<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:06:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:06:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیکٹ چیک: پہلگام حملے کے مشتبہ ملزم کا خاکہ کرکٹر بابر اعظم سے مشابہت نہیں رکھتا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1257951/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر متعدد صارفین کی پوسٹس میں ایک بھارتی نیوز آؤٹ لیٹ سے لیا گیا ایک اسکرین شاٹ بڑی تعداد میں شیئر کیا گیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس میں پہلگام حملے میں مبینہ طور پر ملوث ایک مشتبہ شخص کا خاکہ دکھایا گیا ہے جو پاکستانی کرکٹر بابر اعظم سے مشابہت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ آئی ویریفائی پاکستان ’ کی  ٹیم نے جائزہ  لینے کے  بعد  بتایا کہ  وائرل تصویر میں ترمیم کی گئی تھی اور اصل خاکہ کھلاڑی سے مشابہت نہیں رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دعویٰ" href="#دعویٰ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دعویٰ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;منگل کو مقبوضہ کشمیر میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے، یہ حملہ  مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں ہوا، جو خوبصور ت سیاحتی مقام ہے جہاں ہر موسم گرما میں ہزاروں  سیاح آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حملے کی ذمہ داری ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ نامی ایک غیر معروف تنظیم نے قبول کی ہے, میڈیا رپورٹس میں تنظیم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس نے متنازع علاقے میں آبادیاتی تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر یہ حملہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو ایک فیس بک صارف نے مبینہ طور پر بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ انڈیا ٹوڈے کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا اسکرین شاٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/NRlSP"&gt;&lt;strong&gt;شیئر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا، جس میں پہلگام حملے میں ملوث مشتبہ افراد کے خاکے دکھائے گئے تھے، جن میں سے ایک بابر اعظم سے مشابہت رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوسٹ پر 2 ہزار سے زائد ردعمل سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تصویر ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹ سیاست ڈاٹ پی کے کے فورم پر بھی اس کیپشن کے ساتھ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/PcJXS"&gt;&lt;strong&gt;پوسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی گئی تھی: ’ بھارتی حواس کھو بیٹھے، پاکستانی کرکٹر بابر اعظم دہشت گردانہ حملے میں ملوث۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://imgur.com/QF6IJoi.jpeg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان رونما ہونے والے واقعات میں عوام کی گہری دلچسپی کے ساتھ ساتھ اس دعوے  کے تیزی سے وائرل ہونے اور صارفین کی جانب سے اسے پھیلانے کی وجہ سے اس کی سچائی کا تعین کرنے کے لیے ایک فیکٹ چیک شروع کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فیکٹ-چیک" href="#فیکٹ-چیک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیکٹ چیک&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جعل سازی یا مصنوعی ذہانت کے استعمال کے شواہد کا پتا لگانے کے لیے متعدد ٹولز کے ذریعے تصویر کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ سائٹ انجن نے چہرے میں ہیرا پھیری کا 95 فیصد امکان ظاہر کیا جبکہ فیک امیج ڈیٹیکٹر نے اسے کمپیوٹر سے تیار کردہ یا ترمیم شدہ تصویر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریورس امیج سرچ کے نتیجے میں بدھ کو انڈیا ٹوڈے کی جانب سے شیئر کی گئی اصل پوسٹ سامنے آئی جس میں دکھایا گیا تھا کہ خاکہ بابر اعظم سے مشابہت نہیں رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دعویٰ-کی-جانچ-پڑتال-کا-نتیجہ--گمراہ-کُن" href="#دعویٰ-کی-جانچ-پڑتال-کا-نتیجہ--گمراہ-کُن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دعویٰ کی جانچ پڑتال کا نتیجہ :  گمراہ کُن&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا فیکٹ چیک نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ کی جانب سے پہلگام حملے کے ایک مشتبہ شخص کا شیئر کردہ خاکے کے  پاکستانی کرکٹر بابر اعظم سے مشابہت  رکھنے کا دعویٰ غلط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرل تصویر میں ترمیم کی گئی تھی کیونکہ مشتبہ شخص کا اصل خاکہ بابر سے بالکل بھی مشابہت نہیں رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/post.php?href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2FIndiaToday%2Fposts%2Fpfbid0TfK2Vydc3R7h5qmmupDvAksuNLcWXG4HU8e9bGzYq6HwQKWjMGyU6dbnHRxKmr61l&amp;show_text=true&amp;width=500" width="500" height="456" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share"&gt;&lt;/iframe&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوشل میڈیا پر متعدد صارفین کی پوسٹس میں ایک بھارتی نیوز آؤٹ لیٹ سے لیا گیا ایک اسکرین شاٹ بڑی تعداد میں شیئر کیا گیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس میں پہلگام حملے میں مبینہ طور پر ملوث ایک مشتبہ شخص کا خاکہ دکھایا گیا ہے جو پاکستانی کرکٹر بابر اعظم سے مشابہت رکھتا ہے۔</p>
