<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:42:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:42:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حماس کا غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق، اسرائیل کا انکار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260238/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک فلسطینی عہدیدار نے کہا ہے کہ حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجویز پر اتفاق کیا ہے، تاہم اسرائیلی حکام نے اس تجویز کو واشنگٹن کی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اسرائیلی حکومت اسے قبول نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسٹیو وٹکوف نے بھی اسے مسترد کر دیا کہ حماس نے غزہ میں یرغمالیوں کے معاہدے اور جنگ بندی کے لیے ان کی پیشکش کو قبول کر لیا، ان کا کہنا تھاکہ جو کچھ انہوں نے دیکھا وہ ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ ہے اور یہ ان کی پیش کردہ تجویز سے مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے قریب فلسطینی عہدیدار  نے رائٹرز کو بتایا کہ حماس کو ثالثوں کے ذریعے موصول پیشکش میں 10 یرغمالیوں کی رہائی اور 70 روزہ جنگ بندی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ اس تجویز میں 70 دن کی جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے جزوی انخلا کے بدلے میں 10 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں اسرائیل کی طرف سے متعدد فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے، جن میں سیکڑوں طویل قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260172"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اسرائیلی عہدیدار نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ذمہ دار حکومت اس طرح کے معاہدے کو قبول نہیں کر سکتی اور اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ معاہدہ اسٹیو وٹکوف کی تجویز کردہ پیش کش سے مماثلت رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے  سوشل میڈیا پر ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں کہا کہ انہیں ’بہت امید ہے‘ کہ حماس کے خلاف اسرائیل کی لڑائی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے آج پیش رفت ہوگی اور اگر آج نہیں تو کل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے فوری طور پر ویڈیو کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 18 مارچ کو اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنوری کے جنگ بندی کے معاہدے کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا تھا اور غزہ میں حملے شروع کر دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ سے مکمل طور پر انخلا کرتا ہے اور مستقل جنگ بندی پر راضی ہوتا ہے تو وہ تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے صرف عارضی جنگ بندی پر راضی ہو گا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جنگ صرف حماس کے خاتمے کے بعد ہی ختم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں  اب تک تقریباً 54 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ ساحلی پٹی کو تباہ کر دیا گیا ہے، امدادی گروپوں کے مطابق غزہ میں شدید غذائی قلت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک فلسطینی عہدیدار نے کہا ہے کہ حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجویز پر اتفاق کیا ہے، تاہم اسرائیلی حکام نے اس تجویز کو واشنگٹن کی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اسرائیلی حکومت اسے قبول نہیں کر سکتی۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسٹیو وٹکوف نے بھی اسے مسترد کر دیا کہ حماس نے غزہ میں یرغمالیوں کے معاہدے اور جنگ بندی کے لیے ان کی پیشکش کو قبول کر لیا، ان کا کہنا تھاکہ جو کچھ انہوں نے دیکھا وہ ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ ہے اور یہ ان کی پیش کردہ تجویز سے مختلف ہے۔</p>
<p>حماس کے قریب فلسطینی عہدیدار  نے رائٹرز کو بتایا کہ حماس کو ثالثوں کے ذریعے موصول پیشکش میں 10 یرغمالیوں کی رہائی اور 70 روزہ جنگ بندی شامل ہے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ اس تجویز میں 70 دن کی جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے جزوی انخلا کے بدلے میں 10 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔</p>
<p>اس میں اسرائیل کی طرف سے متعدد فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے، جن میں سیکڑوں طویل قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260172"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک اسرائیلی عہدیدار نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ذمہ دار حکومت اس طرح کے معاہدے کو قبول نہیں کر سکتی اور اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ معاہدہ اسٹیو وٹکوف کی تجویز کردہ پیش کش سے مماثلت رکھا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے  سوشل میڈیا پر ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں کہا کہ انہیں ’بہت امید ہے‘ کہ حماس کے خلاف اسرائیل کی لڑائی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے آج پیش رفت ہوگی اور اگر آج نہیں تو کل ہوگی۔</p>
<p>تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے فوری طور پر ویڈیو کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 18 مارچ کو اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنوری کے جنگ بندی کے معاہدے کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا تھا اور غزہ میں حملے شروع کر دیے تھے۔</p>
<p>حماس نے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ سے مکمل طور پر انخلا کرتا ہے اور مستقل جنگ بندی پر راضی ہوتا ہے تو وہ تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے صرف عارضی جنگ بندی پر راضی ہو گا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جنگ صرف حماس کے خاتمے کے بعد ہی ختم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں  اب تک تقریباً 54 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ ساحلی پٹی کو تباہ کر دیا گیا ہے، امدادی گروپوں کے مطابق غزہ میں شدید غذائی قلت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260238</guid>
      <pubDate>Mon, 26 May 2025 23:34:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/262331414d1dff6.jpg?r=233157" type="image/jpeg" medium="image" height="395" width="658">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/262331414d1dff6.jpg?r=233157"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
