<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 05:30:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 05:30:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عورت مارچ پر غیر ملکی فنڈنگ کا الزام بے بنیاد ہے، شیما کرمانی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1259624/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں عورت مارچ کی ایک اہم رکن شیما کرمانی نے عورت مارچ پر غیر ملکی فنڈنگ کے الزام کو مسترد کردتے ہوئے کہا کہ عورت مارچ کو کہیں سے بھی فنڈنگ نہیں ملتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین کے حقوق کی علمبردار اور معروف کلاسیکی رقاصہ شیما کرمانی نے حال ہی میں ’ایف ایچ ایم‘ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://youtu.be/dvANg60UZYI?feature=shared"&gt;پوڈکاسٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں شرکت کی، جہاں انہوں نے عورت مارچ پر کھل کر گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عورت مارچ کے مقصد پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مارچ مردوں کے خلاف نہیں بلکہ اُس سوچ کے خلاف ہے جو عورت کو کمتر سمجھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول ہمارے معاشرے کے کچھ مرد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں سے زیادہ عقل مند ہیں اور ہم اسی سوچ کو بدلنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں شیما کرمانی نے کہا کہ عورت مارچ کے لیے ہم کہیں سے بھی فنڈنگ نہیں لیتے، حتیٰ کہ پانی کی بوتلیں بھی کسی سے مفت نہیں لیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255617"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ الزام لگانا غلط ہے کہ کسی بیرونی ادارے سے عورت مارچ کی فنڈنگ کی جاتی ہے، کیونکہ یہ مکمل طور پر خود انحصاری کی بنیاد پر منعقد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متنازع پوسٹرز کے حوالے سے شیما کرمانی نے وضاحت دی کہ بڑے بینرز ہم خود بناتے ہیں، جبکہ کچھ پوسٹرز وہ لوگ لے آتے ہیں جو مارچ میں شریک ہوتے ہیں، ہم کسی کو نہیں روکتے کہ وہ کیا لکھ کر لائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیما کرمانی نے مزید کہا کہ آج کا مرد ماضی کے مقابلے میں زیادہ غیر حساس اور منفی رویوں کا شکار ہو چکا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ آمریت کے دور میں فروغ پانے والی مردانہ بالادستی کی سوچ اور میڈیا کا کردار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستانی ڈراموں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان میں غیر شادی شدہ تعلقات کو معمول کی بات بنا کر پیش کیا جارہا ہے، جو حقیقت کی ترجمانی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ ہر مرد دوسری شادی کا خواہشمند نہیں ہوتا، نہ ہی ہر ساس منفی کردار ادا کرتی ہے اور نہ ہی ہر خاندان بکھرنے کے دہانے پر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1970 کی دہائی سے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم شیما کرمانی نے زور دیا کہ میڈیا کو معاشرتی اصلاح اور شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے، نہ کہ منفی سوچ اور کمزور رشتوں کو فروغ دینے کا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈرامہ نویسوں اور پروڈیوسرز پر زور دیا کہ وہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ایسا مواد تخلیق کریں جو اقدار، ہمدردی اور حقیقت پر مبنی ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں عورت مارچ کی ایک اہم رکن شیما کرمانی نے عورت مارچ پر غیر ملکی فنڈنگ کے الزام کو مسترد کردتے ہوئے کہا کہ عورت مارچ کو کہیں سے بھی فنڈنگ نہیں ملتی۔</p>
<p>خواتین کے حقوق کی علمبردار اور معروف کلاسیکی رقاصہ شیما کرمانی نے حال ہی میں ’ایف ایچ ایم‘ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://youtu.be/dvANg60UZYI?feature=shared">پوڈکاسٹ</a></strong> میں شرکت کی، جہاں انہوں نے عورت مارچ پر کھل کر گفتگو کی۔</p>
<p>عورت مارچ کے مقصد پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مارچ مردوں کے خلاف نہیں بلکہ اُس سوچ کے خلاف ہے جو عورت کو کمتر سمجھتی ہے۔</p>
<p>ان کے بقول ہمارے معاشرے کے کچھ مرد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں سے زیادہ عقل مند ہیں اور ہم اسی سوچ کو بدلنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں شیما کرمانی نے کہا کہ عورت مارچ کے لیے ہم کہیں سے بھی فنڈنگ نہیں لیتے، حتیٰ کہ پانی کی بوتلیں بھی کسی سے مفت نہیں لیتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255617"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ الزام لگانا غلط ہے کہ کسی بیرونی ادارے سے عورت مارچ کی فنڈنگ کی جاتی ہے، کیونکہ یہ مکمل طور پر خود انحصاری کی بنیاد پر منعقد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>متنازع پوسٹرز کے حوالے سے شیما کرمانی نے وضاحت دی کہ بڑے بینرز ہم خود بناتے ہیں، جبکہ کچھ پوسٹرز وہ لوگ لے آتے ہیں جو مارچ میں شریک ہوتے ہیں، ہم کسی کو نہیں روکتے کہ وہ کیا لکھ کر لائے ہیں۔</p>
<p>شیما کرمانی نے مزید کہا کہ آج کا مرد ماضی کے مقابلے میں زیادہ غیر حساس اور منفی رویوں کا شکار ہو چکا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ آمریت کے دور میں فروغ پانے والی مردانہ بالادستی کی سوچ اور میڈیا کا کردار ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستانی ڈراموں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان میں غیر شادی شدہ تعلقات کو معمول کی بات بنا کر پیش کیا جارہا ہے، جو حقیقت کی ترجمانی نہیں کرتا۔</p>
<p>شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ ہر مرد دوسری شادی کا خواہشمند نہیں ہوتا، نہ ہی ہر ساس منفی کردار ادا کرتی ہے اور نہ ہی ہر خاندان بکھرنے کے دہانے پر ہوتا ہے۔</p>
<p>1970 کی دہائی سے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم شیما کرمانی نے زور دیا کہ میڈیا کو معاشرتی اصلاح اور شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے، نہ کہ منفی سوچ اور کمزور رشتوں کو فروغ دینے کا۔</p>
<p>انہوں نے ڈرامہ نویسوں اور پروڈیوسرز پر زور دیا کہ وہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ایسا مواد تخلیق کریں جو اقدار، ہمدردی اور حقیقت پر مبنی ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1259624</guid>
      <pubDate>Sun, 18 May 2025 14:16:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/18140747751c8be.jpg?r=141136" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/18140747751c8be.jpg?r=141136"/>
        <media:title>فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