<p>’ آئی ویریفائی پاکستان ’ کی  ٹیم نے جائزہ  لینے کے  بعد  بتایا کہ  وائرل تصویر میں ترمیم کی گئی تھی اور اصل خاکہ کھلاڑی سے مشابہت نہیں رکھتا تھا۔</p>
<h1><a id="دعویٰ" href="#دعویٰ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دعویٰ</h1>
<p>منگل کو مقبوضہ کشمیر میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے، یہ حملہ  مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں ہوا، جو خوبصور ت سیاحتی مقام ہے جہاں ہر موسم گرما میں ہزاروں  سیاح آتے ہیں۔</p>
<p>اس حملے کی ذمہ داری ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ نامی ایک غیر معروف تنظیم نے قبول کی ہے, میڈیا رپورٹس میں تنظیم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس نے متنازع علاقے میں آبادیاتی تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر یہ حملہ کیا ہے۔</p>
<p>بدھ کو ایک فیس بک صارف نے مبینہ طور پر بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ انڈیا ٹوڈے کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا اسکرین شاٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/NRlSP"><strong>شیئر</strong></a> کیا، جس میں پہلگام حملے میں ملوث مشتبہ افراد کے خاکے دکھائے گئے تھے، جن میں سے ایک بابر اعظم سے مشابہت رکھتا تھا۔</p>
<p>اس پوسٹ پر 2 ہزار سے زائد ردعمل سامنے آئے۔</p>
<p>یہ تصویر ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹ سیاست ڈاٹ پی کے کے فورم پر بھی اس کیپشن کے ساتھ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://archive.md/PcJXS"><strong>پوسٹ</strong></a> کی گئی تھی: ’ بھارتی حواس کھو بیٹھے، پاکستانی کرکٹر بابر اعظم دہشت گردانہ حملے میں ملوث۔’</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://imgur.com/QF6IJoi.jpeg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان رونما ہونے والے واقعات میں عوام کی گہری دلچسپی کے ساتھ ساتھ اس دعوے  کے تیزی سے وائرل ہونے اور صارفین کی جانب سے اسے پھیلانے کی وجہ سے اس کی سچائی کا تعین کرنے کے لیے ایک فیکٹ چیک شروع کیا گیا۔</p>
<h1><a id="فیکٹ-چیک" href="#فیکٹ-چیک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیکٹ چیک</h1>
<p>جعل سازی یا مصنوعی ذہانت کے استعمال کے شواہد کا پتا لگانے کے لیے متعدد ٹولز کے ذریعے تصویر کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ سائٹ انجن نے چہرے میں ہیرا پھیری کا 95 فیصد امکان ظاہر کیا جبکہ فیک امیج ڈیٹیکٹر نے اسے کمپیوٹر سے تیار کردہ یا ترمیم شدہ تصویر قرار دیا۔</p>
<p>ریورس امیج سرچ کے نتیجے میں بدھ کو انڈیا ٹوڈے کی جانب سے شیئر کی گئی اصل پوسٹ سامنے آئی جس میں دکھایا گیا تھا کہ خاکہ بابر اعظم سے مشابہت نہیں رکھتا تھا۔</p>
<h1><a id="دعویٰ-کی-جانچ-پڑتال-کا-نتیجہ--گمراہ-کُن" href="#دعویٰ-کی-جانچ-پڑتال-کا-نتیجہ--گمراہ-کُن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دعویٰ کی جانچ پڑتال کا نتیجہ :  گمراہ کُن</h1>
<p>لہٰذا فیکٹ چیک نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ کی جانب سے پہلگام حملے کے ایک مشتبہ شخص کا شیئر کردہ خاکے کے  پاکستانی کرکٹر بابر اعظم سے مشابہت  رکھنے کا دعویٰ غلط ہے۔</p>
<p>وائرل تصویر میں ترمیم کی گئی تھی کیونکہ مشتبہ شخص کا اصل خاکہ بابر سے بالکل بھی مشابہت نہیں رکھتا تھا۔</p>
<iframe src="https://www.facebook.com/plugins/post.php?href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2FIndiaToday%2Fposts%2Fpfbid0TfK2Vydc3R7h5qmmupDvAksuNLcWXG4HU8e9bGzYq6HwQKWjMGyU6dbnHRxKmr61l&show_text=true&width=500" width="500" height="456" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share"></iframe>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1257951</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Apr 2025 16:23:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/2518254701d83f8.jpg?r=184412" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/2518254701d83f8.jpg?r=184412"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
