<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:24:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:24:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، صدر عالمی بینک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1259341/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی بینک کے صدر نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس معاہدے کو دونوں فریقین کی مرضی سے ختم یا اس میں ترمیم  تو کی جا سکتی ہے مگر یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی ویژن چینل  سی این بی سی  کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر عالمی بینک اجے بنگا نے میزبان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (  انڈس واٹر ٹریٹی )  کی معطلی کے بھارتی اقدام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ  سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا گیا، بلکہ  تکنیکی طور پر بھارتی حکومت نے اسے ’ التوا میں’  قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں معطلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس معاہدے کو ختم  یا تبدیل تو کیا جاسکتا مگر اس کے لیے دونوں ممالک  کا راضی ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بنگا نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار بنیادی طور پر سہولت کار کا ہے، اگر  فریقین میں  اختلاف ہو تو ہمارا کام فیصلہ کرنا نہیں ہے،  بلکہ  ان کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار ماہر یا ثالثی عدالت تلاش کرنے کے لیے ایک عمل سے گزرنا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/X6twFXRYg4o?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر عالمی بینک نے کہا کہ ہمیں ان لوگوں کی فیس ایک ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے ادا کرنی ہوتی ہے جو معاہدے کے وقت بینک میں قائم کیا گیا تھا، ہمارا کردار بس اتنا ہی ہے، اس سے آگے ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجھے ابھی تک کسی بھی ملک سے سندھ طاس معاہدے ( کی معطلی ) سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ملی  ہے، میں جانتا ہوں کہ میڈیا میں اس بارے میں بہت قیاس آرائیاں ہیں کہ عالمی بینک  بھارتی اقدام کا سدباب کرے گا یا نہیں، یا اس  ( عالمی بینک ) سے رجوع کیا جائے گا یا نہیں، یہ سب  فضول باتیں ہیں کیونکہ ہمارا ایسا کوئی کردار نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجے بنگا نے کہا کہ  یہ معاہدہ دو خودمختار ممالک کے درمیان ہے اور انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں، یہ ان کا فیصلہ ہوگا، یہ معاہدہ 60 سال سے چلا آرہا ہے، اگرچہ  اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں  نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار وہی ہے جو معاہدے میں بیان کیا گیا ہے، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 22 اپریل 2025 کو &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1257701/"&gt;&lt;strong&gt;پہلگام واقعے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی کا آغاز کیا تھا جس کے بعد دونوں میں ملکوں میں سرد مہری کا شکار تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1257798/"&gt;&lt;strong&gt;سندھ طاس معاہدہ معطل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستانی سفارتی عملے کو محدود کردیا تھا جبکہ بھارت میں موجود پاکستانی کے ویزے منسوخ کرتے ہوئے علاج کی غرض سے جانے والے بچوں سمیت تمام پاکستانیوں کو وطن واپس بھیج دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی غیرقانونی معطلی کو &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1257839"&gt;&lt;strong&gt;اعلان جنگ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; قرار دیتے ہوئے بھارتی سفارتی عملے کو محدود کرنے کے ساتھ سکھ یاتریوں کے علاوہ تمام بھارتیوں کے ویزے منسوخ کردیے تھے، جبکہ بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت منسوخ کرتے ہوئے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں بھارت نے 6 اور 7 فروری کی درمیانی شب کوٹلی، بہاولپور، مریدکے، باغ اور مظفر آباد سمیت 6 مقامات پر &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1258754"&gt;&lt;strong&gt;میزائل حملے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیے جس کے نتیجے میں 26 شہری شہید اور 46 زخمی ہوئے تھے، جس کے جواب میں پاکستان فوری دفاعی کارروائی کرتے ہوئے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے 10 فروری کی رات پاکستان کی 3 ایئربیسز کو میزائل اور ڈرون &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1259020"&gt;&lt;strong&gt;حملوں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سے نشانہ بنایا جس کے بعد علی الصبح پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1259024/"&gt;&lt;strong&gt;’آپریشن بنیان مرصوص‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; (آہنی دیوار) کا آغاز کیا تھا اور بھارت میں ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور ایئربیسز اور کئی ایئرفیلڈز سمیت براہموس اسٹوریج سائٹ اور میزائل دفاعی نظام ایس 400 کے علاوہ متعدد اہداف کو تباہ کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستان کے عوام اور مساجد کو جن ایئربیسز سے ٹارگٹ کیا گیا تھا، ان اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فجر کے وقت دشمن کے خلاف آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کا آغاز کیا گیا اور بھارت پر فتح ون میزائل فائر کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاکستانی میزائلوں سے بیاس کے علاقے میں براہموس اسٹوریج سائٹ تباہ کردی گئی تھی، جبکہ پاک فوج نے پٹھان کوٹ میں ایئرفیلڈ کو بھی تباہ کردیا، راجوڑی اور نوشہرہ میں پاکستان میں دہشت گردی کروانے والے بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کے تربیتی مراکز بھی تباہ کر دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی بینک کے صدر نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس معاہدے کو