<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 06:41:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 06:41:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو درست قرار دے دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1258786/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو درست قرار دے دیا، حکومت کی انٹراکورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے آرمی ایکٹ کو اصل شکل میں بحال کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے مختصر فیصلہ سنا دیا، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرا کورٹ اپیلیں 2-5 کی اکثریت سے منظور کی گئی ہیں، جسٹس نعیم الدین افغان اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258640"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 7 رکنی آئینی بینچ نے تقریباً 5 ماہ تک جاری رہنے والی سماعتوں کے بعد پیر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پس منظر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سویلین کے ملٹری ٹرائل کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے لیے گزشتہ سال 6 دسمبر کو جسٹس امین الدین خان کی سرابراہی میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1247995"&gt;&lt;strong&gt;7 رکنی آئینی بینچ تشکیل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دیا تھا جس نے 9 دسمبر کو &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1248132"&gt;&lt;strong&gt;اپیلوں پر سماعت شروع&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں مقدمے کی سماعت کے دوران آئینی عدالت نے 13 دسمبر 2024 کو 9 مئی کے واقعات میں ملوث &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1248469/"&gt;&lt;strong&gt;85 ملزمان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے فیصلے سنانے کی اجازت دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہوں گے، جس کے بعد فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں 21 دسمبر کو &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1249074"&gt;&lt;strong&gt;20 ملزموں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو 10 سال تک قید کی سزا سنائی تھی  جبکہ 26 دسمبر کو دوسرے مرحلے میں عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی سمیت &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1249451"&gt;&lt;strong&gt;60 ملزموں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو درست قرار دے دیا، حکومت کی انٹراکورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے آرمی ایکٹ کو اصل شکل میں بحال کردیا گیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے مختصر فیصلہ سنا دیا، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔</p>
<p>انٹرا کورٹ اپیلیں 2-5 کی اکثریت سے منظور کی گئی ہیں، جسٹس نعیم الدین افغان اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258640"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ 7 رکنی آئینی بینچ نے تقریباً 5 ماہ تک جاری رہنے والی سماعتوں کے بعد پیر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔</p>
<h1><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پس منظر</h1>
<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سویلین کے ملٹری ٹرائل کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے لیے گزشتہ سال 6 دسمبر کو جسٹس امین الدین خان کی سرابراہی میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1247995"><strong>7 رکنی آئینی بینچ تشکیل</strong></a> دیا تھا جس نے 9 دسمبر کو <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1248132"><strong>اپیلوں پر سماعت شروع</strong></a> کی تھی۔</p>
<p>بعدازاں مقدمے کی سماعت کے دوران آئینی عدالت نے 13 دسمبر 2024 کو 9 مئی کے واقعات میں ملوث <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1248469/"><strong>85 ملزمان</strong></a> کے فیصلے سنانے کی اجازت دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہوں گے، جس کے بعد فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں 21 دسمبر کو <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1249074"><strong>20 ملزموں</strong></a> کو 10 سال تک قید کی سزا سنائی تھی  جبکہ 26 دسمبر کو دوسرے مرحلے میں عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی سمیت <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1249451"><strong>60 ملزموں</strong></a> کو 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1258786</guid>
      <pubDate>Wed, 07 May 2025 15:33:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/071417439918135.png?r=143643" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/071417439918135.png?r=143643"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
