<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 02:40:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 02:40:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیپ سیک کو جدید ٹیکنالوجی کی خریداری سے روکنے کا امریکی منصوبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1257312/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہلچل مچانے والے چینی ماڈل ڈیپ سیک کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کی کوششیں شروع کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع رائٹرز کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1904726/us-plans-to-block-deepseek-from-buying-technology-nyt"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کی کمپنی ڈیپ سیک کو امریکی ٹیکنالوجی خریدنے سے روکنے کے لیے جرمانے عائد کرنے پر غور اور اس کی خدمات تک امریکیوں کی رسائی روکنے پر بحث کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے کم قیمت مصنوعی ذہانت ماڈل ڈیپ سیک کے اجرا نے مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اس کے بعد امریکی حکومت نے چینی اسٹارٹ اپ کے خلاف کریک ڈاؤن  اور  چپ بنانے والی کمپنی این ویڈیا سے اس کی مدد کیخلاف اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254036"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ویڈیا کی اے آئی چپس امریکی برآمدی کنٹرول کا ایک اہم مرکز رہی ہیں ، کیونکہ حکام کا مقصد مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں برتری برقرار رکھنے کی کوشش میں جدید ترین چپس کو چین کو فروخت ہونے سے روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے رواں ہفتے این ویڈیا کی جانب سے چین کو مصنوعی ذہانت کی چپس کی فروخت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین سے متعلق امریکی ایوان نمائندگان کی سلیکٹ کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’اس نے این ویڈیا کو ایک باضابطہ خط بھیجا ہے جس میں چین اور جنوب مشرقی ایشیا کو فروخت کے بارے میں جواب طلب کیا گیا ہے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا امریکی برآمدی پابندیوں کے باوجود اس کی چپس نے ڈیپ سیک کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو کس طرح طاقت دی‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹرمپ انتظامیہ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہلچل مچانے والے چینی ماڈل ڈیپ سیک کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کی کوششیں شروع کردیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع رائٹرز کی <a href="https://www.dawn.com/news/1904726/us-plans-to-block-deepseek-from-buying-technology-nyt"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کی کمپنی ڈیپ سیک کو امریکی ٹیکنالوجی خریدنے سے روکنے کے لیے جرمانے عائد کرنے پر غور اور اس کی خدمات تک امریکیوں کی رسائی روکنے پر بحث کر رہی ہے۔</p>
<p>چین کے کم قیمت مصنوعی ذہانت ماڈل ڈیپ سیک کے اجرا نے مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اس کے بعد امریکی حکومت نے چینی اسٹارٹ اپ کے خلاف کریک ڈاؤن  اور  چپ بنانے والی کمپنی این ویڈیا سے اس کی مدد کیخلاف اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1254036"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>این ویڈیا کی اے آئی چپس امریکی برآمدی کنٹرول کا ایک اہم مرکز رہی ہیں ، کیونکہ حکام کا مقصد مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں برتری برقرار رکھنے کی کوشش میں جدید ترین چپس کو چین کو فروخت ہونے سے روکنا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ نے رواں ہفتے این ویڈیا کی جانب سے چین کو مصنوعی ذہانت کی چپس کی فروخت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p>چین سے متعلق امریکی ایوان نمائندگان کی سلیکٹ کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’اس نے این ویڈیا کو ایک باضابطہ خط بھیجا ہے جس میں چین اور جنوب مشرقی ایشیا کو فروخت کے بارے میں جواب طلب کیا گیا ہے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا امریکی برآمدی پابندیوں کے باوجود اس کی چپس نے ڈیپ سیک کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو کس طرح طاقت دی‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1257312</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Apr 2025 12:42:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/17124114d17a3b7.jpg?r=124210" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/17124114d17a3b7.jpg?r=124210"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
