<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 31 May 2026 05:14:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 31 May 2026 05:14:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قصور ڈانس پارٹی کیس: تحقیقاتی رپورٹ میں ایس ایچ او اور 2 کانسٹیبل قصوروار قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1257396/</link>
      <description>&lt;p&gt;قصور ڈانس پارٹی کیس میں ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی جس کے مطابق ایس ایچ او اور 2 کانسٹیبل قصور وار پائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے قصور میں مبینہ ڈانس پارٹی کے ملزمان کی ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے پرپولیس افسران پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ رپورٹ کے مطابق ایس ایچ او اور دو کانسٹیبل اس سارے معاملے میں قصوروار پائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256903"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس علی ضیا باجوہ نے ریمارکس دیے کہ اگر پولیس کو اپنی مثبت امیجنگ کرنی ہے تو پھر کسی کو گنجا کرنا اور خواتین کی ویڈیو بنانا درست نہیں، اگر کوئی شخص دو سال بعد عدالت سے بری ہو جائے تو اس کے میڈیا ٹرائل کا کیا بنے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت عدالتی استفسار پر کورٹ رپورٹر محمد اشفاق نے عدالت کو بتایا کہ مین اسٹریم میڈیا زیر حراست ملزمان کے انٹرویو نہیں کرتا، پولیس خود انٹرویو کرواتی ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ آپ کے کسی پولیس افسر نے زیر حراست ملزمان کا انٹرویو کیا تو متعلقہ ایس پی ذمہ دار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعلقہ ایس ایچ او کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قصور ڈانس پارٹی ڈی پی او کا پرسنل اسٹاف افسر کروا رہا تھا، ہمارے پاس اس حوالے سے ایک کال بھی موجود ہے۔ عدالت نے پولیس سے سوشل میڈیا پالیسی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 25 اپریل تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قصور ڈانس پارٹی کیس میں ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی جس کے مطابق ایس ایچ او اور 2 کانسٹیبل قصور وار پائے گئے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے قصور میں مبینہ ڈانس پارٹی کے ملزمان کی ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے پرپولیس افسران پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ رپورٹ کے مطابق ایس ایچ او اور دو کانسٹیبل اس سارے معاملے میں قصوروار پائے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256903"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جسٹس علی ضیا باجوہ نے ریمارکس دیے کہ اگر پولیس کو اپنی مثبت امیجنگ کرنی ہے تو پھر کسی کو گنجا کرنا اور خواتین کی ویڈیو بنانا درست نہیں، اگر کوئی شخص دو سال بعد عدالت سے بری ہو جائے تو اس کے میڈیا ٹرائل کا کیا بنے گا؟</p>
<p>دوران سماعت عدالتی استفسار پر کورٹ رپورٹر محمد اشفاق نے عدالت کو بتایا کہ مین اسٹریم میڈیا زیر حراست ملزمان کے انٹرویو نہیں کرتا، پولیس خود انٹرویو کرواتی ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ آپ کے کسی پولیس افسر نے زیر حراست ملزمان کا انٹرویو کیا تو متعلقہ ایس پی ذمہ دار ہوگا۔</p>
<p>متعلقہ ایس ایچ او کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قصور ڈانس پارٹی ڈی پی او کا پرسنل اسٹاف افسر کروا رہا تھا، ہمارے پاس اس حوالے سے ایک کال بھی موجود ہے۔ عدالت نے پولیس سے سوشل میڈیا پالیسی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 25 اپریل تک ملتوی کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1257396</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Apr 2025 15:16:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/181328570e8c077.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/181328570e8c077.png"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
