<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 20 May 2026 08:35:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 20 May 2026 08:35:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایٹمی پروگرام پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کا چوتھا دور ہفتے کو روم میں ہوگا، ایرانی وزیرخارجہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1258310/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایرانی وزیرخارجہ  عباسی عراقچی نے کہا  ہے کہ ایٹمی پروگرام پر امریکا  کے ساتھ مذاکرات کا چوتھا دور ہفتے کو اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے  اے ایف  پی کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام  پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے تین دور ہوچکے ہیں، خیال رہے کہ مغرب سمجھتا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کا مقصد ایٹمی ہتھیار بنانا ہے جبکہ ایران اس کی تردید کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عمان کی ثالثی میں 12 اپریل سے  شروع ہونے والے یہ مذاکرات برسوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور روم میں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایرانی حکام جمعے کے روز برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے،  یہ تمام ممالک 2015 کے جوہری معاہدے کے فریق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256911"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے میں ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بدلے میں پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن  2018 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ  پہلی بار امریکی صدر  بنے تھے تو امریکا اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا  تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی جانب سے یورپی ممالک کی طرف سے دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کے بعد، اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے کہا کہ  دھمکیاں اور معاشی بلیک میلنگ  قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سفارتی مشن نے ایران کی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کی طرف سے بدھ کو نشر کیے گئے ایک خط میں کہا،’ حقیقی سفارت کاری دھمکیوں یا دباؤ کے تحت آگے نہیں بڑھ سکتی۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے مارچ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں مذاکرات پر زور دیا گیا تھا اور  مذاکرات سے انکار کی صورت میں ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256971"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں دوبارہ امریکی صدارت  سنبھالنے کے بعد سے، ٹرمپ نے اپنی ’ زیادہ سے زیادہ دباؤ ’  کی مہم  دوبارہ شروع کی، جو ان کے پہلے دور کے انداز کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران نے اصرار کیا ہے کہ جاری مذاکرات کا محور صرف ایٹمی پروگرام اور پابندیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے  مذاکرات کے آخری دور کے دوران، دونوں فریقین نے پیش رفت کی اطلاع دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایرانی وزیرخارجہ  عباسی عراقچی نے کہا  ہے کہ ایٹمی پروگرام پر امریکا  کے ساتھ مذاکرات کا چوتھا دور ہفتے کو اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہوگا۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے  اے ایف  پی کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام  پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے تین دور ہوچکے ہیں، خیال رہے کہ مغرب سمجھتا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کا مقصد ایٹمی ہتھیار بنانا ہے جبکہ ایران اس کی تردید کرتا ہے۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عمان کی ثالثی میں 12 اپریل سے  شروع ہونے والے یہ مذاکرات برسوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ ہیں۔</p>
<p>بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور روم میں ہوگا۔</p>
<p>ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایرانی حکام جمعے کے روز برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے،  یہ تمام ممالک 2015 کے جوہری معاہدے کے فریق ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256911"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس معاہدے میں ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بدلے میں پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن  2018 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ  پہلی بار امریکی صدر  بنے تھے تو امریکا اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا  تھا۔</p>
<p>فرانس کی جانب سے یورپی ممالک کی طرف سے دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کے بعد، اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے کہا کہ  دھمکیاں اور معاشی بلیک میلنگ  قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔</p>
<p>ایران کے سفارتی مشن نے ایران کی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کی طرف سے بدھ کو نشر کیے گئے ایک خط میں کہا،’ حقیقی سفارت کاری دھمکیوں یا دباؤ کے تحت آگے نہیں بڑھ سکتی۔’</p>
<p>ٹرمپ نے مارچ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں مذاکرات پر زور دیا گیا تھا اور  مذاکرات سے انکار کی صورت میں ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1256971"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جنوری میں دوبارہ امریکی صدارت  سنبھالنے کے بعد سے، ٹرمپ نے اپنی ’ زیادہ سے زیادہ دباؤ ’  کی مہم  دوبارہ شروع کی، جو ان کے پہلے دور کے انداز کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>تہران نے اصرار کیا ہے کہ جاری مذاکرات کا محور صرف ایٹمی پروگرام اور پابندیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>ہفتے کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے  مذاکرات کے آخری دور کے دوران، دونوں فریقین نے پیش رفت کی اطلاع دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1258310</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Apr 2025 17:27:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/04/301708467a9fa3e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/04/301708467a9fa3e.jpg"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
