، مجوزہ آرڈر 2019 مجھے تو مناسب لگا، اس پر قانون سازی کریں یا پھر دوسرا بنا لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آرڈر 2018 کے تحت ججز تعینات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹارنی جنرل نے گلگت بلتستان میں مشروط طور پر ججز تعینات کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم گورنر کی ایڈوائس ماننے کا پابند نہیں، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب ہے وزیر اعظم جو کرنا چاہیں کر سکتے ہیں تو ون مین شو بنا دیں، پارلیمنٹ قانون سازی کر کے اس معاملے کو حل کیوں نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں آئینی بینچ نے سماعت 11 اپریل تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے قرار دیا ہے کہ گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعیناتی کا کیس میرٹ پر سنیں گے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔</p>
<p>اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان عدالت پیش ہوئے، ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان نے آرڈر 2018 پڑھ کر سنایا اور استدعا کی کہ ہم مشروط طور پر اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔</p>
<p>جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرڈر 2018 کے تحت تو ججز کی تعیناتی وزیر اعلیٰ اور گورنر کی مشاورت سے کرنے کا ذکر ہے، گلگت بلتستان میں ججز تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197922"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ حکم امتناع کی وجہ سے ججز کی تعیناتی کا معاملہ رکا ہوا ہے، جسٹس محمد علی مظہر  نے کہا کہ حکم امتناع ختم کردیتے ہیں آپ مشاورت سے ججز تعینات کریں۔</p>
<p>جسٹس جمال مندوخیل نے معاملے کے حل کے لیے قانون سازی کی بات کی تو اٹارنی جنرل بولے اس کے لیے پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ مجوزہ آرڈر 2019 کو ترمیم کر کے ججز کی تعیناتی کروا سکتی ہے۔</p>
<p>اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے مجوزہ آرڈر 2019 نہ بنایا نہ اسے اون کرتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر وفاق کو مجوزہ آرڈر 2019 پسند نہیں تو دوسرا بنا لے لیکن کچھ تو کرے، مجوزہ آرڈر 2019 مجھے تو مناسب لگا، اس پر قانون سازی کریں یا پھر دوسرا بنا لیں۔</p>
<p>جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آرڈر 2018 کے تحت ججز تعینات کریں۔</p>
<p>اٹارنی جنرل نے گلگت بلتستان میں مشروط طور پر ججز تعینات کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم گورنر کی ایڈوائس ماننے کا پابند نہیں، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب ہے وزیر اعظم جو کرنا چاہیں کر سکتے ہیں تو ون مین شو بنا دیں، پارلیمنٹ قانون سازی کر کے اس معاملے کو حل کیوں نہیں کرتی۔</p>
<p>بعد ازاں آئینی بینچ نے سماعت 11 اپریل تک ملتوی کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1256805</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Apr 2025 15:41:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/10123249b0e9d57.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/10123249b0e9d57.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
