<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 02:44:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 02:44:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یونان میں ایک اور کشتی حادثہ، 39 افراد کو بچالیا گیا، 2 خواتین ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1257111/</link>
      <description>&lt;p&gt;یونان کے کوسٹ گارڈ نے کہا ہے کہ انہیں بحیرہ ایجیئن میں واقع چھوٹے سے جزیرے فارماکونیسی پر 2 خواتین کی لاشیں اور 39 دیگر تارکین وطن زندہ حالت میں ملے ہیں جب کہ واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یونان کے کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جزیرے پر ہونے والی اموات کی وجوہات فی الحال واضح نہیں ہیں، البتہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونانی حکام کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ تارکین وطن فارماکونیسی جزیرے پر پہنچے ہیں جو ترکی کے ساحل سے صرف 9.7 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوسٹ گارڈ کے حکام کا کہنا تھا کہ ممکنہ کشتی حادثے میں بچ جانے والے دیگر افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بھی جاری ہے جب کہ زندہ بچ جانے والے تمام افراد کو قریبی جزیرے لیروس منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249864"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ یورپی یونین کے جنوب مشرقی میں واقع یونان طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے آنے والے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لیے یورپ کا ایک اہم راستہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونانی کوسٹ گارڈ 2015 سے اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو بچا چکی ہے، اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق ہزاروں لوگ سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے آغاز میں کم از کم 7 تارکین وطن کشتی حادثے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے تھے، جن میں ایک لڑکا، ایک لڑکی اور 2 خواتین شامل تھیں، متاثرہ افراد کی کشتی لیسبوس جزیرے کے قریب ڈوب گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یونان کے کوسٹ گارڈ نے کہا ہے کہ انہیں بحیرہ ایجیئن میں واقع چھوٹے سے جزیرے فارماکونیسی پر 2 خواتین کی لاشیں اور 39 دیگر تارکین وطن زندہ حالت میں ملے ہیں جب کہ واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یونان کے کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جزیرے پر ہونے والی اموات کی وجوہات فی الحال واضح نہیں ہیں، البتہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔</p>
<p>یونانی حکام کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ تارکین وطن فارماکونیسی جزیرے پر پہنچے ہیں جو ترکی کے ساحل سے صرف 9.7 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔</p>
<p>کوسٹ گارڈ کے حکام کا کہنا تھا کہ ممکنہ کشتی حادثے میں بچ جانے والے دیگر افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بھی جاری ہے جب کہ زندہ بچ جانے والے تمام افراد کو قریبی جزیرے لیروس منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249864"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ یورپی یونین کے جنوب مشرقی میں واقع یونان طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے آنے والے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لیے یورپ کا ایک اہم راستہ رہا ہے۔</p>
<p>یونانی کوسٹ گارڈ 2015 سے اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو بچا چکی ہے، اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق ہزاروں لوگ سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>رواں ماہ کے آغاز میں کم از کم 7 تارکین وطن کشتی حادثے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے تھے، جن میں ایک لڑکا، ایک لڑکی اور 2 خواتین شامل تھیں، متاثرہ افراد کی کشتی لیسبوس جزیرے کے قریب ڈوب گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1257111</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Apr 2025 22:11:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/14220623cf45821.jpg?r=220939" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/14220623cf45821.jpg?r=220939"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
