<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 19:30:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 19:30:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ 2.1 کروڑ ڈالر کا دفاعی معاہدہ منسوخ کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260131/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومتِ بنگلہ دیش نے گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ (جی آر ایس ای)، جو کہ بھارتی وزارتِ دفاع کے ماتحت ایک عوامی شعبے کا ادارہ ہے اور جدید سمندری ٹگ تیار کرتا ہے، کو دیا گیا 2.1 کروڑ ڈالر کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1913137/bangladesh-cancels-21m-defence-deal-with-india"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ منسوخی اُس حالیہ بھارتی فیصلے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت بھارت نے بنگلہ دیش کو اپنی اشیا تیسرے ممالک کو برآمد کرنے کے لیے فراہم کردہ ٹرانس شپمنٹ کی سہولت واپس لے لی ہے، یہ ایک ایسا اقدام جسے ماہرین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل اسٹاک ایکسچینج آف انڈیا لمیٹڈ اور بی ایس ای لمیٹڈ کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی) کے ضوابط 2015 کے تحت جمع کردہ ایک ریگولیٹری انکشاف میں جی آر ایس ای نے تصدیق کی ہے کہ حکومتِ بنگلہ دیش نے وہ آرڈر منسوخ کر دیا ہے، جو اصل میں جولائی 2024 میں دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منسوخی اُن کئی جغرافیائی سیاسی پیش رفتوں میں ایک اور اضافہ ہے، جو اگست 2024 میں وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں سیاسی قیادت کی تبدیلی کے بعد سے سامنے آ رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں خاصا تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں، جی آر ایس ای نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ بھارتی بحریہ کے لیے نیکسٹ جنریشن کارویٹس (این جی سی) کی تعمیر کے لیے سب سے کم بولی لگانے والا ادارہ بن کر سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومتِ بنگلہ دیش نے گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ (جی آر ایس ای)، جو کہ بھارتی وزارتِ دفاع کے ماتحت ایک عوامی شعبے کا ادارہ ہے اور جدید سمندری ٹگ تیار کرتا ہے، کو دیا گیا 2.1 کروڑ ڈالر کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1913137/bangladesh-cancels-21m-defence-deal-with-india"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ منسوخی اُس حالیہ بھارتی فیصلے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت بھارت نے بنگلہ دیش کو اپنی اشیا تیسرے ممالک کو برآمد کرنے کے لیے فراہم کردہ ٹرانس شپمنٹ کی سہولت واپس لے لی ہے، یہ ایک ایسا اقدام جسے ماہرین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نیشنل اسٹاک ایکسچینج آف انڈیا لمیٹڈ اور بی ایس ای لمیٹڈ کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی) کے ضوابط 2015 کے تحت جمع کردہ ایک ریگولیٹری انکشاف میں جی آر ایس ای نے تصدیق کی ہے کہ حکومتِ بنگلہ دیش نے وہ آرڈر منسوخ کر دیا ہے، جو اصل میں جولائی 2024 میں دیا گیا تھا۔</p>
<p>یہ منسوخی اُن کئی جغرافیائی سیاسی پیش رفتوں میں ایک اور اضافہ ہے، جو اگست 2024 میں وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں سیاسی قیادت کی تبدیلی کے بعد سے سامنے آ رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں خاصا تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔</p>
<p>ایک بیان میں، جی آر ایس ای نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ بھارتی بحریہ کے لیے نیکسٹ جنریشن کارویٹس (این جی سی) کی تعمیر کے لیے سب سے کم بولی لگانے والا ادارہ بن کر سامنے آیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260131</guid>
      <pubDate>Sun, 25 May 2025 09:36:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/250935093f24718.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/250935093f24718.png"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
