<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:38:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:38:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں گلیشیئرز کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی جامع پالیسی کا فریم ورک تیار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260672/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں گلیشیئرز کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی جامع پالیسی کا فریم ورک تیار کرلیا گیا، وزارت موسمیاتی تبدیلی نے گلیشیئرز کے تحفظ کی پالیسی فریم ورک کا ابتدائی ڈرافٹ تیار کرکے مشاورت کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پالیسی فریم ورک کے تحت گلیشیئرز کے تحفظ پر آنے والی فنڈنگ کا تخمینہ لگایا جارہا ہے، فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے بعد پالیسی کی سمری وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے ارسال کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کو دستیاب ابتدائی مسودے کے مطابق پاکستان میں گلیشیئرز گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر، دیر، سوات اور چترال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں واقع ہیں، یہ گلیشیئرز پاکستان کی پانی کی فراہمی، ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تنوع کے لیے اہم ہیں، پاکستان میں برف اور گلیشیئرز کا پگھلنا دریائے سندھ کے بہاؤ کا تقریباً نصف حصہ بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے سندھ 26 کروڑ سے زائد افراد کی زندگی، زراعت اور خوراک کی ضروریات پوری کرتا ہے، پاکستان میں گلیشیئرز کے تحفظ اور آبی وسائل کی حفاظت کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255714"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی تبدیلی، پانی، خوراک اور آفات سے بچاؤ کے شعبوں میں مضبوط اشتراک ضروری قرار دیا گیا ہے، قومی ماحولیاتی، پانی، خوراک اور آفات سے بچاؤ کی پالیسیوں کو ہم آہنگ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریم ورک میں وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر ہم آہنگی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت پر زور دیا گیا ہے، پالیسی کے تحت وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریم ورک کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور بین الشعبہ جاتی روابط سے گلیشیئرز کا تحفظ ممکن ہے، ہم آہنگ پالیسیوں سے کمزور طبقات کا تحفظ اور موسمیاتی لچک میں اضافہ ممکن قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں گلیشیئرز کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی جامع پالیسی کا فریم ورک تیار کرلیا گیا، وزارت موسمیاتی تبدیلی نے گلیشیئرز کے تحفظ کی پالیسی فریم ورک کا ابتدائی ڈرافٹ تیار کرکے مشاورت کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پالیسی فریم ورک کے تحت گلیشیئرز کے تحفظ پر آنے والی فنڈنگ کا تخمینہ لگایا جارہا ہے، فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے بعد پالیسی کی سمری وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے ارسال کی جائے گی۔</p>
<p>ڈان نیوز کو دستیاب ابتدائی مسودے کے مطابق پاکستان میں گلیشیئرز گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر، دیر، سوات اور چترال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں واقع ہیں، یہ گلیشیئرز پاکستان کی پانی کی فراہمی، ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تنوع کے لیے اہم ہیں، پاکستان میں برف اور گلیشیئرز کا پگھلنا دریائے سندھ کے بہاؤ کا تقریباً نصف حصہ بناتا ہے۔</p>
<p>دریائے سندھ 26 کروڑ سے زائد افراد کی زندگی، زراعت اور خوراک کی ضروریات پوری کرتا ہے، پاکستان میں گلیشیئرز کے تحفظ اور آبی وسائل کی حفاظت کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255714"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماحولیاتی تبدیلی، پانی، خوراک اور آفات سے بچاؤ کے شعبوں میں مضبوط اشتراک ضروری قرار دیا گیا ہے، قومی ماحولیاتی، پانی، خوراک اور آفات سے بچاؤ کی پالیسیوں کو ہم آہنگ کیا جائے۔</p>
<p>فریم ورک میں وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر ہم آہنگی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت پر زور دیا گیا ہے، پالیسی کے تحت وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>فریم ورک کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور بین الشعبہ جاتی روابط سے گلیشیئرز کا تحفظ ممکن ہے، ہم آہنگ پالیسیوں سے کمزور طبقات کا تحفظ اور موسمیاتی لچک میں اضافہ ممکن قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260672</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Jun 2025 14:55:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمید علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/0114551081206f9.jpg?r=145559" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/0114551081206f9.jpg?r=145559"/>
        <media:title>فریم ورک میں وفاقی، صوبائی سطح پر ہم آہنگی اور اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت پر زور دیا گیا ہے
—فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
