<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions - Columnist</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 16:29:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 16:29:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹبال: ’یہ کلب سیزن بارسلونا کے نوجوان کھلاڑیوں کے نام رہا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260735/</link>
      <description>&lt;p&gt;اتوار کو چیمپیئنز لیگ کے فائنل کے ساتھ ساتھ کلب فٹبال سیزن 2025ء-2024ء اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے جہاں پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) یو اے فا چیمپیئنز لیگ جیت کر ٹریبل (تین بڑی ٹرافیز) جیتنے والی پہلی فرانسیسی ٹیم بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوچ لوئس اینریکے کی محنت اور کلب کے قطری صدر ناصر الخلیفی کو صبر کا ثمر مل گیا اور پی ایس جی نے اس سیزن شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ثابت کیا کہ وہ یورپ کے بہترین کلبز میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیزن جہاں ہم نے سون ہیونگ من اور ہیری کین جیسے محنتی کھلاڑیوں کو اپنے کریئر کی پہلی ٹرافی اٹھاتے دیکھا وہیں اس سیزن ہم نے چیمپیئنز لیگ کی تاریخ کی بہترین ٹیم ریال میڈریڈ کو چیمپیئنز لیگ میں بقا کی جدوجہد کرتے بھی دیکھا لیکن اس سب کے باوجود اس سیزن کی ہائی لائٹ بارسلونا کی نوجوان ٹیم رہی جو چیمپیئنز لیگ ٹائٹل جیت کر یورپ کی فاتح تو نہ بن سکی مگر پوری دنیا کو یہ باور کروا گئی کہ فٹبال تجربے سے نہیں مہارت اور جنون سے کھیلی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Sholynationsp/status/1925810344703803722"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PSG_English/status/1928923334038667719"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی انفرادی لیگز میں انگلش پریمیئر لیگ کی فاتح لیور پول رہی، اطالوی لیگ سیری اے کی فاتح نپولی، فرانسیسی لیگ ون کی فاتح پیرس سینٹ جرمین اور جرمن بندسلیگا کی فاتح بائرن میونخ رہی لیکن ہمیشہ کی طرح فٹبال فینز کی اکثریت کی نظر ہسپانوی لیگ لالیگا کے نتیجے پر رہی جہاں ٹورنامنٹ کے آخری میچز تک ریال میڈریڈ اور بارسلونا میں پوائنٹس ٹیبل پر برتری کے لیے کانٹے دار مقابلہ جاری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات خفیہ نہیں کہ بارسلونا نے گزشتہ سیزن لالیگا میں کافی جدوجہد کی جبکہ اس کی حریف ٹیم ریال میڈریڈ اس پر واضح طور پر حاوی رہی لیکن اس بار ہانسی فلک کے آنے سے گویا بارسلونا کی کایا ہی پلٹ گئی۔ بارسلونا سیزن کی شروعات میں جیت رہی تھی لیکن تاثر یہی تھا کہ جب ریال میڈریڈ اور بارسلونا کا ’ایل کلاسیکو‘ ہوگا تب پتا چلے گا کہ بارسلونا کتنے پانی میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247872"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 اکتوبر کو لالیگا میں پہلی بار ریال میڈریڈ اور بارسلونا آمنے سامنے آئیں اور بارسلونا نے یک طرفہ مقابلے میں 0-4 سے میڈریڈ کو شکست دی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ وینیشئس جونیئر، بارسلونا کے گاوی کے 4 انگلی کے اشارے پر میچ کے دوران بولتے نظر آئے کہ پیر کو میں بیلون ڈی اور اٹھاؤں گا لیکن وہ یہ بھی نہ جیت سکے اور بیلون ڈی اور مانچسٹر سٹی کے روڈری ان کے ہاتھوں سے لے اڑے۔ ریال میڈریڈ نے تقریب کا بائیکاٹ کرکے فٹبال کی دنیا میں انتہائی منفی تاثر دیا لیکن میرے خیال میں یہی وہ وقت تھا کہ جب ریال میڈریڈ کا زوال شروع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ریال میڈریڈ کے زوال سے زیادہ یہاں ہمارا موضوع گفتگو بارسلونا کا حیرت انگیز کم بیک ہے لیکن جہاں بارسلونا کا تذکرہ ہو وہاں ریال میڈریڈ کا ذکر نہ ہونا ادھورے پن کا احساس دلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بارسلونا اور ریال میڈریڈ سیزن میں 4 بار ہائی وولٹیج ٹاکروں میں آمنے سامنے آئے۔ پہلا 27 اکتوبر کو لالیگا کا عام میچ تھا لیکن دوسرا میچ سعودی عرب کے شہر جدہ میں 13 جنوری کو کھیلا گیا ہسپانوی سپر کپ کا فائنل تھا جس میں ایک بار پھر بارسلونا نے 2-5 کے نمایاں فرق سے ریال میڈریڈ کو شکست سے دوچار کیا۔ اس میچ میں اگر بارسلونا کے گول کیپر شیزنی کو ریڈ کارڈ نہ ملتا تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ بارسلونا 5 سے زائد گولز اسکور کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں 11 مئی کو لالیگا کا دوسرا کلاسیکو متوقع تھا لیکن ہسپانوی کپ کوپا ڈیل رے کے فائنل میں بھی یہی دو ٹیمیں پہنچیں جس کے باعث ایک اور کلاسیکو میچ شائقین کو دیکھنے کو ملا۔ 27 اپریل کو کھیلے گئے اس میچ میں اسکور 2-2 سے برابر تھا اور میچ اضافی وقت میں کھیلا جارہا تھا لیکن بارسلونا کے سینٹر بیک جولز کونڈے نے سامنے آکر ایک ایسا شاندار گول اسکور کیا کہ جس نے بارسلونا کو فائنل میں جیت سے ہمکنار کیا اور ریال میڈریڈ ایک بار پھر اس سیزن ہاتھ ملتی رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SABC_Sport/status/1916267291047583879"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 سالہ لامین یمال نے کہا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے اس سیزن ریال میڈریڈ ہمیں ہرا نہیں پائے گی اور سیزن کے آخری کلاسیکو میں یہی ہوا جہاں بارسلونا نے 2-4 سے لالیگا کے فیصلہ کُن میچ میں جیت کر یہ لیگ ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس میچ میں کلین ایمباپے نے پہلے 20 منٹ میں دو گولز اسکور کرکے ریال میڈریڈ کو برتری دلوائی لیکن اس سیزن بارسلونا کے خلاف برتری حریف ٹیموں کے لیے دھوکا ثابت ہوئیں کیونکہ تقریباً ہر میچ میں بارسلونا نے شاندار کم بیک کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ہانسی فلک کی بارسلونا 3 ٹرافیز کے ساتھ ڈومیسٹک ٹریبل جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن ابھی آسمان کے آگے جہاں اور بھی ہے۔ یہ ٹیم جس کے کھلاڑیوں کی اوسط عمر ہی 23 سال ہے، اس کے پاس آنے والے سیزنز میں ایسے لاتعداد مواقع آئیں گے کہ وہ بارسلونا کو میجر لیگ ٹائٹلز جتوائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 سالہ لامین یمال اس سیزن کی شہ سرخی ہیں جنہوں نے ہر اس موقع پر گول اسکور کیا یا اسسٹ دیا کہ جب بارسلونا نے خود کو گیم میں پھنسا ہوا محسوس کیا۔ 18 سالہ کوبارسی کی ڈیفنڈنگ کے معترف تو جوڈ بیلنگہم بھی تھے جو اپنا پاس روکے جانے پر سر پکڑے نظر آئے۔ 22 سالہ پیڈری کو اس وقت دنیا کا بہترین مڈفیلڈر قرار دیا جارہا ہے جن کی شاندار ڈریبلنگ کے ثابت کیا کہ اگر پیڈری پورے سیزن انجرڈ نہ ہوں تو ان سے بہترین مڈفیلڈر کوئی نہیں۔ 