<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 22:51:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 22:51:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا ساتھ کیوں دیا؟ بھارت میں ترکیہ اور آذربائیجان کا بائیکاٹ جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1259708/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے قریبی دوست ممالک میں شمار ہونے والے ترکیہ اور آذربائیجان کو بھارتی انتہاپسندوں کی جانب سے بائیکاٹ کا سامنا ہے، ہزاروں بھارتیوں نے دونوں ممالک کے سیاحتی دورے منسوخ کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/videos/news/amid-boycott-calls-over-pak-support-a-look-at-indias-trade-equation-with-turkey-azerbaijan/videoshow/121267310.cms"&gt;&lt;strong&gt;’ٹائمز آف انڈیا‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق بھارت کے ساتھ جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینے اور پاکستان کی حمایت کرنے پر ترکیہ اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کی مہم ابتدائی طور پر چند سیاست دانوں اور اداکاروں نے شروع کی، جس کے بعد تجارتی افراد بھی اس مہم کا حصہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کی مہم سوشل میڈیا پر شروع کیے جانے کے بعد جہاں ہزاروں بھارتیوں نے دونوں ممالک کے سیاحتی دورے منسوخ کردیے، وہیں اب دونوں ممالک سے تجارت کا بائیکاٹ بھی شروع کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی کمپنیوں نے دونوں ممالک کو فٹ بال کی فروخت پر بھی پابندی لگادی جب کہ دونوں ممالک سے مصنوعات منگوانے پر بھی پابندی عائد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259345"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح فیشن ملبوسات سمیت پھلوں، سبزوں اور دیگر خوراک کی ترکیہ اور آذربائیجان سے درآمد اور برآمد پر بھی پابندی عائد کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.news18.com/india/indians-boycott-trade-tourism-turkey-azerbaijan-operation-sindoor-pakistan-terrorism-ws-l-9335478.html#:~:text=Indians%20are%20boycotting%20Turkey%20and%20Azerbaijan%20as%20they,Turkey%20in%20the%20wake%20of%20recent%20tensions.%20%28Reuters%2FFile%29"&gt;&lt;strong&gt;’نیوز 18‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کے بیوپاریوں نے بھی ترکیہ کے پھلوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا جب کہ دیگر شعبہ جات میں بھی پاکستان کے دوست ممالک کو بائیکاٹ کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/business/story/boycott-turkey-hits-fashion-online-shopping-e-commerce-myntra-ajio-stop-selling-turkish-labels-2727016-2025-05-19"&gt;&lt;strong&gt;’انڈیا ٹوڈے‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ’آپریشن بنیان مرصوص‘ میں پاکستان کا ساتھ دینے اور پاکستان کی حمایت کرنے پر خصوصی طور پر ترکیہ کا ہر شعبے میں بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور اب آن لائن اسٹورز نے ترکیہ کے فیشن ہاؤسز کی ملبوسات کی فروخت بھی بند کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’آپریشن بنیان مرصوص‘ میں پاکستان کا ساتھ دینے کے بعد بھارتی سیاحتی افراد نے آذربائیجان اور ترکیہ کے دورے بھی منسوخ کردیے جب کہ صنعت کاروں نے بھی دونوں ممالک سے کاروبار کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ دن قبل بھارتی اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن روپالی گنگولی نے پاکستان دشمنی میں ایک قدم آگے جاتے ہوئے بھارتیوں سے ترکیہ کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بعد دیگر شوبز شخصیات سمیت سیاست دانوں نے بھی بھارتی عوام سے ترکیہ اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ اور آذربائیجان خصوصی طور پر سیاحت اور فلم بندی کے حوالے سے بھارت میں بہت مقبول ہیں اور متعدد بولی وڈ فلمیں وہاں فلمائی جا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے