<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 23 May 2026 08:26:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 23 May 2026 08:26:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او آئی سی نے مصنوعی ذہانت میں تعاون کا معاہدہ منظور کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1259822/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے منگل کے روز تہران اعلامیہ کو منظور کیا جس میں رکن ممالک کے درمیان پائیدار ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت میں تعاون کی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1912245/oic-nations-adopt-pact-for-ai-cooperation-in-tehran"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق تہران میں او آئی سی 15 ڈائیلاگ پلیٹ فارم کے دوسرے وزارتی اجلاس کے اختتام کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں اس مقصد کو ’پائیدار ترقی کے لیے قابل اعتماد اور اخلاقی مصنوعی ذہانت‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں برونائی، انڈونیشیا، قازقستان، ملائیشیا، پاکستان، سعودی عرب، تیونس، ترکیہ اور قطر کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1184366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ دستاویز میں اے آئی کی تعلیم، تحقیق، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے لیے تیار ماحولیاتی نظام، ٹیلنٹ کی نقل و حرکت، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس، اور بہترین طریقوں کے تبادلے کے لیے پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں اے آئی اسٹارٹ اَپس، فیلو شپس، تربیتی پروگراموں اور اختراعی فورمز میں سرمایہ کاری کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مشترکہ چیلنجز جیسے کہ صحت کی دیکھ بھال، موسمیاتی تبدیلی، خوراک کے تحفظ اور پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر محمد اقبال چوہدری نے کامسٹیک کے چار رکنی وفد کی قیادت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق انہوں نے مسلم دنیا کے اندر سائنس، اقتصادی ترقی اور تعلیم کے مستقبل کی تشکیل میں اے آئی کے انقلاب پذیر کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے او آئی سی فریم ورک کے تحت ادارہ جاتی تعاون اور مشترکہ اقدامات کے لیے کامسٹیک کی مکمل حمایت کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے منگل کے روز تہران اعلامیہ کو منظور کیا جس میں رکن ممالک کے درمیان پائیدار ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت میں تعاون کی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1912245/oic-nations-adopt-pact-for-ai-cooperation-in-tehran"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق تہران میں او آئی سی 15 ڈائیلاگ پلیٹ فارم کے دوسرے وزارتی اجلاس کے اختتام کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں اس مقصد کو ’پائیدار ترقی کے لیے قابل اعتماد اور اخلاقی مصنوعی ذہانت‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔</p>
<p>اجلاس میں برونائی، انڈونیشیا، قازقستان، ملائیشیا، پاکستان، سعودی عرب، تیونس، ترکیہ اور قطر کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1184366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مشترکہ دستاویز میں اے آئی کی تعلیم، تحقیق، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے لیے تیار ماحولیاتی نظام، ٹیلنٹ کی نقل و حرکت، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس، اور بہترین طریقوں کے تبادلے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p>اعلامیہ میں اے آئی اسٹارٹ اَپس، فیلو شپس، تربیتی پروگراموں اور اختراعی فورمز میں سرمایہ کاری کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مشترکہ چیلنجز جیسے کہ صحت کی دیکھ بھال، موسمیاتی تبدیلی، خوراک کے تحفظ اور پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔</p>
<p>او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر محمد اقبال چوہدری نے کامسٹیک کے چار رکنی وفد کی قیادت کی۔</p>
<p>بیان کے مطابق انہوں نے مسلم دنیا کے اندر سائنس، اقتصادی ترقی اور تعلیم کے مستقبل کی تشکیل میں اے آئی کے انقلاب پذیر کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے او آئی سی فریم ورک کے تحت ادارہ جاتی تعاون اور مشترکہ اقدامات کے لیے کامسٹیک کی مکمل حمایت کی تصدیق کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1259822</guid>
      <pubDate>Wed, 21 May 2025 10:41:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بختاور میاں)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/21100900bb1efbd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/21100900bb1efbd.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