21 سالہ گاوی ہوں یا 22 سالہ فرمین لوپیز، 25 سالہ فیرین ٹورس ہوں یا 22 سالہ انسو فاتی، بارسلونا کے پاس ہانسی فلک کی قیادت میں آگے ایسے بے شمار مواقع آئیں گے جن میں شائقین کو توقع ہے کہ وہ اسی سیزن کی طرح کھیل کر انہیں اپنے خوبصورت کھیل کا گرویدہ بنائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BarcaUniversal/status/1929524887409901733"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ہسپانوی کھلاڑیوں کی مہارت نے دنیائے فٹبال کو آئندہ سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں اسپین کی ٹیم کو فیوریٹ بنا دیا ہے جہاں ان کھلاڑیوں کی پرفارمنس کا سب ہی کو انتظار رہے گا۔ جبکہ رواں ہفتے 6 جون کو اسپین اور فرانس کی ٹیمز یو اے فا نیشنز لیگ کے سیمی فائنل میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گی جو ہمیں اسپین کی قومی فٹبال ٹیم کے کھیل کی ایک اور جھلک پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلب فٹبال کی جانب واپس آئیں تو چیمپیئنز لیگ کا نیا فارمیٹ بارسلونا کے لیے انتہائی خوش آئند ثابت ہوا جہاں وہ بہترین میچز کھیل کر ٹاپ 2 ٹیموں میں شامل ہوئی اور براہ راست راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنائی۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ جو ٹیم پہلے پہنچ گئی اسے پلے آف میچز نہیں کھیلنے پڑے تو یوں ٹیموں کو ذہنی وجسمانی طور پر آرام کرنے کا موقع ملا۔ بارسلونا نے آرام کیا اور پھر فروری میں وہ ایک بار پھر چیمپیئنز لیگ میچز کے لیے تیار تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارسلونا کا انٹرمیلان کے خلاف سیمی فائنل میں 6 گول مار کر بھی چیمپئنز لیگ سے باہر ہوجانا افسوس ناک تھا۔ اس بار ٹیم کی فارم دیکھ کر گمان تھا کہ انہیں کوئی شکست نہیں دے پائے گا لیکن بارسلونا کی ہائی لائن میں خامیاں تھیں جن کی وجہ سے وہ دفاع اچھے انداز میں نہ کرسکے اور انٹر میلان گولز اسکور کرنے میں کامیاب رہی۔ جیت صرف 2 منٹ دور تھی لیکن بارسلونا نے ایک گول کھا کر اپنا کونٹینینٹل ٹریبل جیتنے کا خواب چکناچور کردیا۔ اس بار تو ناقدین بھی معترف تھے کہ یہ سیزن بارسلونا کا ہے لیکن چیمپیئنز لیگ کے سیمی فائنل میں شکست سے 10 سال بعد ٹائٹل جیتنے کی امید ایک بار پھر اگلے سال پر ٹل چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 سالہ لامین یمال جو اس وقت دنیائے فٹبال کے سب سے بہترین کم عمر کھلاڑی ہیں، اس سیزن 18 گول اور 25 اسسٹ کے ساتھ بیلون ڈی اور کے لیے فیوریٹ ہیں جبکہ دوسری جانب پیرس سینٹ جرمین کے عثمان ڈیمبیلے ہیں جو 33 گولز 15 اسسٹ اور ٹریبل جیتنے کے بعد بیلون ڈی اور کے لیے مضبوط امیدوار بن چکے ہیں۔ اس سال کے بیلون ڈی اور کے ایک اور مضبوط امیدوار بارسلونا کے رافینہا بھی ہیں جنہوں نے 34 گولز اور 25 اسسٹ دیے۔ اس سیزن کا بیلون ڈی اور انتہائی دلچسپ ہونے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FCBTunes/status/1929184030802559001"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمپیئنز لیگ کی خواہش میں پی ایس جی سے ریال میڈریڈ آنے والے کلین ایمباپے تو اس سال کوئی ٹرافی نہیں جیت پائے ہاں البتہ ان کی سابقہ ٹیم اس سال کلب فٹبال کا سب سے بڑا مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔ وہ لالیگا کے تو ٹاپ اسکورر ہیں لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ جب تک ٹیم کوئی ٹائٹل نہ جیتے تب تک انفرادی ایوارڈز کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو کلب سیزن کا باقاعدہ اختتام ہوچکا ہے۔ اس سیزن جہاں رونالڈو نے سعودی النصر کلب چھوڑنے کا اعلان کیا وہیں لوکا موڈرچ نے ریال میڈریڈ کو خیرباد کہا۔ اس کا ملال ریال میڈریڈ شائقین کو ہے کہ انہوں نے 13 سال ٹیم سے وابستہ رہنے والے ہر دل عزیز موڈرچ کو ٹرافی کے بغیر رخصت کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WolfRMFC/status/1926317458027114627"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی ان کے کوچ اینچولیٹی کو بھی کلب کوچنگ سے دستبرادر ہونا پڑا اور اب وہ برازیل کی قومی ٹیم کی کوچنگ کریں گے جبکہ ریال میڈریڈ کی کوچنگ کی کمان سابق ہسپانوی اور ریال میڈریڈ کے فٹبالر چابی آلونسو نے سنبھال لی ہے۔ ان کی لائی جانے والی تبدیلیاں کیا ہوں گی، اس کا اندازہ اب ہمیں اگلے کلب سیزن میں ہوگا۔ یوں دیکھا جائے تو اس سیزن بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں جس نے فٹبال کے نقشے کو یکسر نیا رخ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سیزن خوابوں کو سچ کر دکھانے کا سال تھا پھر چاہے وہ ٹوٹنہم کا یوروپا لیگ جیتنا ہو، پی ایس جی کا پہلی بار چیمپیئنز لیگ جیتنا یا کرسٹل پیلیس کا ایف اے کپ جیتنا ہو۔ اس سیزن مجموعی طور پر فٹبال کی جیت ہوئی جس نے شائقین کو وہ تمام احساسات و جذبات کا تجربہ کرنے کا موقع دیا جو بہت طویل عرصے سے چند ٹیموں کی جیت دیکھ دیکھ کر سمجھ رہے تھے کہ فٹبال اپنا ’چارم‘ کھو چکا ہے۔ اس سیزن نے ان تمام خیالات کو غلط ثابت کیا اور بتایا کہ یہ کھیل سرپرائزز کا نام ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اتوار کو چیمپیئنز لیگ کے فائنل کے ساتھ ساتھ کلب فٹبال سیزن 2025ء-2024ء اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے جہاں پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) یو اے فا چیمپیئنز لیگ جیت کر ٹریبل (تین بڑی ٹرافیز) جیتنے والی پہلی فرانسیسی ٹیم بن چکی ہے۔</p>
<p>کوچ لوئس اینریکے کی محنت اور کلب کے قطری صدر ناصر الخلیفی کو صبر کا ثمر مل گیا اور پی ایس جی نے اس سیزن شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ثابت کیا کہ وہ یورپ کے بہترین کلبز میں سے ایک ہے۔</p>
<p>اس سیزن جہاں ہم نے سون ہیونگ من اور ہیری کین جیسے محنتی کھلاڑیوں کو اپنے کریئر کی پہلی ٹرافی اٹھاتے دیکھا وہیں اس سیزن ہم نے چیمپیئنز لیگ کی تاریخ کی بہترین ٹیم ریال میڈریڈ کو چیمپیئنز لیگ میں بقا کی جدوجہد کرتے بھی دیکھا لیکن اس سب کے باوجود اس سیزن کی ہائی لائٹ بارسلونا کی نوجوان ٹیم رہی جو چیمپیئنز لیگ ٹائٹل جیت کر یورپ کی فاتح تو نہ بن سکی مگر پوری دنیا کو یہ باور کروا گئی کہ فٹبال تجربے سے نہیں مہارت اور جنون سے کھیلی جاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Sholynationsp/status/1925810344703803722"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PSG_English/status/1928923334038667719"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بڑی انفرادی لیگز میں انگلش پریمیئر لیگ کی فاتح لیور پول رہی، اطالوی لیگ سیری اے کی فاتح نپولی، فرانسیسی لیگ ون کی فاتح پیرس سینٹ جرمین اور جرمن بندسلیگا کی فاتح بائرن میونخ رہی لیکن ہمیشہ کی طرح فٹبال فینز کی اکثریت کی نظر ہسپانوی لیگ لالیگا کے نتیجے پر رہی جہاں ٹورنامنٹ کے آخری میچز تک ریال میڈریڈ اور بارسلونا میں پوائنٹس ٹیبل پر برتری کے لیے کانٹے دار مقابلہ جاری تھا۔</p>
