<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 16:32:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 16:32:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیجنگ میں سہ فریقی وزرائے خارجہ کی ملاقات، سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1259827/</link>
      <description>&lt;p&gt;نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بدھ کو چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی اور افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی جس میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو افغانستان تک توسیع دینے اور خطے میں دہشت گردی کو روکنے پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز اسحٰق ڈار 3 روزہ سرکاری دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے تھے، وہ یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی دعوت پر کر رہے ہیں، جو کہ خطے میں کشیدگی کے تناظر میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سہ فریقی فورم 2017 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کے پہلے اجلاس بیجنگ اور افغان دارالحکومت میں منعقد ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1169414"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے منگل کے روز کہا تھا کہ وہ پاکستان کی ’قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کے دفاع میں اس کا ساتھ دیتا رہے گا، یہ بیان بھارت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں ایک ہلاکت خیز حملے کے بعد چار روزہ جھڑپوں کے خاتمے پر جنگ بندی کے بعد سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحٰق ڈار، چینی کمیونسٹ پارٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی، اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے آج بیجنگ میں ایک غیر رسمی سہ فریقی ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1925075034206273845/photo/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ’انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرنے اور سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ تینوں وزرائے خارجہ نے علاقائی سلامتی اور معاشی روابط کو فروغ دینے کے لیے سہ فریقی تعاون کو ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر تسلیم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ چھٹی سہ فریقی وزرائے خارجہ کی ملاقات کابل میں ابتدائی اور باہمی طور پر موزوں تاریخ پر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے سفارتی روابط بڑھانے، مواصلات کو مضبوط بنانے، تجارت، بنیادی ڈھانچے اور ترقی کو مشترکہ خوشحالی کے اہم عوامل کے طور پر فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہ فریقی وزرائے خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف عزم، اور خطے میں استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مہینے کے شروع میں افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اطالبان کی افغان حکومت پاکستان اور چین کے ساتھ ’باہمی احترام اور تعمیری روابط‘ کی خواہش رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان اس وقت جاری کیا گیا تھا جب پاکستان اور چین کے خصوصی نمائندوں محمد صادق اور یوئے شیاؤیونگ، نے کابل میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق 15 مئی کو بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغان قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فونک گفتگو کی تھی، جو طالبان انتظامیہ سے بھارت کی وزیر سطح کی پہلی رابطہ کاری تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بدھ کو چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی اور افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی جس میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو افغانستان تک توسیع دینے اور خطے میں دہشت گردی کو روکنے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>پیر کے روز اسحٰق ڈار 3 روزہ سرکاری دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے تھے، وہ یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی دعوت پر کر رہے ہیں، جو کہ خطے میں کشیدگی کے تناظر میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ سہ فریقی فورم 2017 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کے پہلے اجلاس بیجنگ اور افغان دارالحکومت میں منعقد ہوئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1169414"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چین نے منگل کے روز کہا تھا کہ وہ پاکستان کی ’قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کے دفاع میں اس کا ساتھ دیتا رہے گا، یہ بیان بھارت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں ایک ہلاکت خیز حملے کے بعد چار روزہ جھڑپوں کے خاتمے پر جنگ بندی کے بعد سامنے آیا۔</p>
<p>دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحٰق ڈار، چینی کمیونسٹ پارٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی، اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے آج بیجنگ میں ایک غیر رسمی سہ فریقی ملاقات کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1925075034206273845/photo/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ’انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرنے اور سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ تینوں وزرائے خارجہ نے علاقائی سلامتی اور معاشی روابط کو فروغ دینے کے لیے سہ فریقی تعاون کو ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر تسلیم کیا۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ چھٹی سہ فریقی وزرائے خارجہ کی ملاقات کابل میں ابتدائی اور باہمی طور پر موزوں تاریخ پر ہوگی۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے سفارتی روابط بڑھانے، مواصلات کو مضبوط بنانے، تجارت، بنیادی ڈھانچے اور ترقی کو مشترکہ خوشحالی کے اہم عوامل کے طور پر فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>سہ فریقی وزرائے خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف عزم، اور خطے میں استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس مہینے کے شروع میں افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اطالبان کی افغان حکومت پاکستان اور چین کے ساتھ ’باہمی احترام اور تعمیری روابط‘ کی خواہش رکھتی ہے۔</p>
<p>یہ بیان اس وقت جاری کیا گیا تھا جب پاکستان اور چین کے خصوصی نمائندوں محمد صادق اور یوئے شیاؤیونگ، نے کابل میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے ملاقات کی تھی۔</p>
<p>بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق 15 مئی کو بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغان قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فونک گفتگو کی تھی، جو طالبان انتظامیہ سے بھارت کی وزیر سطح کی پہلی رابطہ کاری تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1259827</guid>
      <pubDate>Wed, 21 May 2025 15:33:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/21124829abacc5e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/21124829abacc5e.jpg"/>
        <media:title>دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ چھٹی سہ فریقی وزرائے خارجہ ملاقات جلد کابل میں ہوگی
— فوٹو: دفتر خارجہ/ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