قریبی دوست ممالک میں شمار ہونے والے ترکیہ اور آذربائیجان کو بھارتی انتہاپسندوں کی جانب سے بائیکاٹ کا سامنا ہے، ہزاروں بھارتیوں نے دونوں ممالک کے سیاحتی دورے منسوخ کردیے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/videos/news/amid-boycott-calls-over-pak-support-a-look-at-indias-trade-equation-with-turkey-azerbaijan/videoshow/121267310.cms"><strong>’ٹائمز آف انڈیا‘</strong></a> کے مطابق بھارت کے ساتھ جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینے اور پاکستان کی حمایت کرنے پر ترکیہ اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کی مہم ابتدائی طور پر چند سیاست دانوں اور اداکاروں نے شروع کی، جس کے بعد تجارتی افراد بھی اس مہم کا حصہ بنے۔</p>
<p>ترکیہ اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کی مہم سوشل میڈیا پر شروع کیے جانے کے بعد جہاں ہزاروں بھارتیوں نے دونوں ممالک کے سیاحتی دورے منسوخ کردیے، وہیں اب دونوں ممالک سے تجارت کا بائیکاٹ بھی شروع کردیا گیا۔</p>
<p>بھارتی کمپنیوں نے دونوں ممالک کو فٹ بال کی فروخت پر بھی پابندی لگادی جب کہ دونوں ممالک سے مصنوعات منگوانے پر بھی پابندی عائد کردی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259345"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسی طرح فیشن ملبوسات سمیت پھلوں، سبزوں اور دیگر خوراک کی ترکیہ اور آذربائیجان سے درآمد اور برآمد پر بھی پابندی عائد کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.news18.com/india/indians-boycott-trade-tourism-turkey-azerbaijan-operation-sindoor-pakistan-terrorism-ws-l-9335478.html#:~:text=Indians%20are%20boycotting%20Turkey%20and%20Azerbaijan%20as%20they,Turkey%20in%20the%20wake%20of%20recent%20tensions.%20%28Reuters%2FFile%29"><strong>’نیوز 18‘</strong></a> کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کے بیوپاریوں نے بھی ترکیہ کے پھلوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا جب کہ دیگر شعبہ جات میں بھی پاکستان کے دوست ممالک کو بائیکاٹ کا سامنا ہے۔</p>
<p>ادھر <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/business/story/boycott-turkey-hits-fashion-online-shopping-e-commerce-myntra-ajio-stop-selling-turkish-labels-2727016-2025-05-19"><strong>’انڈیا ٹوڈے‘</strong></a> نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ’آپریشن بنیان مرصوص‘ میں پاکستان کا ساتھ دینے اور پاکستان کی حمایت کرنے پر خصوصی طور پر ترکیہ کا ہر شعبے میں بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور اب آن لائن اسٹورز نے ترکیہ کے فیشن ہاؤسز کی ملبوسات کی فروخت بھی بند کردی۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’آپریشن بنیان مرصوص‘ میں پاکستان کا ساتھ دینے کے بعد بھارتی سیاحتی افراد نے آذربائیجان اور ترکیہ کے دورے بھی منسوخ کردیے جب کہ صنعت کاروں نے بھی دونوں ممالک سے کاروبار کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔</p>
<p>کچھ دن قبل بھارتی اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن روپالی گنگولی نے پاکستان دشمنی میں ایک قدم آگے جاتے ہوئے بھارتیوں سے ترکیہ کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>ان کے بعد دیگر شوبز شخصیات سمیت سیاست دانوں نے بھی بھارتی عوام سے ترکیہ اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>ترکیہ اور آذربائیجان خصوصی طور پر سیاحت اور فلم بندی کے حوالے سے بھارت میں بہت مقبول ہیں اور متعدد بولی وڈ فلمیں وہاں فلمائی جا چکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1259708</guid>
      <pubDate>Mon, 19 May 2025 23:02:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/192144485e618a2.jpg?r=214453" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/192144485e618a2.jpg?r=214453"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