<p>یہ بات خفیہ نہیں کہ بارسلونا نے گزشتہ سیزن لالیگا میں کافی جدوجہد کی جبکہ اس کی حریف ٹیم ریال میڈریڈ اس پر واضح طور پر حاوی رہی لیکن اس بار ہانسی فلک کے آنے سے گویا بارسلونا کی کایا ہی پلٹ گئی۔ بارسلونا سیزن کی شروعات میں جیت رہی تھی لیکن تاثر یہی تھا کہ جب ریال میڈریڈ اور بارسلونا کا ’ایل کلاسیکو‘ ہوگا تب پتا چلے گا کہ بارسلونا کتنے پانی میں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247872"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>24 اکتوبر کو لالیگا میں پہلی بار ریال میڈریڈ اور بارسلونا آمنے سامنے آئیں اور بارسلونا نے یک طرفہ مقابلے میں 0-4 سے میڈریڈ کو شکست دی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ وینیشئس جونیئر، بارسلونا کے گاوی کے 4 انگلی کے اشارے پر میچ کے دوران بولتے نظر آئے کہ پیر کو میں بیلون ڈی اور اٹھاؤں گا لیکن وہ یہ بھی نہ جیت سکے اور بیلون ڈی اور مانچسٹر سٹی کے روڈری ان کے ہاتھوں سے لے اڑے۔ ریال میڈریڈ نے تقریب کا بائیکاٹ کرکے فٹبال کی دنیا میں انتہائی منفی تاثر دیا لیکن میرے خیال میں یہی وہ وقت تھا کہ جب ریال میڈریڈ کا زوال شروع ہوا۔</p>
<p>تاہم ریال میڈریڈ کے زوال سے زیادہ یہاں ہمارا موضوع گفتگو بارسلونا کا حیرت انگیز کم بیک ہے لیکن جہاں بارسلونا کا تذکرہ ہو وہاں ریال میڈریڈ کا ذکر نہ ہونا ادھورے پن کا احساس دلاتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ بارسلونا اور ریال میڈریڈ سیزن میں 4 بار ہائی وولٹیج ٹاکروں میں آمنے سامنے آئے۔ پہلا 27 اکتوبر کو لالیگا کا عام میچ تھا لیکن دوسرا میچ سعودی عرب کے شہر جدہ میں 13 جنوری کو کھیلا گیا ہسپانوی سپر کپ کا فائنل تھا جس میں ایک بار پھر بارسلونا نے 2-5 کے نمایاں فرق سے ریال میڈریڈ کو شکست سے دوچار کیا۔ اس میچ میں اگر بارسلونا کے گول کیپر شیزنی کو ریڈ کارڈ نہ ملتا تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ بارسلونا 5 سے زائد گولز اسکور کرتی۔</p>
<p>بعدازاں 11 مئی کو لالیگا کا دوسرا کلاسیکو متوقع تھا لیکن ہسپانوی کپ کوپا ڈیل رے کے فائنل میں بھی یہی دو ٹیمیں پہنچیں جس کے باعث ایک اور کلاسیکو میچ شائقین کو دیکھنے کو ملا۔ 27 اپریل کو کھیلے گئے اس میچ میں اسکور 2-2 سے برابر تھا اور میچ اضافی وقت میں کھیلا جارہا تھا لیکن بارسلونا کے سینٹر بیک جولز کونڈے نے سامنے آکر ایک ایسا شاندار گول اسکور کیا کہ جس نے بارسلونا کو فائنل میں جیت سے ہمکنار کیا اور ریال میڈریڈ ایک بار پھر اس سیزن ہاتھ ملتی رہ گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SABC_Sport/status/1916267291047583879"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>17 سالہ لامین یمال نے کہا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے اس سیزن ریال میڈریڈ ہمیں ہرا نہیں پائے گی اور سیزن کے آخری کلاسیکو میں یہی ہوا جہاں بارسلونا نے 2-4 سے لالیگا کے فیصلہ کُن میچ میں جیت کر یہ لیگ ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اس میچ میں کلین ایمباپے نے پہلے 20 منٹ میں دو گولز اسکور کرکے ریال میڈریڈ کو برتری دلوائی لیکن اس سیزن بارسلونا کے خلاف برتری حریف ٹیموں کے لیے دھوکا ثابت ہوئیں کیونکہ تقریباً ہر میچ میں بارسلونا نے شاندار کم بیک کیا۔</p>
