<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Lahore</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 12:44:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 12:44:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: بیرون ملک سے آئی خاتون پر مسلح شخص کا سرعام تشدد، ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1257610/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور  کے فیکٹری ایریا میں بیرون  ملک سے آئی پاکستانی خاتون کو  مسلح حملہ آور نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، واقعے کی فوٹیج وائرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران نے  واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی)   سے رپورٹ طلب کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ڈی آئی جی کامران کی ہدایات پر ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، ایک ٹیم سیف سٹی کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے ریکی پوائنٹ سے واقعے کی جگہ تک کے راستے کاجائزہ لے گی، جب کہ دوسری ٹیم نجی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا استعمال کرتے ہوئے ملزمان کے راستے کا سراغ لگائے گی۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج  میں سرخ کپڑوں میں ملبوس خاتون کو دن دیہاڑے گلی میں  ایک مسلح شخص کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا  ہے، مسلح شخص کے ہاتھ میں پستول  ہے اور  اس کا ساتھی قریب ہی موٹرسائیکل لیے کھڑا ہوتا ہے جبکہ موٹرسائیکل پر ایک کم سن بچہ بھی بیٹھا نظر آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا کہ پولیس کو واقعے کے بارے میں سہ پہر 3:40 بجے کال موصول ہوئی تھی جس کے فوراً بعد متعلقہ تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255397"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ نمبر 2395/25 درج کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی آپریشنز کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ ملزمان کو پکڑنے کے لیے سیف سٹی کیمروں سمیت تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی  فیصل کامران  کا کہنا تھا کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد  کے تشویشناک پیمانے کو اجاگر کرتی ایک رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں مجموعی طور پر 26753 رجسٹرڈ کیسز رپورٹ ہوئے، صوبے میں غیرت کے نام پر قتل کے 225 واقعات رپورٹ ہوئے، لیکن صرف دو مقدمات میں سزا ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبے میں خواتین سے جنسی زیادتی  4641  مقدمات تھے جن میں سزا کی شرح محض 0.4 فیصد تھی،  اغوا اور جبری گمشدگی کے  مقدمات کی تعداد تشویشناک حد تک زیادہ یعنی 20720 تھی لیکن صرف 16 میں سزا ہوئی، اسی طرح گھریلو تشدد کے 1167  مقدمات میں سے صرف تین میں ملزم کو سزا ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور  کے فیکٹری ایریا میں بیرون  ملک سے آئی پاکستانی خاتون کو  مسلح حملہ آور نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، واقعے کی فوٹیج وائرل ہوگئی۔</p>
<p>پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران نے  واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی)   سے رپورٹ طلب کی ہے۔</p>
<p>پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ڈی آئی جی کامران کی ہدایات پر ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، ایک ٹیم سیف سٹی کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے ریکی پوائنٹ سے واقعے کی جگہ تک کے راستے کاجائزہ لے گی، جب کہ دوسری ٹیم نجی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا استعمال کرتے ہوئے ملزمان کے راستے کا سراغ لگائے گی۔’</p>
<p>سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج  میں سرخ کپڑوں میں ملبوس خاتون کو دن دیہاڑے گلی میں  ایک مسلح شخص کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا  ہے، مسلح شخص کے ہاتھ میں پستول  ہے اور  اس کا ساتھی قریب ہی موٹرسائیکل لیے کھڑا ہوتا ہے جبکہ موٹرسائیکل پر ایک کم سن بچہ بھی بیٹھا نظر آرہا ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا کہ پولیس کو واقعے کے بارے میں سہ پہر 3:40 بجے کال موصول ہوئی تھی جس کے فوراً بعد متعلقہ تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255397"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ نمبر 2395/25 درج کر لیا ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی آپریشنز کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ ملزمان کو پکڑنے کے لیے سیف سٹی کیمروں سمیت تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ڈی آئی جی  فیصل کامران  کا کہنا تھا کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد  کے تشویشناک پیمانے کو اجاگر کرتی ایک رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں مجموعی طور پر 26753 رجسٹرڈ کیسز رپورٹ ہوئے، صوبے میں غیرت کے نام پر قتل کے 225 واقعات رپورٹ ہوئے، لیکن صرف دو مقدمات میں سزا ہوئی۔</p>
<p>صوبے میں خواتین سے جنسی زیادتی  4641  مقدمات تھے جن میں سزا کی شرح محض 0.4 فیصد تھی،  اغوا اور جبری گمشدگی کے  مقدمات کی تعداد تشویشناک حد تک زیادہ یعنی 20720 تھی لیکن صرف 16 میں سزا ہوئی، اسی طرح گھریلو تشدد کے 1167  مقدمات میں سے صرف تین میں ملزم کو سزا ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1257610</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Apr 2025 20:06:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران گبول)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/21193843d75cf34.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/21193843d75cf34.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
