<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 07:34:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 07:34:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی سیلز ٹیکس قانون میں ترمیم کو بحال کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1259388/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پارلیمنٹ کے ذریعے متعارف کرائے گئے فنانس ایکٹ 2024 کے تحت سیلز ٹیکس ایکٹ کے شیڈول 6 کے انٹری نمبر 151 میں ترمیم کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1911118/cb-restores-parliaments-tweak-to-sales-tax-law"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچ نے پاکستان گھی ملز ایسوسی ایشن اور پاکستان اسٹیل ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر کے ذریعے دائر کردہ اپیل کے خلاف 31 اکتوبر 2024 کو پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کیے اور تمام متعلقہ درخواستوں کو یکجا کرنے کا حکم دیا، جب کہ موجودہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی ترمیم کو بحال اور برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246435"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے دلائل دیے کہ پارلیمنٹ کو سیلز ٹیکس ایکٹ، قانون سازی اور ترمیم کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے، اور 2024 کے مالیاتی ایکٹ کے ذریعے شامل کردہ انٹری نمبر 151 قانون سازی کے اختیار کا جائز استعمال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے  پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی جس نے اس شق کو کالعدم قرار دیا اور قانونی اصطلاح ’پے آرڈر‘ کو ’پوسٹ ڈیٹڈ چیک‘ سے تبدیل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ کا فیصلہ عدالتی قانون سازی کے مترادف ہے اور یہ مشاہدہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کسی قانون کے واضح الفاظ کو تبدیل نہیں کرسکتی، اور نہ ہی وہ اس قانون سازی کا ’اختیار‘ سنبھال سکتی ہے، جو خاص طور پر پارلیمنٹ کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پارلیمنٹ کے ذریعے متعارف کرائے گئے فنانس ایکٹ 2024 کے تحت سیلز ٹیکس ایکٹ کے شیڈول 6 کے انٹری نمبر 151 میں ترمیم کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1911118/cb-restores-parliaments-tweak-to-sales-tax-law"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچ نے پاکستان گھی ملز ایسوسی ایشن اور پاکستان اسٹیل ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر کے ذریعے دائر کردہ اپیل کے خلاف 31 اکتوبر 2024 کو پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔</p>
<p>آئینی بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کیے اور تمام متعلقہ درخواستوں کو یکجا کرنے کا حکم دیا، جب کہ موجودہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی ترمیم کو بحال اور برقرار رکھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246435"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وکیل نے دلائل دیے کہ پارلیمنٹ کو سیلز ٹیکس ایکٹ، قانون سازی اور ترمیم کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے، اور 2024 کے مالیاتی ایکٹ کے ذریعے شامل کردہ انٹری نمبر 151 قانون سازی کے اختیار کا جائز استعمال ہے۔</p>
<p>وکیل نے  پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی جس نے اس شق کو کالعدم قرار دیا اور قانونی اصطلاح ’پے آرڈر‘ کو ’پوسٹ ڈیٹڈ چیک‘ سے تبدیل کر دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ کا فیصلہ عدالتی قانون سازی کے مترادف ہے اور یہ مشاہدہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کسی قانون کے واضح الفاظ کو تبدیل نہیں کرسکتی، اور نہ ہی وہ اس قانون سازی کا ’اختیار‘ سنبھال سکتی ہے، جو خاص طور پر پارلیمنٹ کے پاس ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1259388</guid>
      <pubDate>Thu, 15 May 2025 10:57:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناصراقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/151001143a9580a.jpg?r=105718" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/151001143a9580a.jpg?r=105718"/>
        <media:title>وکیل نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر تنقید کی، جس نے اس شق کو کالعدم قرار دیا — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
