<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 13:37:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 13:37:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا غزہ کی تعمیر نو کیلئے او آئی سی کے مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260154/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عربوں کے مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کی ’&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1913138/pakistan-wants-oic-backed-gaza-plan-operational"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;‘ کے مطابق نیویارک میں جون میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں منعقدہ سفیروں کے ایک اجلاس میں پاکستان نے اس تنازع کی بنیادی وجہ یعنی اسرائیل کے طویل قبضے کو ختم کرنے پر زور دیا، آئندہ ماہ ہونے والے اجلاس کا مقصد اسرائیل-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے عالمی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور سفیر عاصم افتخار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’صرف قبضے کے خاتمے سے ہی ایک منصفانہ اور پائیدار امن ممکن ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/igqMVcbefow?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس بروقت بھی ہے اور ناگزیر بھی، عاصم افتخار نے  فلسطینی عوام کی مسلسل تکالیف، غزہ میں جاری انسانی المیے اور قابض طاقت کی جانب سے غیر قانونی بستیوں اور یکطرفہ اقدامات کے ذریعے دو ریاستی حل کو منظم انداز میں سبوتاژ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  کہ ان سب اقدامات کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری مضبوط ردعمل دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کانفرنس اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں 17 سے 20 جون تک منعقد ہوگی، یہ کانفرنس دسمبر 2024 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی ایک قرارداد کے تحت منعقد کی جا رہی ہے اور اس کی مشترکہ صدارت سعودی عرب اور فرانس کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260133"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جون کی اس کانفرنس سے قبل ضروری ہے کہ غزہ میں جنگ بندی بحال اور مکمل طور پر نافذ کی جائے، ناکہ بندی ختم کی جائے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی ، بشمول اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین (انروا) کے ذریعے، کو یقینی بنایا جائے  اور عام شہریوں اور امدادی کارکنوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی، زمینوں کے انضمام، یا عسکری امدادی نظام مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کو قطعی طور پر مسترد کیا جانا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="طریقہ-کار-اور-عبوری-راہداری" href="#طریقہ-کار-اور-عبوری-راہداری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;طریقہ کار اور عبوری راہداری&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو محفوظ رکھنے کے لیےاس کانفرنس کو دیگر اقدامات پر بھی عمل کرنا ہوگا، انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عمل درآمد کو فروغ دینے اور اس کی نگرانی کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے، جن میں غیر قانونی بستیوں کی مذمت کی گئی ہے، فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دلانے کی کوششوں کو تقویت دی جائے، او آئی سی اور عرب گروپ کی جانب سے منظور کردہ غزہ تعمیر نو منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبے، جیسا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان ٹرانزٹ کوریڈور، سمندری بندرگاہ کی دوبارہ تعمیر، اور صنعتی زونز کا قیام، علاقائی تسلسل اور فلسطینی وحدت کے لیے نہایت اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/1926016537715945927?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1926016537715945927%7Ctwgr%5E40be8e58d7f2830f9095c9a5e0460c1a0111d5e1%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1913138"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک بار پھر فلسطینی مسئلے کے ایک منصفانہ، دیرپا اور جامع حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں، 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور القدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مندوبین سے کہا کہ یہ کانفرنس ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہونی چاہیے اور اس کے ٹھوس نتائج برآمد ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان اس کانفرنس کی مکمل حمایت کے لیے تیار ہے اور ایک قابلِ بھروسہ سیاسی افق کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے گا، جو دو ریاستی حل پر مبنی ہو، ایسا حل جو فلسطینیوں کے حقوق کو تسلیم کرے، قبضے کا خاتمہ کرے اور ایک قابلِ عمل، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے پائیدار امن کی راہ ہموار کرے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس  ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلمن یانگ نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اس نازک موقعے سے فائدہ اٹھائیں تاکہ بالآخر کوئی پیشرفت ممکن بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہم گزشتہ 19 ماہ سے غزہ میں جو ہولناک مناظر دیکھ رہے ہیں، وہ ہمیں فوری کارروائی پر مجبور کرتے ہیں تاکہ اسرائیل-فلسطین تنازع کا خاتمہ ہو, تباہ کن ہلاکتیں، بربادی اور نقل مکانی کا سلسلہ مزید جاری نہیں رہنا چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا ’یہ تنازع مستقل جنگ، نہ ختم ہونے والے قبضے یا انضمام سے حل نہیں ہو سکتا. اس کا اختتام اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیلی اور فلسطینی اپنی اپنی خودمختار، آزاد ریاستوں میں امن، سلامتی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عربوں کے مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کی ’<a href="https://www.dawn.com/news/1913138/pakistan-wants-oic-backed-gaza-plan-operational"><strong>رپورٹ</strong></a>‘ کے مطابق نیویارک میں جون میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں منعقدہ سفیروں کے ایک اجلاس میں پاکستان نے اس تنازع کی بنیادی وجہ یعنی اسرائیل کے طویل قبضے کو ختم کرنے پر زور دیا، آئندہ ماہ ہونے والے اجلاس کا مقصد اسرائیل-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے عالمی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور سفیر عاصم افتخار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’صرف قبضے کے خاتمے سے ہی ایک منصفانہ اور پائیدار امن ممکن ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/igqMVcbefow?