<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 04:25:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 04:25:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>استنبول: یوکرینی اور روسی حکام کے درمیان جنگ بندی پر براہ راست مذاکرات کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1259506/</link>
      <description>&lt;p&gt;یوکرینی اور روسی حکام کے مابین جنگ بندی کے حوالے سے استنبول میں مذاکرات جاری ہیں، جبکہ  یوکرینی صدر نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں عالمی رہنماؤں سے سخت ردعمل کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/live/c74nxrr7mwkt"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں یورپی سربراہی اجلاس سے مختصر خطاب کرتے ہوئے  یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہاکہ یوکرین کی اولین ترجیح ’ بغیر کسی شرط کے جنگ بندی’  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  اگر روسی وفد اس پر متفق نہیں ہو سکتا تو ’ یہ واضح ہے کہ پوتن جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے  روس کے ساتھ مذاکرات میں جنگ بندی پر اتفاق نہ ہونے پر عالمی رہنماؤں سے سخت ردعمل کی اپیل کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259484"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کے روز یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے بجائے ایک نچلی سطح کا وفد مجوزہ امن مذاکرات کے لیے بھیج دیا، جبکہ زیلنسکی نے کہا تھا کہ ان کے وزیر دفاع کیف کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، مارچ 2022 کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت ہونے جا رہی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے اس بیان نے اس عمل کو سبوتاژ کیا ہے کہ جب تک وہ اور پوتن اکٹھے نہیں ہوتے اس وقت تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال پر یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا  تھا کہ پوتن کا مذاکرات میں ذاتی طور پر شرکت نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں،  دوسری جانب، روس نے یوکرین پر الزام لگایا کہ وہ محض مذاکرات کا تاثر دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یوکرینی اور روسی حکام کے مابین جنگ بندی کے حوالے سے استنبول میں مذاکرات جاری ہیں، جبکہ  یوکرینی صدر نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں عالمی رہنماؤں سے سخت ردعمل کی اپیل کی ہے۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/live/c74nxrr7mwkt">رپورٹ</a></strong> کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔</p>
<p>قبل ازیں البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں یورپی سربراہی اجلاس سے مختصر خطاب کرتے ہوئے  یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہاکہ یوکرین کی اولین ترجیح ’ بغیر کسی شرط کے جنگ بندی’  ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  اگر روسی وفد اس پر متفق نہیں ہو سکتا تو ’ یہ واضح ہے کہ پوتن جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے۔’</p>
<p>یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے  روس کے ساتھ مذاکرات میں جنگ بندی پر اتفاق نہ ہونے پر عالمی رہنماؤں سے سخت ردعمل کی اپیل کردی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259484"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کے روز یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے بجائے ایک نچلی سطح کا وفد مجوزہ امن مذاکرات کے لیے بھیج دیا، جبکہ زیلنسکی نے کہا تھا کہ ان کے وزیر دفاع کیف کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، مارچ 2022 کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت ہونے جا رہی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے اس بیان نے اس عمل کو سبوتاژ کیا ہے کہ جب تک وہ اور پوتن اکٹھے نہیں ہوتے اس وقت تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔</p>
<p>اس صورتحال پر یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا  تھا کہ پوتن کا مذاکرات میں ذاتی طور پر شرکت نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں،  دوسری جانب، روس نے یوکرین پر الزام لگایا کہ وہ محض مذاکرات کا تاثر دے رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1259506</guid>
      <pubDate>Fri, 16 May 2025 18:32:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/1617580920aa1d2.jpg?r=182849" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/1617580920aa1d2.jpg?r=182849"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
