<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 23 May 2026 07:24:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 23 May 2026 07:24:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نائیجیریا آئی ایم ایف کو 3 ارب 40 کروڑ ڈالر ادا کرکے قرض سے آزاد ملک بن گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1259621/</link>
      <description>&lt;p&gt;نائیجیریا عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کوویڈ 19 کی وبا کے عروج پر حاصل کردہ 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض مکمل طور پر واپس کر کے قرض سے آزاد ملک بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائس آف افریقہ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thevoiceofafrica.com/2025/05/15/nigeria-pays-off-3-4-billion-imf-loan-strengthening-global-investor-confidence/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ ادائیگی 30 اپریل 2025 کو طے شدہ مدت سے پہلے مکمل کی گئی، جو مالیاتی ذمے داری اور بہتر قرض انتظام کی ایک مضبوط علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں کورونا وبا کے آغاز پر، نائیجیریا سمیت کئی ترقی پذیر معیشتیں شدید معاشی جمود، تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی، اور صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل سے دوچار تھیں، ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نائیجیریا نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا اور ری پیڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے تحت 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا ہنگامی قرض حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایف آئی ایک ایسا قرض کا نظام ہے، جو ان ممالک کو فوری مالی امداد فراہم کرتا ہے جو توازنِ ادائیگی کے شدید دباؤ کا شکار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائیجیریا نے یہ فنڈز صحت عامہ پر خرچ کرنے، کمزور طبقوں کو تحفظ دینے، اور معیشت کے کلیدی شعبوں کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیے، یہ قرض وبا کے سب سے پُرتشویش مہینوں میں معاشی تباہی کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے والا ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="تیز-رفتار-ادائیگی-اور-مالیاتی-نظم-و-ضبط" href="#تیز-رفتار-ادائیگی-اور-مالیاتی-نظم-و-ضبط" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تیز رفتار ادائیگی اور مالیاتی نظم و ضبط&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ قرض اصل میں طویل المدتی ادائیگی کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، نائیجیریا نے اسے طے شدہ مدت سے پہلے ہی مکمل طور پر ادا کر دیا، جس کا سہرا مبصرین بہتر مالیاتی نظم و ضبط اور مضبوط بیرونی زرمبادلہ ذخائر کو دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائیجیریا میں آئی ایم ایف کے نمائندہ کرسچین ایبیکے کے مطابق، آخری ادائیگی 30 اپریل 2025 تک مکمل کر دی گئی، اگرچہ نائیجیریا اب بھی 2029 تک ہر سال تقریباً 3 کروڑ ڈالر مالیت کے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) چارجز کی معمولی ادائیگیاں جاری رکھے گا، لیکن اصل قرض مکمل طور پر ادا کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قبل از وقت ادائیگی ایک علامتی اور عملی قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور نائیجیریا کی مالیاتی ذمے داری کے عزم کو ظاہر کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آئی-ایم-ایف-کے-قرض-دار-ممالک-کی-فہرست-سے-اخراج" href="#آئی-ایم-ایف-کے-قرض-دار-ممالک-کی-فہرست-سے-اخراج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آئی ایم ایف کے قرض دار ممالک کی فہرست سے اخراج&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;قرض کی مکمل ادائیگی کے بعد، نائیجیریا کو آئی ایم ایف کے قرض دار ممالک کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255115"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق نائیجیریا کا نام تازہ ترین رجسٹر میں موجود نہیں تھا، جس کی تصدیق ہو چکی ہے، اس سے قبل آئی ایم ایف کی فہرست میں 91 ممالک شامل تھے، جن پر مجموعی طور پر 117 ارب 80 کروڑ ڈالر کے بقایا جات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اخراج کے بعد، نائیجیریا ان چند ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے، جنہوں نے حال ہی میں وبا کے دوران حاصل کردہ قرضوں کی مکمل ادائیگی کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے نائیجیریا کو مستقبل میں عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات میں زیادہ سازگار مقام حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نائیجیریا عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کوویڈ 19 کی وبا کے عروج پر حاصل کردہ 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض مکمل طور پر واپس کر کے قرض سے آزاد ملک بن گیا۔</p>
