<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 09:55:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 09:55:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیڑھ سال بعد پاکستان میں ایکس کی سروس بحال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1258814/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کی سروسز پاکستان بھر میں 7 مئی کو ازخود بحال کردی گئیں، ملک میں ڈیڑھ سال بعد ایکس کو فعال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس کو فروری 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد غیر اعلانیہ طور پر بند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس کی سروسز بند کیے جانے پر متعدد سماجی ارکان نے عدالتوں میں درخواستیں بھی دائر کیں اور ان پر سماعتیں بھی ہوئیں، جہاں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) حکام نے بتایا تھا کہ وزارت داخلہ کی ہدایات پر ایکس کو بند کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ نے سندھ ہائی کورٹ سمیت دیگر عدالتوں کو ایکس پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں میں رپورٹ طلب کرنے پر بتایا تھا کہ عام انتخابات کے بعد ایکس پر کچھ ملک دشمن عناصر نے غلط معلومات پھیلانا شروع کی اور انتشار سے بچنے کے لیے اس کی سروسز معطل کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258785"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کا موقف تھا کہ ایکس نے حکومتی احکامات نظر انداز کیے اور انتشار پھیلانے والے اکاؤنٹس کو معطل نہ کرنے پر ایکس کی سروسز بند کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ایکس کی سروسز فروری 2024 سے 7 مئی 2025 تک بند رہیں اور صارفین ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورک (وی پی این) استعمال کرکے ایکس چلاتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم 7 مئی کو بھارت کی جانب سے پاکستان کے 6 مقامات پر حملے اور پاکستانی فوج کی جانب سے بھارتی جنگی طیارے تباہ کرنے کے واقعے کے بعد حکومت پاکستان نے ایکس کی سروس از خود بحال کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے حکام نے ڈان نیوز سے مختصر بات کرتے ہوئے ایکس کی سروس بحال کرنے کی تصدیق کی، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ایکس کی سروس ہمیشہ کے لیے بحال کردی گئی یا پھر اسے جزوی طور پر کچھ عرصے کے لیے بحال کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس کے پاکستان بھر میں اگرچہ 45 لاکھ تک صارفین ہیں، تاہم اسے سیاسی و سماجی مسائل پر بحث کرنے کی وجہ سے منفرد حیثیت حاصل ہے، اس لیے زیادہ تر نشریاتی ادارے بھی ایکس پر صارفین کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات پر نظر رکھتے اور اہمیت دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس کی منفرد اہمیت کی وجہ سے پاکستان نے اس کی سروس بحال کی، جہاں پر پاکستانی ایکس صارفین نے بھارتی حملے کی مذمت کرنے سمیت بھارت سرکار کو آئینہ بھی دکھایا اور پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کی سروسز پاکستان بھر میں 7 مئی کو ازخود بحال کردی گئیں، ملک میں ڈیڑھ سال بعد ایکس کو فعال کیا گیا۔</p>
<p>ایکس کو فروری 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد غیر اعلانیہ طور پر بند کردیا گیا تھا۔</p>
<p>ایکس کی سروسز بند کیے جانے پر متعدد سماجی ارکان نے عدالتوں میں درخواستیں بھی دائر کیں اور ان پر سماعتیں بھی ہوئیں، جہاں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) حکام نے بتایا تھا کہ وزارت داخلہ کی ہدایات پر ایکس کو بند کیا گیا۔</p>
<p>وزارت داخلہ نے سندھ ہائی کورٹ سمیت دیگر عدالتوں کو ایکس پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں میں رپورٹ طلب کرنے پر بتایا تھا کہ عام انتخابات کے بعد ایکس پر کچھ ملک دشمن عناصر نے غلط معلومات پھیلانا شروع کی اور انتشار سے بچنے کے لیے اس کی سروسز معطل کی گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258785"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزارت داخلہ کا موقف تھا کہ ایکس نے حکومتی احکامات نظر انداز کیے اور انتشار پھیلانے والے اکاؤنٹس کو معطل نہ کرنے پر ایکس کی سروسز بند کی گئیں۔</p>
<p>پاکستان میں ایکس کی سروسز فروری 2024 سے 7 مئی 2025 تک بند رہیں اور صارفین ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورک (وی پی این) استعمال کرکے ایکس چلاتے رہے۔</p>
<p>تاہم 7 مئی کو بھارت کی جانب سے پاکستان کے 6 مقامات پر حملے اور پاکستانی فوج کی جانب سے بھارتی جنگی طیارے تباہ کرنے کے واقعے کے بعد حکومت پاکستان نے ایکس کی سروس از خود بحال کردی۔</p>
<p>پی ٹی اے حکام نے ڈان نیوز سے مختصر بات کرتے ہوئے ایکس کی سروس بحال کرنے کی تصدیق کی، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ایکس کی سروس ہمیشہ کے لیے بحال کردی گئی یا پھر اسے جزوی طور پر کچھ عرصے کے لیے بحال کیا گیا ہے۔</p>
<p>ایکس کے پاکستان بھر میں اگرچہ 45 لاکھ تک صارفین ہیں، تاہم اسے سیاسی و سماجی مسائل پر بحث کرنے کی وجہ سے منفرد حیثیت حاصل ہے، اس لیے زیادہ تر نشریاتی ادارے بھی ایکس پر صارفین کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات پر نظر رکھتے اور اہمیت دیتے ہیں۔</p>
<p>ایکس کی منفرد اہمیت کی وجہ سے پاکستان نے اس کی سروس بحال کی، جہاں پر پاکستانی ایکس صارفین نے بھارتی حملے کی مذمت کرنے سمیت بھارت سرکار کو آئینہ بھی دکھایا اور پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1258814</guid>
      <pubDate>Wed, 07 May 2025 21:16:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/07191531485a8a4.jpg?r=191634" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/07191531485a8a4.jpg?r=191634"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