<p>یوں ہانسی فلک کی بارسلونا 3 ٹرافیز کے ساتھ ڈومیسٹک ٹریبل جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن ابھی آسمان کے آگے جہاں اور بھی ہے۔ یہ ٹیم جس کے کھلاڑیوں کی اوسط عمر ہی 23 سال ہے، اس کے پاس آنے والے سیزنز میں ایسے لاتعداد مواقع آئیں گے کہ وہ بارسلونا کو میجر لیگ ٹائٹلز جتوائیں۔</p>
<p>17 سالہ لامین یمال اس سیزن کی شہ سرخی ہیں جنہوں نے ہر اس موقع پر گول اسکور کیا یا اسسٹ دیا کہ جب بارسلونا نے خود کو گیم میں پھنسا ہوا محسوس کیا۔ 18 سالہ کوبارسی کی ڈیفنڈنگ کے معترف تو جوڈ بیلنگہم بھی تھے جو اپنا پاس روکے جانے پر سر پکڑے نظر آئے۔ 22 سالہ پیڈری کو اس وقت دنیا کا بہترین مڈفیلڈر قرار دیا جارہا ہے جن کی شاندار ڈریبلنگ کے ثابت کیا کہ اگر پیڈری پورے سیزن انجرڈ نہ ہوں تو ان سے بہترین مڈفیلڈر کوئی نہیں۔ 21 سالہ گاوی ہوں یا 22 سالہ فرمین لوپیز، 25 سالہ فیرین ٹورس ہوں یا 22 سالہ انسو فاتی، بارسلونا کے پاس ہانسی فلک کی قیادت میں آگے ایسے بے شمار مواقع آئیں گے جن میں شائقین کو توقع ہے کہ وہ اسی سیزن کی طرح کھیل کر انہیں اپنے خوبصورت کھیل کا گرویدہ بنائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BarcaUniversal/status/1929524887409901733"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ان ہسپانوی کھلاڑیوں کی مہارت نے دنیائے فٹبال کو آئندہ سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں اسپین کی ٹیم کو فیوریٹ بنا دیا ہے جہاں ان کھلاڑیوں کی پرفارمنس کا سب ہی کو انتظار رہے گا۔ جبکہ رواں ہفتے 6 جون کو اسپین اور فرانس کی ٹیمز یو اے فا نیشنز لیگ کے سیمی فائنل میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گی جو ہمیں اسپین کی قومی فٹبال ٹیم کے کھیل کی ایک اور جھلک پیش کرے گا۔</p>
<p>کلب فٹبال کی جانب واپس آئیں تو چیمپیئنز لیگ کا نیا فارمیٹ بارسلونا کے لیے انتہائی خوش آئند ثابت ہوا جہاں وہ بہترین میچز کھیل کر ٹاپ 2 ٹیموں میں شامل ہوئی اور براہ راست راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنائی۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ جو ٹیم پہلے پہنچ گئی اسے پلے آف میچز نہیں کھیلنے پڑے تو یوں ٹیموں کو ذہنی وجسمانی طور پر آرام کرنے کا موقع ملا۔ بارسلونا نے آرام کیا اور پھر فروری میں وہ ایک بار پھر چیمپیئنز لیگ میچز کے لیے تیار تھی۔</p>
<p>بارسلونا کا انٹرمیلان کے خلاف سیمی فائنل میں 6 گول مار کر بھی چیمپئنز لیگ سے باہر ہوجانا افسوس ناک تھا۔ اس بار ٹیم کی فارم دیکھ کر گمان تھا کہ انہیں کوئی شکست نہیں دے پائے گا لیکن بارسلونا کی ہائی لائن میں خامیاں تھیں جن کی وجہ سے وہ دفاع اچھے انداز میں نہ کرسکے اور انٹر میلان گولز اسکور کرنے میں کامیاب رہی۔ جیت صرف 2 منٹ دور تھی لیکن بارسلونا نے ایک گول کھا کر اپنا کونٹینینٹل ٹریبل جیتنے کا خواب چکناچور کردیا۔ اس بار تو ناقدین بھی معترف تھے کہ یہ سیزن بارسلونا کا ہے لیکن چیمپیئنز لیگ کے سیمی فائنل میں شکست سے 10 سال بعد ٹائٹل جیتنے کی امید ایک بار پھر اگلے سال پر ٹل چکی ہے۔</p>