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس بروقت بھی ہے اور ناگزیر بھی، عاصم افتخار نے  فلسطینی عوام کی مسلسل تکالیف، غزہ میں جاری انسانی المیے اور قابض طاقت کی جانب سے غیر قانونی بستیوں اور یکطرفہ اقدامات کے ذریعے دو ریاستی حل کو منظم انداز میں سبوتاژ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  کہ ان سب اقدامات کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری مضبوط ردعمل دے۔</p>
<p>یہ کانفرنس اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں 17 سے 20 جون تک منعقد ہوگی، یہ کانفرنس دسمبر 2024 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی ایک قرارداد کے تحت منعقد کی جا رہی ہے اور اس کی مشترکہ صدارت سعودی عرب اور فرانس کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260133"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جون کی اس کانفرنس سے قبل ضروری ہے کہ غزہ میں جنگ بندی بحال اور مکمل طور پر نافذ کی جائے، ناکہ بندی ختم کی جائے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی ، بشمول اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین (انروا) کے ذریعے، کو یقینی بنایا جائے  اور عام شہریوں اور امدادی کارکنوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی، زمینوں کے انضمام، یا عسکری امدادی نظام مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کو قطعی طور پر مسترد کیا جانا چاہیے‘۔</p>
<h1><a id="طریقہ-کار-اور-عبوری-راہداری" href="#طریقہ-کار-اور-عبوری-راہداری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>طریقہ کار اور عبوری راہداری</h1>
<p>انہوں نے کہا کہ  فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو محفوظ رکھنے کے لیےاس کانفرنس کو دیگر اقدامات پر بھی عمل کرنا ہوگا، انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عمل درآمد کو فروغ دینے اور اس کی نگرانی کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے، جن میں غیر قانونی بستیوں کی مذمت کی گئی ہے، فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دلانے کی کوششوں کو تقویت دی جائے، او آئی سی اور عرب گروپ کی جانب سے منظور کردہ غزہ تعمیر نو منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبے، جیسا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان ٹرانزٹ کوریڈور، سمندری بندرگاہ کی دوبارہ تعمیر، اور صنعتی زونز کا قیام، علاقائی تسلسل اور فلسطینی وحدت کے لیے نہایت اہم ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/1926016537715945927?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1926016537715945927%7Ctwgr%5E40be8e58d7f2830f9095c9a5e0460c1a0111d5e1%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1913138"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے ایک بار پھر فلسطینی مسئلے کے ایک منصفانہ، دیرپا اور جامع حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں، 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور القدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرے۔</p>
<p>انہوں نے مندوبین سے کہا کہ یہ کانفرنس ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہونی چاہیے اور اس کے ٹھوس نتائج برآمد ہونے چاہئیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان اس کانفرنس کی مکمل حمایت کے لیے تیار ہے اور ایک قابلِ بھروسہ سیاسی افق کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے گا، جو دو ریاستی حل پر مبنی ہو، ایسا حل جو فلسطینیوں کے حقوق کو تسلیم کرے، قبضے کا خاتمہ کرے اور ایک قابلِ عمل، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے پائیدار امن کی راہ ہموار کرے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس  ہو۔</p>
<p>قبل ازیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلمن یانگ نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اس نازک موقعے سے فائدہ اٹھائیں تاکہ بالآخر کوئی پیشرفت ممکن بنائی جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ہم گزشتہ 19 ماہ سے غزہ میں جو ہولناک مناظر دیکھ رہے ہیں، وہ ہمیں فوری کارروائی پر مجبور کرتے ہیں تاکہ اسرائیل-فلسطین تنازع کا خاتمہ ہو, تباہ کن ہلاکتیں، بربادی اور نقل مکانی کا سلسلہ مزید جاری نہیں رہنا چاہیے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا ’یہ تنازع مستقل جنگ، نہ ختم ہونے والے قبضے یا انضمام سے حل نہیں ہو سکتا. اس کا اختتام اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیلی اور فلسطینی اپنی اپنی خودمختار، آزاد ریاستوں میں امن، سلامتی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260154</guid>
      <pubDate>Sun, 25 May 2025 15:42:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/251534427d1ae97.png?r=154217" type="image/png" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/251534427d1ae97.png?r=154217"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: پاکستانی سفارتخانہ اقوام متحدہ، ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