<p>وائس آف افریقہ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thevoiceofafrica.com/2025/05/15/nigeria-pays-off-3-4-billion-imf-loan-strengthening-global-investor-confidence/"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ ادائیگی 30 اپریل 2025 کو طے شدہ مدت سے پہلے مکمل کی گئی، جو مالیاتی ذمے داری اور بہتر قرض انتظام کی ایک مضبوط علامت ہے۔</p>
<p>2020 میں کورونا وبا کے آغاز پر، نائیجیریا سمیت کئی ترقی پذیر معیشتیں شدید معاشی جمود، تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی، اور صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل سے دوچار تھیں، ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نائیجیریا نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا اور ری پیڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے تحت 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا ہنگامی قرض حاصل کیا تھا۔</p>
<p>آر ایف آئی ایک ایسا قرض کا نظام ہے، جو ان ممالک کو فوری مالی امداد فراہم کرتا ہے جو توازنِ ادائیگی کے شدید دباؤ کا شکار ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نائیجیریا نے یہ فنڈز صحت عامہ پر خرچ کرنے، کمزور طبقوں کو تحفظ دینے، اور معیشت کے کلیدی شعبوں کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیے، یہ قرض وبا کے سب سے پُرتشویش مہینوں میں معاشی تباہی کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے والا ثابت ہوا۔</p>
<h1><a id="تیز-رفتار-ادائیگی-اور-مالیاتی-نظم-و-ضبط" href="#تیز-رفتار-ادائیگی-اور-مالیاتی-نظم-و-ضبط" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تیز رفتار ادائیگی اور مالیاتی نظم و ضبط</h1>
<p>یہ قرض اصل میں طویل المدتی ادائیگی کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، نائیجیریا نے اسے طے شدہ مدت سے پہلے ہی مکمل طور پر ادا کر دیا، جس کا سہرا مبصرین بہتر مالیاتی نظم و ضبط اور مضبوط بیرونی زرمبادلہ ذخائر کو دیتے ہیں۔</p>
<p>نائیجیریا میں آئی ایم ایف کے نمائندہ کرسچین ایبیکے کے مطابق، آخری ادائیگی 30 اپریل 2025 تک مکمل کر دی گئی، اگرچہ نائیجیریا اب بھی 2029 تک ہر سال تقریباً 3 کروڑ ڈالر مالیت کے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) چارجز کی معمولی ادائیگیاں جاری رکھے گا، لیکن اصل قرض مکمل طور پر ادا کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ قبل از وقت ادائیگی ایک علامتی اور عملی قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور نائیجیریا کی مالیاتی ذمے داری کے عزم کو ظاہر کرنا ہے۔</p>
<h1><a id="آئی-ایم-ایف-کے-قرض-دار-ممالک-کی-فہرست-سے-اخراج" href="#آئی-ایم-ایف-کے-قرض-دار-ممالک-کی-فہرست-سے-اخراج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آئی ایم ایف کے قرض دار ممالک کی فہرست سے اخراج</h1>
<p>قرض کی مکمل ادائیگی کے بعد، نائیجیریا کو آئی ایم ایف کے قرض دار ممالک کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255115"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دستاویز کے مطابق نائیجیریا کا نام تازہ ترین رجسٹر میں موجود نہیں تھا، جس کی تصدیق ہو چکی ہے، اس سے قبل آئی ایم ایف کی فہرست میں 91 ممالک شامل تھے، جن پر مجموعی طور پر 117 ارب 80 کروڑ ڈالر کے بقایا جات تھے۔</p>
<p>اس اخراج کے بعد، نائیجیریا ان چند ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے، جنہوں نے حال ہی میں وبا کے دوران حاصل کردہ قرضوں کی مکمل ادائیگی کر دی ہے۔</p>
<p>اس اقدام سے نائیجیریا کو مستقبل میں عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات میں زیادہ سازگار مقام حاصل ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1259621</guid>
      <pubDate>Sun, 18 May 2025 13:03:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/181259276cc3912.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/181259276cc3912.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