<p>17 سالہ لامین یمال جو اس وقت دنیائے فٹبال کے سب سے بہترین کم عمر کھلاڑی ہیں، اس سیزن 18 گول اور 25 اسسٹ کے ساتھ بیلون ڈی اور کے لیے فیوریٹ ہیں جبکہ دوسری جانب پیرس سینٹ جرمین کے عثمان ڈیمبیلے ہیں جو 33 گولز 15 اسسٹ اور ٹریبل جیتنے کے بعد بیلون ڈی اور کے لیے مضبوط امیدوار بن چکے ہیں۔ اس سال کے بیلون ڈی اور کے ایک اور مضبوط امیدوار بارسلونا کے رافینہا بھی ہیں جنہوں نے 34 گولز اور 25 اسسٹ دیے۔ اس سیزن کا بیلون ڈی اور انتہائی دلچسپ ہونے والا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FCBTunes/status/1929184030802559001"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>چیمپیئنز لیگ کی خواہش میں پی ایس جی سے ریال میڈریڈ آنے والے کلین ایمباپے تو اس سال کوئی ٹرافی نہیں جیت پائے ہاں البتہ ان کی سابقہ ٹیم اس سال کلب فٹبال کا سب سے بڑا مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔ وہ لالیگا کے تو ٹاپ اسکورر ہیں لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ جب تک ٹیم کوئی ٹائٹل نہ جیتے تب تک انفرادی ایوارڈز کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔</p>
<p>اتوار کو کلب سیزن کا باقاعدہ اختتام ہوچکا ہے۔ اس سیزن جہاں رونالڈو نے سعودی النصر کلب چھوڑنے کا اعلان کیا وہیں لوکا موڈرچ نے ریال میڈریڈ کو خیرباد کہا۔ اس کا ملال ریال میڈریڈ شائقین کو ہے کہ انہوں نے 13 سال ٹیم سے وابستہ رہنے والے ہر دل عزیز موڈرچ کو ٹرافی کے بغیر رخصت کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WolfRMFC/status/1926317458027114627"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ساتھ ہی ان کے کوچ اینچولیٹی کو بھی کلب کوچنگ سے دستبرادر ہونا پڑا اور اب وہ برازیل کی قومی ٹیم کی کوچنگ کریں گے جبکہ ریال میڈریڈ کی کوچنگ کی کمان سابق ہسپانوی اور ریال میڈریڈ کے فٹبالر چابی آلونسو نے سنبھال لی ہے۔ ان کی لائی جانے والی تبدیلیاں کیا ہوں گی، اس کا اندازہ اب ہمیں اگلے کلب سیزن میں ہوگا۔ یوں دیکھا جائے تو اس سیزن بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں جس نے فٹبال کے نقشے کو یکسر نیا رخ دیا ہے۔</p>
<p>یہ سیزن خوابوں کو سچ کر دکھانے کا سال تھا پھر چاہے وہ ٹوٹنہم کا یوروپا لیگ جیتنا ہو، پی ایس جی کا پہلی بار چیمپیئنز لیگ جیتنا یا کرسٹل پیلیس کا ایف اے کپ جیتنا ہو۔ اس سیزن مجموعی طور پر فٹبال کی جیت ہوئی جس نے شائقین کو وہ تمام احساسات و جذبات کا تجربہ کرنے کا موقع دیا جو بہت طویل عرصے سے چند ٹیموں کی جیت دیکھ دیکھ کر سمجھ رہے تھے کہ فٹبال اپنا ’چارم‘ کھو چکا ہے۔ اس سیزن نے ان تمام خیالات کو غلط ثابت کیا اور بتایا کہ یہ کھیل سرپرائزز کا نام ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260735</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Jun 2025 10:05:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خولہ اعجاز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/03144021f9ad007.gif?r=144048" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/03144021f9ad007.gif?r=144048"/>
        <media:title>—تصاویر: بارسلونا/ فیس بُک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
