<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 06:49:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 06:49:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حافظ آباد میں لاپتا ہونے والے 2 بچوں کی لاشیں ایک گھر سے برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260558/</link>
      <description>&lt;p&gt;پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں لاپتا ہونے کے کئی روز بعد  7 سال کے 2 بچوں کی لاشیں ایک گھر سے برآمد ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق ایک متوفی بچے کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کرایا گیا، جس میں شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ بدھ کی صبح 7 بجے وہ کام پر جا رہے تھے، جب انہیں اپنے بیٹے کے لاپتا ہونے کا علم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت کنندہ نے ایف آئی آر میں کہا کہ جب میں رات 9 یا 10 بجے کام سے واپس آیا تو مجھے اپنا بیٹا نہیں ملا، ہم ایک پڑوسی کے گھر گئے اور وہاں میرے بیٹے کا جوتا ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق جب لاپتا لڑکے کے بارے میں پوچھا گیا تو پڑوسی نے بتایا کہ اس کا پوتا بھی لاپتا ہے، شکایت کنندہ نے مزید کہا کہ انہوں نے دیگر رہائشیوں کے ہمراہ بچوں کی تلاش کی اور مساجد کے ذریعے اعلانات کیے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی صبح شکایت کنندہ کو بتایا گیا کہ لڑکوں کو تین جاننے والے اور 2 نامعلوم مشتبہ افراد کے ساتھ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ہم ایک گھر پہنچے جہاں مشتبہ افراد موجود تھے،  جب ہم نے ان سے دروازہ کھولنے کو کہا تو وہ منتشر ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر میں داخل ہونے پر شکایت کنندہ نے نوٹ کیا کہ اندر سے بدبو آ رہی تھی اور انہوں نے دیکھا کہ دونوں لڑکوں کی لاشیں ایک لوہے کے ڈبے میں موجود ہیں، ان کے جسموں پر تشدد کے نشانات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی، جس نے دفعہ 148 (ہنگامہ آرائی، مہلک ہتھیار سے لیس)، دفعہ 149 (غیر قانونی اسمبلی کا ہر رکن مشترکہ مقصد کے لیے جرم کا مرتکب)، دفعہ 302 (قتل کی سزا) اور دفعہ 356 (حملہ یا مجرمانہ طاقت) کے تحت ایف آئی آر درج کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال حافظ آباد کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رضوان نے ڈان ڈیجیٹل کو بتایا کہ بچوں کے جسموں پر تشدد اور جنسی زیادتی کے نشانات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر رضوان کا کہنا تھا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچوں کے جسموں پر تشدد کے واضح نشانات اور ان کے نازک اعضا پر زیادتی کے شواہد ظاہر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرانزک تجزیہ کے لیے نمونے اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور موت کی وجہ سے متعلق مکمل رپورٹ کل پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر سرکاری تنظیم &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sahil.org/cruel-numbers/"&gt;&lt;strong&gt;ساحل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سال &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1908682"&gt;&lt;strong&gt;2024&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں چاروں صوبوں، اسلام آباد،  آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے 3 ہزار 364 بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرل نمبرز 2024 کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://drive.google.com/file/d/1BiZQB4r46gbIYR88plzov08iuLzJ606_/view?pli=1"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ملک بھر کے 81 قومی اور علاقائی اخبارات سے جمع کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی، اس سے پتا چلتا ہے کہ سال کے دوران روزانہ 9 بچوں کے ساتھ زیادتی کی گئی، جب ہ صنفی تقسیم کے تجزیے سے پتا چلا کہ کل رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 1,791 (53 فیصد) متاثرین لڑکیاں اور 1,573 (47 فیصد) لڑکے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں لاپتا ہونے کے کئی روز بعد  7 سال کے 2 بچوں کی لاشیں ایک گھر سے برآمد ہوئیں۔</p>
<p>فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق ایک متوفی بچے کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کرایا گیا، جس میں شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ بدھ کی صبح 7 بجے وہ کام پر جا رہے تھے، جب انہیں اپنے بیٹے کے لاپتا ہونے کا علم ہوا۔</p>
<p>شکایت کنندہ نے ایف آئی آر میں کہا کہ جب میں رات 9 یا 10 بجے کام سے واپس آیا تو مجھے اپنا بیٹا نہیں ملا، ہم ایک پڑوسی کے گھر گئے اور وہاں میرے بیٹے کا جوتا ملا۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق جب لاپتا لڑکے کے بارے میں پوچھا گیا تو پڑوسی نے بتایا کہ اس کا پوتا بھی لاپتا ہے، شکایت کنندہ نے مزید کہا کہ انہوں نے دیگر رہائشیوں کے ہمراہ بچوں کی تلاش کی اور مساجد کے ذریعے اعلانات کیے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جمعرات کی صبح شکایت کنندہ کو بتایا گیا کہ لڑکوں کو تین جاننے والے اور 2 نامعلوم مشتبہ افراد کے ساتھ دیکھا گیا۔</p>
<p>شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ہم ایک گھر پہنچے جہاں مشتبہ افراد موجود تھے،  جب ہم نے ان سے دروازہ کھولنے کو کہا تو وہ منتشر ہو گئے۔</p>
<p>گھر میں داخل ہونے پر شکایت کنندہ نے نوٹ کیا کہ اندر سے بدبو آ رہی تھی اور انہوں نے دیکھا کہ دونوں لڑکوں کی لاشیں ایک لوہے کے ڈبے میں موجود ہیں، ان کے جسموں پر تشدد کے نشانات تھے۔</p>
<p>واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی، جس نے دفعہ 148 (ہنگامہ آرائی، مہلک ہتھیار سے لیس)، دفعہ 149 (غیر قانونی اسمبلی کا ہر رکن مشترکہ مقصد کے لیے جرم کا مرتکب)، دفعہ 302 (قتل کی سزا) اور دفعہ 356 (حملہ یا مجرمانہ طاقت) کے تحت ایف آئی آر درج کی۔</p>
<p>دریں اثنا، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال حافظ آباد کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رضوان نے ڈان ڈیجیٹل کو بتایا کہ بچوں کے جسموں پر تشدد اور جنسی زیادتی کے نشانات تھے۔</p>
<p>ڈاکٹر رضوان کا کہنا تھا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچوں کے جسموں پر تشدد کے واضح نشانات اور ان کے نازک اعضا پر زیادتی کے شواہد ظاہر ہوئے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرانزک تجزیہ کے لیے نمونے اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور موت کی وجہ سے متعلق مکمل رپورٹ کل پیش کی جائے گی۔</p>
<p>غیر سرکاری تنظیم <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sahil.org/cruel-numbers/"><strong>ساحل</strong></a> کے مطابق سال <a href="https://www.dawn.com/news/1908682"><strong>2024</strong></a> میں چاروں صوبوں، اسلام آباد،  آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے 3 ہزار 364 بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔</p>
<p>کرل نمبرز 2024 کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://drive.google.com/file/d/1BiZQB4r46gbIYR88plzov08iuLzJ606_/view?pli=1"><strong>رپورٹ</strong></a> ملک بھر کے 81 قومی اور علاقائی اخبارات سے جمع کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی، اس سے پتا چلتا ہے کہ سال کے دوران روزانہ 9 بچوں کے ساتھ زیادتی کی گئی، جب ہ صنفی تقسیم کے تجزیے سے پتا چلا کہ کل رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 1,791 (53 فیصد) متاثرین لڑکیاں اور 1,573 (47 فیصد) لڑکے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260558</guid>
      <pubDate>Fri, 30 May 2025 20:07:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ظہیر عباس سیال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/301917382260be4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/301917382260be4.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
