<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 02:43:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 02:43:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سے نفرت، بھارت میں مٹھائی کے نام ’پاک‘ سے بدل کر ’شری‘ رکھ دیے گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260012/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی پاکستان کے نام سے نفرت کی نئی مثال سامنے آگئی، بھارتیوں نے مٹھائی کے نام ’پاک‘ سے بدل کر ’شری‘ رکھ دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویب سائٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://in.mashable.com/culture/94556/vendors-remove-pak-from-sweet-names-in-jaipur-linguist-debunks-the-absurd-logic-behind-misinformed-b"&gt;&lt;strong&gt;’مشابل‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق راجستھان کے شہر جے پور کی ایک مٹھائی کے دکان والے نے کئی سال سے بنائی جانے والی اپنی مٹھائی کے نام ’پاک‘ سے بدل کر ’شری‘ رکھ دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دکاندار کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد بعض لوگوں کی جانب سے اعتراض کیا گیا اور پھر سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بھی مٹھائی کے نام بدلے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ دکان کئی سال سے ’موتی پاک، میسور پاک، آم پاک، گوند پاک‘ کے نام سے لذیذ مٹھائی تیار کرتا آ رہا تھا لیکن اب مٹھائی کے نام بدل دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258790"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دکاندار نے بتایا کہ اب مٹھائیوں کے نام کے پیچھے ’پاک‘ کا لفظ نکال کر’شری’ کا لفظ لگایا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مذکورہ مٹھائیوں کے نام ’میسور شری، موتی شری، آم شری اور گوند شری‘ ہوچکے ہیں اور اب گراہک بھی خوش دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب مذکورہ مٹھائی والے سے سوال کیا گیا کہ ’پاک‘ کا مطلب صرف پاکستان تو نہیں ہوتا، پھر انہوں نے کیوں مٹھائی کے نام بدلے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ بس اب مٹھائیوں کے نام کے پیچھے ’شری‘ کا لفظ لگا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ طور پر مٹھائی والے نے بھارتی شہر حیدرآباد میں موجود تاریخی ’کراچی بیکری‘ پر ہندو انتہاپسندوں کے حملے کے بعد خوف سے مٹھائی کے نام بدلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ دن قبل انتہاپسندوں نے ’کراچی بیکری‘ پر حملہ کرکے مالکان سے اس کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کراچی بیکری‘ تقسیم ہند کے بعد کراچی سے ہجرت کرکے جانے والے ہندوؤں نے بنائی تھی اور اس کی برانچیں بھارت کے متعدد شہروں میں ہیں اور اس کا شمار مشہور ترین بیکریوں میں ہوتا ہے لیکن انتہاپسندوں نے اس کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی پاکستان کے نام سے نفرت کی نئی مثال سامنے آگئی، بھارتیوں نے مٹھائی کے نام ’پاک‘ سے بدل کر ’شری‘ رکھ دیے۔</p>
<p>ویب سائٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://in.mashable.com/culture/94556/vendors-remove-pak-from-sweet-names-in-jaipur-linguist-debunks-the-absurd-logic-behind-misinformed-b"><strong>’مشابل‘</strong></a> کے مطابق راجستھان کے شہر جے پور کی ایک مٹھائی کے دکان والے نے کئی سال سے بنائی جانے والی اپنی مٹھائی کے نام ’پاک‘ سے بدل کر ’شری‘ رکھ دیے۔</p>
<p>دکاندار کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد بعض لوگوں کی جانب سے اعتراض کیا گیا اور پھر سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بھی مٹھائی کے نام بدلے گئے۔</p>
<p>مذکورہ دکان کئی سال سے ’موتی پاک، میسور پاک، آم پاک، گوند پاک‘ کے نام سے لذیذ مٹھائی تیار کرتا آ رہا تھا لیکن اب مٹھائی کے نام بدل دیے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258790"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دکاندار نے بتایا کہ اب مٹھائیوں کے نام کے پیچھے ’پاک‘ کا لفظ نکال کر’شری’ کا لفظ لگایا دیا گیا ہے۔</p>
<p>اب مذکورہ مٹھائیوں کے نام ’میسور شری، موتی شری، آم شری اور گوند شری‘ ہوچکے ہیں اور اب گراہک بھی خوش دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>جب مذکورہ مٹھائی والے سے سوال کیا گیا کہ ’پاک‘ کا مطلب صرف پاکستان تو نہیں ہوتا، پھر انہوں نے کیوں مٹھائی کے نام بدلے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ بس اب مٹھائیوں کے نام کے پیچھے ’شری‘ کا لفظ لگا دیا گیا۔</p>
<p>ممکنہ طور پر مٹھائی والے نے بھارتی شہر حیدرآباد میں موجود تاریخی ’کراچی بیکری‘ پر ہندو انتہاپسندوں کے حملے کے بعد خوف سے مٹھائی کے نام بدلے۔</p>
<p>کچھ دن قبل انتہاپسندوں نے ’کراچی بیکری‘ پر حملہ کرکے مالکان سے اس کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>’کراچی بیکری‘ تقسیم ہند کے بعد کراچی سے ہجرت کرکے جانے والے ہندوؤں نے بنائی تھی اور اس کی برانچیں بھارت کے متعدد شہروں میں ہیں اور اس کا شمار مشہور ترین بیکریوں میں ہوتا ہے لیکن انتہاپسندوں نے اس کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260012</guid>
      <pubDate>Fri, 23 May 2025 15:05:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/23140451b72177a.jpg?r=140557" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/23140451b72177a.jpg?r=140557"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
