<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 15:39:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 15:39:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی جریدے نے پاکستان کی اقتصادی بحالی کو ’ معاشی معجزہ’ قرار دے دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1259346/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کے ساتھ بڑھی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستانی معیشت نے حیران کُن کارکردگی  دکھائی ہے جہاں سالانہ افراط زر 40 فیصد سے کم ہو کر تقریباً صفر تک پہنچ  گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جریدے ’ بیرنز’ کی رپورٹ کے مطابق  گزشتہ دو سالوں  میں پاکستان میں ایک’ معاشی معجزہ’  ہوا ہے جہاں سالانہ افراط زر 40 فیصد سے کم ہو کر تقریباً صفر تک پہنچ گئی، وہیں 2031 میں میچور ہونے والے یورو بانڈز 40 سینٹ فی ڈالر سے بڑھ کر 80 سینٹ تک پہنچ گئے، جبکہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں بھی تین گنا اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے گزشتہ ستمبر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  ( آئی ایم ایف ) کے ساتھ ایک’ استحکام کا معاہدہ’  کیا تھا، جس  کے تحت آئی ایم ایف نے  7  ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کی منظوری دی تھی، 7 ارب ڈالر میں سے دو ارب  ڈالر سے زیادہ کی رقم پہلے  ہی پاکستان کو موصول ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ بیرنز ’  کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعہ ’ ممکنہ طور پر پاکستان کی معاشی بحالی کو متاثر نہیں کرے گا  تاہم ملکی داخلی مسائل معاشی بحالی کے عمل پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259320"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ بیرنگز ’ میں مینیجر  کے عہدے پر فائز خالد سلامی کے مطابق،’ پاکستان اپنی تاریخ میں اتار چڑھاؤ کے ادوار کے لیے جانا جاتا ہے، تاہم کچھ ایسے اشارے ہیں کہ اس  بار صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں استحکام کا دور 2022-23 میں عمران خان کی برطرفی کے بعد تقریباً ڈیفالٹ کے تجربے سے شروع ہوا، فرنٹئیر مارکیٹس کی ماہر وولٹن کیپٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر ایلیسن گراہم  کہتی ہیں کہ سب  سوچ رہے تھے کہ 2023 میں پاکستان سری لنکا کے ساتھ ڈیفالٹ کر جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بجائے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود کو 10 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کر دیا، جس سے ملک کساد بازاری کا شکار ہوا لیکن افراط زر پر قابو پالییا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال، ملک نے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے قرضے حاصل کیے، جبکہ جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 فیصد  کی شرح پر پلٹ آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259313"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خالد سلامی کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مثبت ہے، اور ان کے پاس بنیادی مالیاتی سرپلس ہے (سود کی ادائیگیوں کو چھوڑ کر)، اور  یہ وہ چیز ہے جو ہم نے کئی سالوں میں نہیں دیکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اب بھی ’ نسبتاً جمود’  کا شکار ہے، جس میں کپاس، ملبوسات اور اناج کی برآمدات دو تہائی ہیں، جبکہ بھارت نے آئی ٹی اور فارماسیوٹیکلز جیسی جدید صنعتوں میں ترقی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خالی سلامی  کے مطابق پاکستان  تاخیر سے آئی ٹی آؤٹ سورسنگ میں داخل ہو رہا ہے،   اور اس کی آئی ٹی کی برآمدات  چند سالوں میں تقریباً صفر سے بڑھ کر سالانہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ بھارت 200  ارب ڈالر کی حد میں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کے ساتھ بڑھی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستانی معیشت نے حیران کُن کارکردگی  دکھائی ہے جہاں سالانہ افراط زر 40 فیصد سے کم ہو کر تقریباً صفر تک پہنچ  گئی۔</p>
<p>امریکی جریدے ’ بیرنز’ کی رپورٹ کے مطابق  گزشتہ دو سالوں  میں پاکستان میں ایک’ معاشی معجزہ’  ہوا ہے جہاں سالانہ افراط زر 40 فیصد سے کم ہو کر تقریباً صفر تک پہنچ گئی، وہیں 2031 میں میچور ہونے والے یورو بانڈز 40 سینٹ فی ڈالر سے بڑھ کر 80 سینٹ تک پہنچ گئے، جبکہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں بھی تین گنا اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>حکومت نے گزشتہ ستمبر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  ( آئی ایم ایف ) کے ساتھ ایک’ استحکام کا معاہدہ’  کیا تھا، جس  کے تحت آئی ایم ایف نے  7  ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کی منظوری دی تھی، 7 ارب ڈالر میں سے دو ارب  ڈالر سے زیادہ کی رقم پہلے  ہی پاکستان کو موصول ہوچکی ہے۔</p>
<p>’ بیرنز ’  کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعہ ’ ممکنہ طور پر پاکستان کی معاشی بحالی کو متاثر نہیں کرے گا  تاہم ملکی داخلی مسائل معاشی بحالی کے عمل پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259320"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>’ بیرنگز ’ میں مینیجر  کے عہدے پر فائز خالد سلامی کے مطابق،’ پاکستان اپنی تاریخ میں اتار چڑھاؤ کے ادوار کے لیے جانا جاتا ہے، تاہم کچھ ایسے اشارے ہیں کہ اس  بار صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔’</p>
<p>پاکستان میں استحکام کا دور 2022-23 میں عمران خان کی برطرفی کے بعد تقریباً ڈیفالٹ کے تجربے سے شروع ہوا، فرنٹئیر مارکیٹس کی ماہر وولٹن کیپٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر ایلیسن گراہم  کہتی ہیں کہ سب  سوچ رہے تھے کہ 2023 میں پاکستان سری لنکا کے ساتھ ڈیفالٹ کر جائے گا۔</p>
<p>اس کے بجائے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود کو 10 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کر دیا، جس سے ملک کساد بازاری کا شکار ہوا لیکن افراط زر پر قابو پالییا گیا۔</p>
<p>گزشتہ سال، ملک نے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے قرضے حاصل کیے، جبکہ جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 فیصد  کی شرح پر پلٹ آئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259313"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خالد سلامی کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مثبت ہے، اور ان کے پاس بنیادی مالیاتی سرپلس ہے (سود کی ادائیگیوں کو چھوڑ کر)، اور  یہ وہ چیز ہے جو ہم نے کئی سالوں میں نہیں دیکھی۔</p>
<p>پاکستان اب بھی ’ نسبتاً جمود’  کا شکار ہے، جس میں کپاس، ملبوسات اور اناج کی برآمدات دو تہائی ہیں، جبکہ بھارت نے آئی ٹی اور فارماسیوٹیکلز جیسی جدید صنعتوں میں ترقی کی ہے۔</p>
<p>خالی سلامی  کے مطابق پاکستان  تاخیر سے آئی ٹی آؤٹ سورسنگ میں داخل ہو رہا ہے،   اور اس کی آئی ٹی کی برآمدات  چند سالوں میں تقریباً صفر سے بڑھ کر سالانہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ بھارت 200  ارب ڈالر کی حد میں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1259346</guid>
      <pubDate>Wed, 14 May 2025 18:55:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/1417395617f2954.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/1417395617f2954.jpg"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
