<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 01:09:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 01:09:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل کروم پر بھی فروخت کی تلوار لٹکنے لگی، یاہو اور اوپن اے آئی خریدنے کو تیار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1258023/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیٹ سرچ براؤزر گوگل کروم پر بھی فروخت کی تلوار لٹکنے لگی ہے، جس کے بعد یاہو اور اوپن اے آئی نے اسے خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2025-04-24/apollo-s-yahoo-ready-to-buy-if-google-must-sell-chrome-browser"&gt;&lt;strong&gt;’بلوم برگ‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق گوگل کے خلاف امریکی حکومت کی جانب سے دائرہ کردہ کیس کی سماعت کے دوران ججز اور امریکی محکمہ انصاف کے وکلا سمیت انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنیز کے ماہرین بارہا یہ تجویز دے چکے ہیں کہ گوگل کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے کروم کو فروخت کردینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس کی تازہ سماعت کے دوران یاہو کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ اگر عدالت گوگل کو کروم کو فروخت کرنے کا حکم دیتی ہے تو ان کی کمپنی براوزر کو خریدنے کے لیے بولی لگائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246887"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گوگل کروم کی قیمت اربوں ڈالرز میں ہوسکتی ہے، کیوں کہ یہ انٹرنیٹ پر سرچنگ کے لیے سب سے نمایاں براؤزر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے خلاف اسی کیس میں ججز نے گزشتہ برس بھی کہا تھا کہ گوگل کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے کروم کو فروخت کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے خلاف ٹرائل جاری ہے اور مزید چند ہفتوں  تک جاری رہے گا، اگر امریکی حکومت نے گوگل کے خلاف فیصلہ دیا تو کمپنی کو اپنا کروم براؤزر فروخت کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ عدالت نے گوگل کو کروم کی فروخت کا حکم نہیں دیا، تاہم اس باوجود چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی اوپن اے آئی اور اب یاہو نے کروم کو خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے علاوہ فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کے خلاف بھی امریکی حکومت کے اداروں میں ٹرائل جاری ہے اور اس پر بھی انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو فروخت کرنے پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کو پہلے ہی فروخت کرنے کے لیے قانون سازی جا چکی ہے اور کمپنی اگلے دو ماہ کے اندر ہر حال میں ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز فروخت کرنے کی پابند ہے، دوسری صورت میں ایپ پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیٹ سرچ براؤزر گوگل کروم پر بھی فروخت کی تلوار لٹکنے لگی ہے، جس کے بعد یاہو اور اوپن اے آئی نے اسے خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>امریکی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2025-04-24/apollo-s-yahoo-ready-to-buy-if-google-must-sell-chrome-browser"><strong>’بلوم برگ‘</strong></a> کے مطابق گوگل کے خلاف امریکی حکومت کی جانب سے دائرہ کردہ کیس کی سماعت کے دوران ججز اور امریکی محکمہ انصاف کے وکلا سمیت انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنیز کے ماہرین بارہا یہ تجویز دے چکے ہیں کہ گوگل کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے کروم کو فروخت کردینا چاہیے۔</p>
<p>کیس کی تازہ سماعت کے دوران یاہو کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ اگر عدالت گوگل کو کروم کو فروخت کرنے کا حکم دیتی ہے تو ان کی کمپنی براوزر کو خریدنے کے لیے بولی لگائے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246887"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ گوگل کروم کی قیمت اربوں ڈالرز میں ہوسکتی ہے، کیوں کہ یہ انٹرنیٹ پر سرچنگ کے لیے سب سے نمایاں براؤزر ہے۔</p>
<p>گوگل کے خلاف اسی کیس میں ججز نے گزشتہ برس بھی کہا تھا کہ گوگل کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے کروم کو فروخت کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>گوگل کے خلاف ٹرائل جاری ہے اور مزید چند ہفتوں  تک جاری رہے گا، اگر امریکی حکومت نے گوگل کے خلاف فیصلہ دیا تو کمپنی کو اپنا کروم براؤزر فروخت کرنا پڑے گا۔</p>
<p>اگرچہ عدالت نے گوگل کو کروم کی فروخت کا حکم نہیں دیا، تاہم اس باوجود چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی اوپن اے آئی اور اب یاہو نے کروم کو خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>گوگل کے علاوہ فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کے خلاف بھی امریکی حکومت کے اداروں میں ٹرائل جاری ہے اور اس پر بھی انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو فروخت کرنے پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔</p>
<p>ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کو پہلے ہی فروخت کرنے کے لیے قانون سازی جا چکی ہے اور کمپنی اگلے دو ماہ کے اندر ہر حال میں ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز فروخت کرنے کی پابند ہے، دوسری صورت میں ایپ پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1258023</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Apr 2025 19:09:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/26183438f310810.jpg?r=183456" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/26183438f310810.jpg?r=183456"/>
        <media:title>—فوٹو: انسٹاگرام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
