<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 30 May 2026 21:10:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 30 May 2026 21:10:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس: 300 بچوں کے ریپ کا اعتراف کرنے والے سابق سرجن کیلئے 20 سال کی سزا کی درخواست</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260054/</link>
      <description>&lt;p&gt;فرانس میں 300  بچوں کے ریپ کا اعتراف کرنے والے سابق سرجن کیلئے  پراسیکیوٹر نے عدالت سے  20 سال کی سزا  دینے کی درخواست کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سابق سرجن  جوئیل لے سکوارنیک پر فروری سے مقدمہ چل رہا ہے، اس کے خلاف  مغربی فرانس کے درجن بھر ہسپتالوں میں 299 افراد، جن میں بیشتر 15 سال سے کم عمر کے بچے شامل ہیں، کے ساتھ ریپ کے الزامات ہیں،  یہ فرانس میں بچوں کے ریپ کے سب سے بڑے  مقدمات میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوئیل لے سکوارنیک  نے مارچ میں 1989 سے  2014 کے درمیان تمام 299 متاثرین کے ساتھ جنسی زیادتی کا اعتراف کیا تھا، ان افراد سے  جنسی زیادتی اس وقت کی گئی تھی جب وہ بے ہوشی کی حالت میں تھے یا آپریشن کے بعد ہوش میں آ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراسیکیوٹر اسٹیفن کیلنبرگر نے کہا کہ لے سکوارنیک، جو بچوں سے جنسی زیادتی کے سابقہ ​​جرم میں پہلے ہی جیل میں ہے، کو شدید ریپ کے واحد الزام پر زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ملنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253305"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراسیکیوٹر اسٹیفن کیلنبرگر نے کہا کہ مدعا علیہ کو پیرول کا کوئی بھی موقع ملنے سے پہلے اپنی مدت کا کم از کم دو تہائی جیل میں گزارنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ رہائی کے بعد بھی، اسے علاج اور نگرانی کے لیے ایک مرکز میں رکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس کیس کا فیصلہ  بدھ کو متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوئیل لے سکوارنیک 2017 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک کئی دہائیوں تک پریکٹس کرتا رہا، حالانکہ اسے 2005 میں بچوں  کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصاویر رکھنے کے جرم میں سزا ہو چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوئیل لے سکوارنیک کو دسمبر 2020 میں چار بچوں، جن میں اس کی دو بھانجیاں بھی شامل تھیں، کے ساتھ ریپ اور جنسی زیادتی کے الزام میں 15 سال قید کی سزا  سنائی گئی تھی جس کے بعد  سے وہ  جیل میں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فرانس میں 300  بچوں کے ریپ کا اعتراف کرنے والے سابق سرجن کیلئے  پراسیکیوٹر نے عدالت سے  20 سال کی سزا  دینے کی درخواست کردی۔</p>
<p>عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سابق سرجن  جوئیل لے سکوارنیک پر فروری سے مقدمہ چل رہا ہے، اس کے خلاف  مغربی فرانس کے درجن بھر ہسپتالوں میں 299 افراد، جن میں بیشتر 15 سال سے کم عمر کے بچے شامل ہیں، کے ساتھ ریپ کے الزامات ہیں،  یہ فرانس میں بچوں کے ریپ کے سب سے بڑے  مقدمات میں سے ایک ہے۔</p>
<p>جوئیل لے سکوارنیک  نے مارچ میں 1989 سے  2014 کے درمیان تمام 299 متاثرین کے ساتھ جنسی زیادتی کا اعتراف کیا تھا، ان افراد سے  جنسی زیادتی اس وقت کی گئی تھی جب وہ بے ہوشی کی حالت میں تھے یا آپریشن کے بعد ہوش میں آ رہے تھے۔</p>
<p>پراسیکیوٹر اسٹیفن کیلنبرگر نے کہا کہ لے سکوارنیک، جو بچوں سے جنسی زیادتی کے سابقہ ​​جرم میں پہلے ہی جیل میں ہے، کو شدید ریپ کے واحد الزام پر زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ملنی چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253305"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پراسیکیوٹر اسٹیفن کیلنبرگر نے کہا کہ مدعا علیہ کو پیرول کا کوئی بھی موقع ملنے سے پہلے اپنی مدت کا کم از کم دو تہائی جیل میں گزارنا چاہیے۔</p>
<p>پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ رہائی کے بعد بھی، اسے علاج اور نگرانی کے لیے ایک مرکز میں رکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>واضح رہے کہ اس کیس کا فیصلہ  بدھ کو متوقع ہے۔</p>
<p>جوئیل لے سکوارنیک 2017 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک کئی دہائیوں تک پریکٹس کرتا رہا، حالانکہ اسے 2005 میں بچوں  کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصاویر رکھنے کے جرم میں سزا ہو چکی تھی۔</p>
<p>جوئیل لے سکوارنیک کو دسمبر 2020 میں چار بچوں، جن میں اس کی دو بھانجیاں بھی شامل تھیں، کے ساتھ ریپ اور جنسی زیادتی کے الزام میں 15 سال قید کی سزا  سنائی گئی تھی جس کے بعد  سے وہ  جیل میں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260054</guid>
      <pubDate>Fri, 23 May 2025 22:49:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/232237073e96df2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/232237073e96df2.jpg"/>
        <media:title>وینز کی عدالت ، جہاں سابق سرجن جوئیل لے سکوارنیک کے خلاف مقدمہ زیرسماعت ہے ( فوٹو: رائٹرز )
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