دونوں فریقین کی مرضی سے ختم یا اس میں ترمیم  تو کی جا سکتی ہے مگر یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>ٹیلی ویژن چینل  سی این بی سی  کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر عالمی بینک اجے بنگا نے میزبان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (  انڈس واٹر ٹریٹی )  کی معطلی کے بھارتی اقدام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ  سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا گیا، بلکہ  تکنیکی طور پر بھارتی حکومت نے اسے ’ التوا میں’  قرار دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں معطلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس معاہدے کو ختم  یا تبدیل تو کیا جاسکتا مگر اس کے لیے دونوں ممالک  کا راضی ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>اجے بنگا نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار بنیادی طور پر سہولت کار کا ہے، اگر  فریقین میں  اختلاف ہو تو ہمارا کام فیصلہ کرنا نہیں ہے،  بلکہ  ان کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار ماہر یا ثالثی عدالت تلاش کرنے کے لیے ایک عمل سے گزرنا ہے ۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/X6twFXRYg4o?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صدر عالمی بینک نے کہا کہ ہمیں ان لوگوں کی فیس ایک ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے ادا کرنی ہوتی ہے جو معاہدے کے وقت بینک میں قائم کیا گیا تھا، ہمارا کردار بس اتنا ہی ہے، اس سے آگے ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجھے ابھی تک کسی بھی ملک سے سندھ طاس معاہدے ( کی معطلی ) سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ملی  ہے، میں جانتا ہوں کہ میڈیا میں اس بارے میں بہت قیاس آرائیاں ہیں کہ عالمی بینک  بھارتی اقدام کا سدباب کرے گا یا نہیں، یا اس  ( عالمی بینک ) سے رجوع کیا جائے گا یا نہیں، یہ سب  فضول باتیں ہیں کیونکہ ہمارا ایسا کوئی کردار نہیں ہے۔</p>
<p>اجے بنگا نے کہا کہ  یہ معاہدہ دو خودمختار ممالک کے درمیان ہے اور انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں، یہ ان کا فیصلہ ہوگا، یہ معاہدہ 60 سال سے چلا آرہا ہے، اگرچہ  اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں  نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار وہی ہے جو معاہدے میں بیان کیا گیا ہے، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم۔</p>
<p>یاد رہے کہ 22 اپریل 2025 کو <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1257701/"><strong>پہلگام واقعے</strong></a> کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی کا آغاز کیا تھا جس کے بعد دونوں میں ملکوں میں سرد مہری کا شکار تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔</p>
<p>بھارت نے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1257798/"><strong>سندھ طاس معاہدہ معطل</strong></a> کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستانی سفارتی عملے کو محدود کردیا تھا جبکہ بھارت میں موجود پاکستانی کے ویزے منسوخ کرتے ہوئے علاج کی غرض سے جانے والے بچوں سمیت تمام پاکستانیوں کو وطن واپس بھیج دیا تھا۔</p>
<p>جواب میں پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی غیرقانونی معطلی کو <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1257839"><strong>اعلان جنگ</strong></a> قرار دیتے ہوئے بھارتی سفارتی عملے کو محدود کرنے کے ساتھ سکھ یاتریوں کے علاوہ تمام بھارتیوں کے ویزے منسوخ کردیے تھے، جبکہ بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت منسوخ کرتے ہوئے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کردی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں بھارت نے 6 اور 7 فروری کی درمیانی شب کوٹلی، بہاولپور، مریدکے، باغ اور مظفر آباد سمیت 6 مقامات پر <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1258754"><strong>میزائل حملے</strong></a> کیے جس کے نتیجے میں 26 شہری شہید اور 46 زخمی ہوئے تھے، جس کے جواب میں پاکستان فوری دفاعی کارروائی کرتے ہوئے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تھے۔</p>
<p>بھارت نے 10 فروری کی رات پاکستان کی 3 ایئربیسز کو میزائل اور ڈرون <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1259020"><strong>حملوں</strong></a> سے نشانہ بنایا جس کے بعد علی الصبح پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1259024/"><strong>’آپریشن بنیان مرصوص‘</strong></a> (آہنی دیوار) کا آغاز کیا تھا اور بھارت میں ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور ایئربیسز اور کئی ایئرفیلڈز سمیت براہموس اسٹوریج سائٹ اور میزائل دفاعی نظام ایس 400 کے علاوہ متعدد اہداف کو تباہ کردیا تھا۔</p>
<p>سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستان کے عوام اور مساجد کو جن ایئربیسز سے ٹارگٹ کیا گیا تھا، ان اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فجر کے وقت دشمن کے خلاف آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کا آغاز کیا گیا اور بھارت پر فتح ون میزائل فائر کیے گئے تھے۔</p>
<p>اسی طرح پاکستانی میزائلوں سے بیاس کے علاقے میں براہموس اسٹوریج سائٹ تباہ کردی گئی تھی، جبکہ پاک فوج نے پٹھان کوٹ میں ایئرفیلڈ کو بھی تباہ کردیا، راجوڑی اور نوشہرہ میں پاکستان میں دہشت گردی کروانے والے بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کے تربیتی مراکز بھی تباہ کر دیے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1259341</guid>
      <pubDate>Wed, 14 May 2025 18:43:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/14183308665f563.jpg?r=183315" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/14183308665f563.jpg?r=183315"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/14170312fe42de0.jpg?r=183315" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/14170312fe42de0.jpg?r=183315"/>
        <media:title>فوٹو:  فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
